ابھی نندن نہیں ، مسئلہ کشمیر اٹھائیں
06 نومبر 2020 (10:16) 2020-11-06

مقام افسوس کہ یہ تو حکومت ہی ترجمانوں کی ہے ، اس کے باوجود ایاز صادق کی بات کا جواب دینے کے لیے ڈی جی آئی ایس پی آر کو پریس کانفرنس کرنا پڑی ، شکوہ ، جواب شکوہ دونوں ہی مناسب نہ تھے ، اپنی چیخوں کے لیے مشہور مراد سعید نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر ن لیگ پر مودی کے یار والا گھسا پٹا راگ الاپا تو ایاز صادق نے ابھی نندن کی رہائی کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کیفیت بیان کردی ، اس موقع پر بتایا گیا جنگی ماحول کے دوران گرفتار بھارتی پائلٹ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے بلائے گئے اہم ترین اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے شرکت نہیں کی ، آرمی چیف موجود تھے ، خواجہ آصف کے مطابق شرکا کو یہ تاثر دیا گیا کہ ابھی نندن کی فوری رہائی سے بھارت کو جو خوشی ملے گی  اس سے ماحول بہتر بنانے میں یقینی مدد ملے گی ، حالانکہ بعد حالات اس قدر خراب ہوئے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ، جو کام بھارت پچھلے 73 سالوں میں خواہش کے باوجود نہ کرسکا ، پلک جھپکتے میں کر گزرا ، یہ آج بھی سر بستہ راز ہے بھارتی حکام کو مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کی جرات کیسے ہوئی ، پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے بزدلوں کی طرح ننگی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ، پاکستانی فورسز نے منہ توڑ جوابی کارروائی سے پہلے باقاعدہ وارننگ دی ، پھر بھارتی طیارے مار گرائے ، بھارتی فورسز اس حد تک بوکھلا چکی تھیں کہ اپنا ہی ہیلی کاپٹر خود مار گرایا ، تباہ شدہ بھارتی طیارے کا پائلٹ گرفتار کرلیا گیا ، اس کارروائی سے پوری دنیا میں پاکستان کی فوجی صلاحیت کی ساکھ میں اضافہ ہوا ، قوم کا مورال بلند ہوا ، بلاشبہ یہ بڑی فتح تھی ، عین اس وقت یہ اطلاعات بھی سامنے آنا شروع ہوگئیں کہ چند طاقتور ممالک بھارتی پائلٹ کی فوری رہائی کے لیے دباو ڈال رہے ہیں ، ایسی خبریں بھی آئیں کہ بھارت ، پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے ، وزیر خارجہ شاہ محمود کے حوالے سے رات نو بجے متوقع بھارتی حملے کا ذکر وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹویٹ میں کیا ہے ، خود شاہ محمود نے اسی شام ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بات ناظرین کو بتائی تھی ، اسد عمر نے اس حوالے سے ایاز صادق کے بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کو بتا دیا گیا تھا کہ اسکے میزائلوں حملوں کے جواب میں فوری طور پر جواب دیا جائے گا ، ایک بات تو طے ہے کہ اس رات بھارت کی جانب سے حملے کی اطلاعات تھیں ، ایسے میں کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ بھارتی گیڈر بھبھکی بے نقاب ہونے تک ابھی نندن کی رہائی روک لی جاتی ، خود کئی ‘‘ منظور شدہ‘‘ دفاعی ماہرین بھی اس فیصلے پر حیران تھے ، ابھی نندن کی رہائی کے بعد معاملہ کس طرف گیا ، ایک تو بھارت نے ہمارا احسان نہیں مانا اور مودی سرکار نے ابھی نندن کی رہائی کا دن یوم فتح کے طور پر منایا ، دوسرا خود وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ مودی فون سننے کے لیے بھی تیار نہیں ، جنگی قیدی چھوڑا جاسکتا تھا لیکن جنیوا کنونشن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ دشمن ملک آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو ، آپ کی ہمدردی اور نیک نیتی کا مذاق اڑا رہا ہو ، اور آپ ہاتھ آیا موقع فوری طورپر گنوا دیں ، کسی بھی جھڑپ یاطویل لڑائی کے بعد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آپکے دشمن کو کتنا نقصان پہنچا ؟ پلوامہ واقعہ اور اسکے بعد پیش آنے والے حالات کے نتیجے میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرکے اسکی حیثیت بدل ڈالی ، پارلیمنٹ میں ایک دوسرے پر الزمات لگانے کی بجائے بحث اس امر پر ہونی چاہیے کہ ایسا کیونکر ہوا ، اپوزیشن جماعتیں اس وقت سے باربار اس حکومت کو کشمیر فروش قرار دے رہی ہیں ، اور حکومت الٹا پی ڈی ایم کو بھارت نواز کہتی ہے ،سادہ سی بات ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ کس کے دور میں بھارت کو کتنا فائدہ ہوا ،ایاز صادق کوئی عام رکن اسمبلی نہیں ، سپیکر کے طور پر ایوان کو جرات مندانہ اور باوقار طریقے  سے چلایا ، اگر انہوں نے فلور آف دی ہاؤس کچھ غلط کہہ دیا تھا تو سٹے آرڈر پر بیٹھا ڈپٹی سپیکر کیا کر رہا تھا ؟ اس سے بھی بڑا بلنڈر سیاسی خانہ بدوش فواد چودھری نے پلوامہ واقعہ کے حوالے سے 

بونگی مار کر کیا ، ایوان میں آوازیں گونجتی رہیں کہ پلوامہ واقعہ سے پاکستان  کا کوئی تعلق نہیں مگر فواد چودھری کو بہت دیر سے سمجھ آئی ، ان کے الفاظ کو بھارتی وزیر اعظم تک نے اٹھا لیا اور اب ہمارے خلاف عالمی سطح پر استعمال کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ، ہمارے دفتر خارجہ کو وفاقی وزیر کی اس حماقت کی صفائی پیش کرنا پڑگئی ، ایسی حماقتیں صرف وزرا تک محدود نہیں ، وزیر اعظم کے حوالے سے بھی کئی شکایات ہیں ، یہاں صرف دو مثالیں ہی کافی ہونگی ، عمران خان نے تہران جاکر اعتراف کیا کہ ایران میں دہشت گردی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہوتی رہی ، امریکہ جا کر کہہ ڈالا کہ القاعدہ کو ٹریننگ پاک فوج نے دی ، ذرا تصور کریں ایسا بلنڈر کسی اور وزیر اعظم نے کیا ہوتا تو ‘‘ محب وطن ‘‘ حلقے کیسا طوفان کھڑا کردیتے ،ایک پیج کی حکومت کے پاس کارکردگی کے حوالے سے پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ، وہ اپنی بچت اسی میں سمجھتی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو ملک اور اداروں کی دشمن قرار دے کر اتنی گرد اڑائے کہ کسی کو کچھ نظر نہ آئے ، لیکن یہ آسان نہیں ، اس پالیسی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پہلے سے شبہات کی زد میں آئے اداروں کو تیزی سے متنازعہ بنایا جارہا ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ادارے خود کو اس لڑائی سے مکمل طور پر الگ کرلیتے ، جیسے 2014 میں عمران ، قادری دھرنوں کے وقت بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ حکومت مسئلے کا سیاسی حل نکالے ، جیسے رضوی دھرنے کے موقع پر کہا گیا اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرسکتے ، اس وقت تو بحران بڑی حد تک مصنوعی اور سکرپٹ کے مطابق تھا ، آج حالات کا دھارا کہیں زیادہ خراب اور فطری انداز میں بھنور کی جانب بڑھ رہا ہے ، کیا ہی اچھا ہوا ادارے اپنے عمل سے یہ ظاہر کردیں کہ غیر متعلقہ معاملات سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ، وقت ثابت کررہا ہے کہ کرپشن اور غداری کے کارڈ نہیں چلیں گے ، ن لیگ کے چار پانچ ،کوئٹہ کے جلسے میں ثنا اللہ زہری کو آنے سے روکنے پر ناراض ہونے والے جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ، اسی جلسے میں شرکت کی دعوت نہ ملنے پر برھم ہونے والے حافظ حسین احمد کوئی وزن نہیں رکھتے ، یہ بیانئیے کی جنگ ہے ، مولانا فضل الرحمن نے سردار ایاز صادق کے گھر جاکر ان کے موقف کی حمایت کردی، پیپلز پارٹی کی خاموشی کا مطلب بھی یہی ہے ، جماعت اسلامی نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنانے کا اعلان مودی کے اقدام کی توثیق اور کشمیریوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ، پی ڈی ایم کا موقف بھی یہی ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ مقبوضہ کشمیرکو ضم کرنے کی بھارتی کارروائی کو جائز قرار دینے کے لیے ایسے اقدامات کررہا ہے ، اپوزیشن کو اگر کوئی معاملہ اٹھانا ہی ہے تو ابھی نندن کی بجائے کشمیر پر آواز بلند کرئے ، اس مسئلے کو جتنا اٹھایا پردے اتنے ہی اٹھتے جائیں گے ، ایک پیج کی حکومت میں بعض مشکوک مہمان اداکار آخر بلا وجہ تو نہیں ، معید یوسف ہوں یا زلفی بخاری ، کوئی نہ کوئی گیم تو ہے ، اسی طرح صوبوں میں بزدار ، محمود خان اور جام کمال جیسے وزیر اعلیٰ ایک پیج کے نمائندوں کے طور پر موجود ہیں ، وسائل ، عوام اور گورننس کا کباڑہ کیا جارہا ہے ، حکمران گروہ کی بعض شخصیات یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ غیر ملکی مہمان اداکاروں ، وزارتوں یا وزرائے اعلیٰ کے معاملات میں ان کی رائے تسلیم نہیں کی جارہی ، یہ بات زمینی حقائق کے منافی ہے ، کیونکہ اس سیٹ اپ سے پورا ٹولہ اپنے بھرپور مفاد ات حاصل کررہا ہے ، سو اس تاثر میں رتی برابر سچائی نہیں کہ اس نظام کے منتخب و غیر منتخب کل پرزوں میں کوئی ایک بھی ایک پیج سے باہر ہے ، اسی لیے پی ڈی ایم ایک پیج کے رکھوالوں کو نشانہ بناتی ہے ، جواباً یہ شور مچایا جاتا ہے کہ اداروں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ، حکومت کا یہ موقف یقیناً پذیرائی پاتا اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ، چونکہ بات درست ہے اسی لیے اپوزیشن کو دبانا مشکل ہوتا جارہا ہے ، ہر طرح کے ریاستی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ، آج حالت یہ ہے کہ وزیر داخلہ سیاسی مخالفین کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں ، جو بوکھلاہٹ کی علامت ہے , ادھر گلگت بلتستان میں انتخابات کے بارے میں مداخلت کی شکایات بڑھتی جارہی ہیں ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ ن لیگ کے امیدواروں کو دھمکیاں دے کر پارٹی ٹکٹ سے دستبردار کرایا جارہا ہے ، بالکل اسی طرح جیسے 2018 کے عام انتخابات میں کیا گیا تھا ، ان حالات میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملک کے حالات صرف ڈائیلاگ کے ذریعے درست ہونگے تو وہ زبردست غلطی پر ہے ، ویسے بھی بیچ کا کوئی راستہ نہیں رہا ، لگتا تو یہی ہے پی ڈی ایم والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔


ای پیپر