وائٹ ہاؤس کے نئے مکین
06 نومبر 2020 (10:19) 2020-11-06

بالآخر امریکی انتخابات کے نتائج آ گئے اور ابتدائی نتائج سے لگ رہا ہے کہ جوزف بائیڈن کے لئے وائٹ ہاؤس کے دروازے وا ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں مسلم ممالک کو بڑی دشواریوں کا سامان کرنا پڑا ہے، بالخصوص کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر ان کا جھکاؤ اسرائیل اور بھارت کی طرف تھا۔ اس لئے مسلمانوں نے جوزف بائیڈن سے بہت سی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ بظاہر خام خیالی ہی ہے کیونکہ اس سے قبل جب صدر بارک ابامہ صدر بنے تھے تو مشرق اور مغرب میں غیر ضروری طور پر سمجھ لیا گیا تھا کہ اب دنیا بھر میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ لیکن نہ ایسا ہونا تھا نہ ہوا۔ لاکھوں افراد نے بارک اوباما کو ووٹ اس امید پر دئے تھے کہ کہ وہ جارج ڈبلیو بش کی جنگجویانہ اور ہلاکت خیز پالیسیوں کو ختم کر دیں گے، لیکن انہوں نے دہشت گردی کی جنگ کو اپنا فرض سمجھ کے جاری رکھا۔ تب بھی دنیا میں انسانی ہلاکتوں کا ایک بڑا سبب غلط امریکی پالیسیوں اور رویوں کو قرار دیا گیا اور امریکی سامراجیت عالمی حالات کو قابو میں رکھنے اور اپنے مفادات کی بے رحمانہ تکمیل کے لئے ہر اقدام اور کوشش کو جائز سمجھتی رہی۔ اس کی ظالمانہ اور غیر انسانی سازشوں کا ایک عالمی جال ہے جس میں تیسری دنیا کے غریب اور مجبور ممالک کو پھانسنے کے لئے سی آئی اے کیا کیا جتن کرتی رہی ایک دنیا اب ان رازوں سے واقف ہو چکی ہے۔   

ڈونلڈ ٹرمپ جس کی کامیابی پر مسلم ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی ،ماہرین کی ان کی کامیابی پر عام رائے تھی کہ اگرا س کے مقابلے میں ڈیمو کریٹ ہیلری کلنٹن کی جگہ کسی مرد کو مقابلے میں کھڑا کرتی تو وہ جیت جاتے۔ امریکیوں کی اکثریت کسی خاتون کو اپنا صدر دیکھنا نہیں چاہتی۔ ہیلری بطور صدارتی امیدوار امریکہ میں ہی نہیں بیرونِ امریکہ بھی نہایت مضبوط امیدوار تسلیم کی جا رہی تھیں، بطور وزیرِ خارجہ ان کی کامیابیاں اور متحرک شخصیت تسلیم شدہ تھی۔ ان کے مقابلے میں ٹرمپ کو امریکہ سے باہر اتنی خاص پزیرائی حاصل نہیں تھی۔ خود امریکی ووٹر بھی بطور شخصیت ان کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں مسلم ممالک اورا سلام کے حوالے سے ان کی منفی آراء اور بیانات کی بدولت امریکہ میں مقیم مسلم تارکینِ وطن بھی ٹرمپ سے خاصے برگشتہ تھے۔ مگر ماہرینِ سیاسیات کے تمام دعوے اس وقت غلط ہوتے نظر آئے جب ٹرمپ نے اپنے بارے 

میں منفی ریمارکس اور خیالات کے باوجود ایک زبردست جارحانہ مہم چلائی۔ ہیلری کی تمام انتخابی مہم ملکی و خارجہ معاملات اور امریکی معاشرے میں ریفارمز کے حوالے سے تھی۔ انہوں نے کھل کر ٹرمپ کے خواتین اور اسلام دشمن رجحانات کو اچھالا اور عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت اور قیادت کو برقرار رکھنے کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔ لیکن اس الیکشن میں پہلی بار امریکی عوام نے لبرل پالیسیوں کی بجائے انتہا پسند سوچ کو اپنی قیادت کے لئے منتخب کیا اور اس طرح ٹرمپ کی شکل میں ایک امریکی انتہا پسند کی حکومت امریکہ اور عالمی قیادت کے سامنے گئی۔ ٹرمپ جیتا واشنگٹن میں خوشیاں نئی دہلی میں منائی گئیں، بھارت میں خوشی کے چراغ ٹرمپ کی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ازلی دشمنی کی وجہ سے جلائے گئے۔ ٹرمپ ماضی میں پاکستان کے بارے میں کھل کر اپنے نیک خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے بھارت کو استعمال کرنا چاہئے جس کے پاس اپنے قابلِ اعتماد ایٹمی ہتھیار اور بہت بڑی طاقتور فوج ہے۔ اس کے برعکس ساری دنیا ٹرمپ کی فتح کو انسانیت کے لئے بد شگونی سمجھ رہی تھی اور دنیا نے دیکھا کہ امریکیوں کا وہ فیصلہ غلط تھا ٹرمپ نے امریکہ  کی روایتی قدروں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ 

اب ایک بار پھر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے نئی قیادت سے بہت سے توقعات قائم کر لی ہیں لیکن کیا امریکی صدر اتنا بااختیار ہو گا کہ وہ خود سے فیصلے کر سکے گا اور وسائل پر قابض ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی من مانیو ں کو لگام ڈال سکے گا؟ دنیا کے کچھ حصوں میں جنگ مسلط کر کے اور خود امریکہ میں کساد بازاری اور بے روزگاری کے ذریعے گزشتہ 40 برس میں امریکا میں کارپوریشنز کے نتیجے میں دولت سمٹ کر چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مساوات کے علمبرداروں کے ہاں انسانی تاریخ کی سب سے ہول ناک اور قبیح معاشی عدم مساوات دیکھنے میں آتی ہے۔ اصل حکومت عوام کی نہیں بلکہ ملٹی بلین ڈالر کارپوریشنز کی ہے، حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، غرض ہر ہر ادارہ ان کارپوریشنز کی بقاء اور تحفظ کا ضامن ہے، انہیں انسانوں کی بجائے سرمائے کی بڑھوتری سے سروکار ہے۔ 

اس دفعہ کرسی صدارت محض کانٹوں کی سیج ہے کیونکہ امریکی معیشت کرونا کی وجہ سے اپنی تاریخ کے شدید ترین اقتصادی بحران میں گھری ہوئی ہے۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں امریکی نوجوان بے روزگار ہیں، متعدد کاروباری اداروں اور دوکانوں پر تالے پڑ گئے ہیں۔ دور افتادہ قصبوں اور دیہاتوں کو اس معاشی بحران نے کہیں کا نہیں رکھا ہے صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں امریکی معیشت میں بہت بہتری کی تھی اور روزگار میں بڑی حد تک اضافہ ہوا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے اس کی ساری محنت ضائع ہو گئی۔ کورونا نے امریکی معیشت کو ایک ایسی دلدل میں دھنسا دیا ہے جس سے بخیر و عافیت باہر نکلنا بچوں کاکھیل نہیں ہے۔  صدر ٹرمپ نے فلسطین کے خلاف ماحول سازی میں اسرائیل کا ساتھ دیا اس لئے پوری دنیا کی یہودی لابی چاہتی تھی کہ صدر ٹرمپ کی واپسی ہو لیکن ٹرمپ کے غیر متوازن بیانات اور کئی غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ چین کے ساتھ امریکہ کی دوری بڑھنے میں بھی ٹرمپ کا کلیدی کردار ہے ورنہ امریکی تاجروں کا مٔوقف رہا ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات بحال رہنے چاہئیں۔کورونا وباء کی ہینڈلنگ میں صدر ٹرمپ کی ناکامی اور متنازعہ بیانات کی تلخی کا راستہ اختیار کر کے ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف خود کو انتہائی متنازعہ بنا لیا ہے بلکہ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے امریکہ کی جمہوریت اور ووٹنگ کے نظام کو خود متنازعہ اور فراڈ کا حامل نظام قرار دیتے ہوئے اپنی دوبارہ جیت کا یکطرفہ دعویٰ بھی کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں امریکی ووٹرز خوف، تشویش اور کنفیوژن کا شکار بھی ہوئے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بسیرا خواہ کسی کا بھی ہو امریکی پالیسی وہی ہو گی۔ سپر پاور امریکہ کے اعصاب پر یہود سوار ہیں اورا مریکی سیاست اور سیاست دانوں پر ان کا ہی غلبہ ہے یعنی فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ یہود اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور مسلمان ملکوں میں بھی وہ پاکستان کو کسی طور پر پھلتا پھولتا اور مستحکم دیکھنا نہیں چاہتے۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے اسلحہ کے بہت سے معاہدے کئے، پاکستان اور چین دونوں سے جنگ کرنے کے دعوے بھارت ٹرمپ کے ہی ایماء پر کرتا رہا ہے۔بھارت ایک چالاک بنیا ہے اس کے قائدین ہمیشہ سے ہی بیرونی ممالک سے تعلقات کے سلسلے میں مفید سودے بازی کو اپنا ایک مقصد سمجھتے ہیں اور اس کی جہت ہمیشہ دفاعی سودے رہے ہیں۔


ای پیپر