بھارتی ایئر فورس پاکستانی شاہینوں سے خوفزدہ
06 نومبر 2020 (10:23) 2020-11-06

 سابق بھارتی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عطاء حسین نے پاکستان کی برتری تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ 27 فروری کے بھارتی بیانئے کو پاکستان نے جس خوبصورتی سے تباہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔

 گزشتہ برس26فروری کی صبح 54:2منٹ پر بھارت نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 2 (4)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پرحملے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ پاکستانی شاہینوں کے خوف سے ہندوستانی جنگی جہاز بوکھلاہٹ میں پے لوڈ گرا کر بھاگ گئے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا۔4 بج کر 42منٹ پر پاکستان نے ثبوتوں کے ساتھ تمام ماجرا دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ پاکستانی علاقے میں بھارتی روٹ کی نشاندہی کر دی اور کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہونے کے واضح ثبوت دکھا دیے۔ بھارت نے پہلے ایک مدرسے کو مکمل تباہ کرنے، پھر300 سے 350 پاکستانیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ پاکستان نے چند روز بعد عالمی میڈیا کو پے لوڈ گرائے گئے علاقے کا دورہ کرا کر بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔

پاکستان کے خلاف فضائی کرتب کو بھارتی وزیر اعظم نے اپنی انتخابی مہم میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور عوام کو جھوٹ بول کر ہمدردی سمیٹنا چاہی۔ مودی نے گجرات میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں جا کر حملہ کرنیوالی بھارتی فضائیہ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔مودی نے کہاکہ آپ کے ایک ووٹ کی بدولت حکومت مشکل فیصلے کرسکے گی ۔آپ کے ایک ووٹ نے 2014کے انتخابات میں بھی حکومت کو مضبوط بنایا تھا۔پوری دنیا نے آج دیکھ لیا کہ بھارت کتنا طاقتور ہے۔

اگلے دن 27 فروری کو پاکستانی شاہینوں نے 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ ابھی نندن کو ثبوت کے طور پر گرفتار کیا، اس طرح بھارتی فضائیہ پر پاکستانی شاہینوں کی برتری ثابت ہو گئی۔ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر عالمی میڈیا کے سامنے ابھی نندن کو واہگہ بارڈر پر بھارتی  حکام کے حوالے کر دیا۔

  بھارتی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عطاء حسین نے کہا کہ مودی کو رافیل طیاروں کی یاد ستاتی رہی۔ بھارتی وزیراعظم نے خود کہا رافیل طیارے ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ یوں بھارتی جھوٹے پروپیگنڈا کا بھانڈہ خود اس کی فوج کے سابق جنرل نے بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا۔ مودی کا یہ کہنا کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں نتیجہ مختلف ہوتا، صرف طفل تسلی ہے۔ کیونکہ رافیل کے بجائے کوئی سے بھی طیارے ہوتے تو نتیجہ یہی ہونا تھا جو ہوا ہے۔ کیونکہ پاک فوج کے ہتھیار وں سے زیادہ جذبے لڑتے ہیں۔ انہی جوانوں کے متعلق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا 

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن 

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

ہم تو صرف اپنی عوام کی حفاظت اپنے وطن کی حفاظت اور اپنے دین کی حفاظت کیلئے لڑتے ہیں۔ ہمیں نہ تو داد و تحسین کی ضرورت ہے اور نہ ہی نمودو نمائش کی۔ 

  بھارتی فوج جو ہر سال لاکھوں ڈالر اسلحہ کی خریداری پر خرچ کرتی ہے بڑے غرور میں رہتی ہے۔ اس چند روزہ جنگ میں کیا ہوا۔ اگر آپ کے پاس رافیل طیارے نہیں تھے تو مگ اور دوسرے طیارے تو تھے نہ ۔ اسلحہ کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ اگر کمی تھی تو صرف جذبے کی ، صلاحیت کی اور تربیت کی۔ مودی نے اپوزیشن اور عوام کا منہ بند کرنے کیلئے ان کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی اور کہا کہ سیاسی مخالفین بھارت کو کمزور کرنا بند کر دیں۔جب ہماری فوج کا مذاق اڑتاہے تو مجھے دکھ ہوتاہے۔ تو عرض ہے کہ صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بغیر تیاری آپ اپنی فوج کو جنگ میں جھونک دیتے ہیں اس وقت آپ کو اپنی فوج کی فکر نہیں ہوتی ۔ یا اس وقت آپ کو اپنی فوج کا دکھ نہیں ہوتا جب وہ آپ کی سیاست کی خاطر ڈرامے کر رہی ہوتی ہے۔ 

مودی کا کہنا تھا کہ ہمیں فضائی حملے میں شکست اس لئے ہوئی کہ ہمارے پاس رافیل نہ تھے۔ آج سارا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ رافیل بہت ضروری ہیں۔ رافیل پر پہلے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔تو مودی صاحب !جہاںتک رافیل طیاروں کا تعلق ہے تو اس کے بھارتی فضائیہ میں شامل نہ ہونے کی وجہ بھی تو آپ ہی ہیں ۔  بھارت نے فرانس سے 35 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ یہ معاہدہ 7 اعشاریہ 8 ارب یورو میں طے پایا مگر اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے رافیل ڈیل میں کمیشن کھایا ہے۔ اس ضمن میں ثبوت کے طورپر فرانس کے سابق صدر کا بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ فرانس کے سابق صدر فرانسوآ اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری کیلئے مودی سرکار نے کمیشن طلب کیا تھا۔ بھارتی حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے صرف 36 طیاروں کا سودا کیا ہے وہ بھی تین گنا زیادہ قیمت پر۔ حالانکہ ضرورت تو 126 طیاروں کی تھی۔ اگر36 طیاروں کی خریداری پر کمیشن کا یہ حال ہے تو 126 طیاروں کی خریداری پر کیا ہوگا۔ 

 مودی کا کہنا ہے کہ میرے اپنے ہی عوام ملک کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ فوج پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ اپوزیشن مجھے نیچا دکھانا چاہتی ہے۔ ہمارے ہی کچھ لوگ ہماری فوج اور سیاست کے خلاف پاکستان میڈیا پر آرٹیکل لکھ رہے ہیں، بیانات دے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے دیش کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستانی عوام فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔


ای پیپر