امریکی انتخابی نتائج پر چھائی دھند
06 نومبر 2020 (10:25) 2020-11-06

آخری ووٹ کی گنتی تک دم سادھے رکھیں۔ اور جو فیصلہ کن ووٹ گننے ہیں وہ الیکٹورل کالج کے ووٹ ہیں۔ چونکہ ابھی تک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں صدر کی دوڑ میں کوئی واضح فاتح نہیں ہے اور مکمل نتائج سامنے آنے میں کئی دن اور بھی لگ سکتے ہیں۔ انتخابات کا ٹرن آؤٹ تاریخی طور پر 1908 کے بعد سب سے بڑا ہے۔ یہ 1960 کے بعد ہونے والا سخت اور قریب ترین مقابلہ بھی ہے۔ یہ 2000 کے انتخابات میں فلوریڈا کی ریاست کے حوالے سے انتخاب کا حتمی فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہونے کے واقعے کی بازگشت بھی سنا رہا ہے۔ اب بھی معاملہ سپریم کورٹ تک جاتا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے براہ راست نشریات میں جیت کا دعویٰ کیا اور دنیا بھر کی نظریں اس انتخابی معرکے پر لگی ہوئی ہیں، نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے راستے میں ابھی بہت سی کٹھنائیاں ہیں، ریاستوں کے امتزاج اور ان کے الیکٹورل کالج ووٹ جو نتائج کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پچھلی بار، ہلیری کلنٹن نے عوام کے لاکھوں ووٹ زیادہ حاصل کئے تاہم ٹرمپ 39 الیکٹورل ووٹوں سے صدر منتخب ہو گئے۔ موجودہ انتخابات میں بھی مقابلہ اسی قدر قریب قریب ہے کہ الیکٹورل کالج ووٹ ہی وائٹ ہاؤس کا دروازہ کھول سکتا ہے جس میں پنسلوانیہ، وسکونسن اور مشی گن اہم کردار ادا کریں گے۔ 83 فیصد مقبول ووٹوں کی گنتی کے ساتھ، بائیڈن 1.4 فیصد پوائنٹس سے آگے ہیں۔ اگر ڈیموکریٹک کے پاس کوئی پلان اے ہوتا تو بائیڈن فلوریڈا یا کم سے کم جارجیا، اریزونا اور شمالی کیرولائنا میں کامیابی حاصل کرتے، ایسا نہیں ہوا۔ اریزونا یقینا اب 

بائیڈن کے ہاتھ ہے لیکن فلوریڈا وہ ناکام رہے۔ 2000ء میں گور کے مقابلے میں بش جونیئر قریب ترین تھے جبکہ ٹرمپ نے اسے جیت لیا ہے۔ اس کے بجائے ڈیموکریٹک نے پلان بی کے ذریعے ہمیشہ جھیل میں اترنے کے بجائے آس پاس کے جوہڑوں پر توجہ دی۔ بائیڈن کے لئے جو سکینٹن میں بڑے ہوئے، پنسلوانیا میں ان لوگوں کی حمایت حاصل رہی جو ٹوٹی پھوٹی، پسماندہ اور غریب یا اوسط درجے کے شہریوں کی ریاستیں تھیں اور ہیں۔ اگر صرف مقبول ووٹوں کی گنتی کی بات ہوتی تو بائیڈن کافی حد تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ امریکہ کے بانیوں نے ہی الیکٹورل کالج کا جو تصور دیا تھا وہ ابھی تک قائم ہے لیکن انہوں نے ریاستی سطح پر انتخابات کو وہ اہمیت نہیں دی یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ میں جمہوریت کا پہیہ رکاوٹوں کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ریپبلکن امیدوار گنتی کا عمل روکنا اور فیصلہ سپریم کورٹ میں لے جانا چاہتا ہے۔

عدالت میں قانونی دلائل ایک ہفتہ یا زیادہ مدت تک دینا ہوں گے، یہ جدید امریکی جمہوریت کے بارے میں بھی سوالیہ نشان ہو گا کہ سیاسی طور پر مقرر کئے گئے جج سیاسی عمل کے آخری ثالث ہیں۔ اور ہاں جواز کے بارے میں خدشات جائز بھی ہیں۔ اس سے پہلے کہ ایسا ہو، امریکیوں کی طرف سے ڈالے جانے والے تمام ووٹوں کو، جنہوں نے ذاتی طور پر خانوں کو ٹک کیا تھا یا جنہوں نے ای میل کیا ہے، ان کی گنتی ضرور کرنا ہو گی۔ ای میل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ایک جرم ہے، بھیجے گئے ووٹوں میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ ابھی ہم ایک چندھیا دینے والے علاقے میں ہیں، جہاں تاریکی اور روشنی کے مابین آپ کی آنکھیں کچھ دیکھ نہیں پاتیں اور ہاں ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ جیت گئے اعصابی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ وسکونسن میں جب گنتی جاری تھی تو، ٹرمپ کی 100,000 کی برتری 700,000 میل ووٹوں کا سامنا نہیں کر پائی۔ پنسلوانیا میں، 1.8 ملین ای میل ووٹ آئے جبکہ ٹرمپ کو 600,000 کی برتری حاصل ہے۔ مشی گن میں مزید 1.8 ملین ووٹوں کی گنتی جاری جبکہ ٹرمپ 300,000 ووٹوں سے آگے ہیں۔ جارجیا میں پھٹے ہوئے پائپ نے ووٹوں کی گنتی بند کر دی، لیک کو روکنے کے لئے انہیں رات گئے تک کوئی پلمبر نہیں مل سکا، یہاں تک کہ تمام ووٹوں کی گنتی ہو پائے، کوئی نہیں جانتا کہ نتیجہ کیا نکلے گا لیکن ایسا لگتا ہے جیسے یہ ٹرمپ کے ساتھ ہے۔ 1992 میں بل کلنٹن سے ہار کر، بش سینئر امریکہ میں آخری ایک مدت کے صدر تھے۔ ’’یہ معیشت ہے، احمق‘‘ ڈیموکریٹ کی مشہور پنچ لائن تھی جس نے ایوان نمائندگان کو متاثر کیا۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گزر گیا یہ 2020 ہے اور یہ ایک بار پھر معیشت ہی ہے جس نے ٹرمپ کے دوسری مدت کے لئے منتخب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ کورونا وائرس؟ ایگزٹ پول میں صرف 18 فیصد رائے دہندگان نے اسے اپنے ووٹ کی وجہ قرار دیا۔ معیشت؟ 34 فیصد لوگوں نے بتایا کہ یہ وجہ بنی۔ جب دھول بیٹھ جائے گی، ووٹوں کی گنتی ہو جائے گی تو سب کچھ صاف نظر آنے لگے گا، تب بھی معیشت ہی ہو گی جو امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں سب سے زیادہ اہم ہو گی۔ معاشی بہتری میں ہی سب کا فائدہ ہے، یہی اقتصادیات ہے۔ ابھی… یہ سب سیاست ہے اور ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔

(بشکریہ: گلف نیوز۔04-11-2020)


ای پیپر