ڈ ائیلا گ ، اور صر ف ڈا ئیلا گ
06 نومبر 2020 (10:14) 2020-11-06

و طنِ عز یز کی سیا سی صورتِ حال اب مہینو ں یا ہفتو ں میں نہیں، بلکہ روز انہ کی بنیا د پر تبد یل ہو رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین ٹوٹل شو ڈائون ہے، بیانات اور الزامات کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کشیدگی اور محاذ آرائی کا گراف بڑھ رہا ہے اور وہ مکالمہ یا ڈیبیٹ جسے جمہوری انداز میں پارلیمینٹ میں شروع ہونا چاہیے، وہ سیاسی ہنگامہ آرائی چینلز کی نشریاتی لہروں کے دوش پر محو سفر ہے۔ دنیا کے دارالحکومتوں میں ہمارے سیاسی معاملات کی شدید گونج سنائی دے رہی ہے۔ شومئی قسمت عوام کی عجیب حالت ہوگئی ہے، وہ معیشت، سیاست ، روزگار، مہنگائی اور مستقبل کے بارے میں ایک گھنائونے چکر میں پھنسی ہے لیکن سیاسی حالات، کورونا وائرس کے دوسرے حملے، سماجی اور معاشی تنائو کے باعث اس کی طاقت جواب دینے لگی ہے۔ سنجید ہ سیاسی رہنما جو مین سٹریم سیاست کے دھارے کی اونچ نیچ پر گہری نظر رکھتے ہیں ان میں بھی تشویش کی لہر نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ سیاسی مفکرین، اینکرز اور اقتصادی ماہرین معاشی مسائل اور ان کے حل پر تقسیم ہیں۔ کہیں اتفاق رائے کی صورت دکھائی دینے لگتی بھی ہے تو دوسرے دن ہی قوم کو معاشی منظرنامہ 90 ڈگری ٹرن لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ میڈیا کھربوں روپے کے قرضے بتاتا ہے جبکہ مہنگائی کے دلدل میں گرفتار عوام کو جمہوری عمل میں ایک بڑی پیش رفت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ عوام اسی سوچ میں غلطاں ہیں کہ بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا؟ کورونا کے سبب سکول کہیں دوبارہ بند تونہیں ہورہے؟ صحت کے انفراسٹرکچر کی بحالی، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد، صنعتی ترقی اور معاشی روڈ میپ پس پشت ڈال دیئے گئے ہیں۔ ملک میں غربت نے پنجے گاڑ لیے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو دو سال کا دورانیہ شاید جمہوری ہنی مون منانے کے لیے ملا تھا اور کسی نے کوئی چھو منتر اور جادوئی اثر سے سیاسی عمل کو بھی اُلٹ پلٹ کردیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ہر طرف سے ناکامی کے بعد مقتدار اداروں کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ خود کو جمہوری اور سیاستدان کہنے والے ملکی اداروں کے خلاف باتیں تو کررہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کسے پسینہ آتا ہے۔ وہ اتوار کو گلگت میں گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فائدہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے میں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون ہونا چاہیے۔ اپوزیشن اور پاکستان میں مفادات کا ٹکرائو ہے، معیشت درست سمت میں گامزن ہوچکی ہے۔ کورونا سے جس طرح پاکستان نکلا ہے شاید ہی کوئی ملک نکلا ہو، دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر نوازشریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے تو نہ نوازشریف کا ساتھ دینا نہ مریم نواز کا ساتھ دینا۔ انہوں نے کہا کہ جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو 

مسائل جنم لیتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے عوام کو سہولیات فراہم کرنا پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے سی پیک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن نااہل لوگوں کو سمجھ نہیں سی پیک کیا ہے؟حقیقت میں بحث اس بنیادی بات پر ہورہی تھی کہ پی ٹی آئی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، عمران خان پانچ سال میں عوام کو تبدیلی کے ثمرات سے فیضیاب کریں گے۔ نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی، میرٹ کا دور دورہ ہوگا اور پرانا سسٹم تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔ پرانی سیاست گری کا باب بند ہوگا، کرپشن کا خاتمہ ہوگا، کمزور طبقات کو حکومت اوپر لانے کی ہر ممکن کوشش کریگی، سیاستدان ملک کو نہیں لوٹیں گے۔ ادھر اپوزیشن کا کہنا تھا کہ دو سال کا عرصہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے ٹیسٹ پیریڈ تھا۔ انہیں سو دن کا ٹرائل ملا اور دو سال تک ان کی آزمائش بھی ہوئی مگر عوام کو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ۔ ملکی سیاست میں ستم یہ ہوا کہ جمہوریت جس حسن کا سیاسی اوراق میں، ٹی وی ٹاک اور میڈیا کی بحث و تکرار میں بطور حوالہ چرچا ہوتا تھا وہ برباد ہوگیا۔ جمہوریت، پارلیمانی آداب، سیاسی روایات، پارلیمان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، انتظامی شفافیت، معاشی ترقی، بھوک، بیروزگاری کے خاتمہ اور اقتصادی بریک تھرو کے سارے قصے ایک درد انگیز سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیاسی کشمکش اور ٹکرائو کے پنڈورا باکس کھلنے لگے۔ سیاسی کیمسٹری سے واقف رازدانوں کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ اچانک نہیں ہوا، اس میں مضمر خرابی کو ملکی سیاسی تاریخ کے72 سالوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ وقت نے برسوں ملکی سیاست کے حادثات کی پرورش کی ہے، آج حکومت اور اپوزیشن میں حادثہ ایک دم نہیں ہوا۔ حقیقت میں ریاست اور حکومت کے لیے آج لمحۂ موجود ایک تھیسس کا درجہ رکھتا ہے، حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس ہولناک سیاسی ’’برمودا ٹرائنگل‘‘ کو جانے والے خطرناک راستے کو بند کرے، اس لیے کہ بیان بازی کے گولے داغے جانے کا سلسلہ رکے گا تب ہی مکالمہ کی ابتدا ہوگی۔ جنگ ہورہی ہو تو کوئی اپنے گھوڑے اور سوار نہیں بدلتا۔ تاریخ میں تو ایسا بھی ہوا ہے کہ باہم مخالف قوتوں نے قوم کو درپیش امتحان کے موقع پر اپنے تمام اختلافات بھلا کر دشمن سے دو بدو جنگ کی اور فتح بھی پائی۔ یہ سبق حکومت اور اپوزیشن کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور اس زبردست معرکہ آرائی ’’آرمیگڈان‘‘ سے پیچھے ہٹنا وقت کا تقاضہ ہے جس میں تباہی اور بربادی نوشتہ دیوار ہے۔ جو کچھ جاری سیاسی جنگ قوم دیکھ رہی ہے وہ اکیسویں صدی کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور او رجمہوری رواداری، معاشی مفادات اور خطے کی ہولناک صورتحال کے تناظر میں ایک ویک اپ کال ہے۔ سیاست کو اس ہیجان ، نفسیاتی اور جذباتی تنائو کے دلدل سے نکالیں، تصادم کا نتیجہ کسی کی فتح میں برآمد نہیں ہوگا۔ یہ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر سیاسی اور جمہوری قوتوں کی جیت نہیں ہوگی بلکہ جس شدت کے ساتھ ہمارے کثیر جہتی سیاسی، تزویراتی، عسکری، معاشی اور سیاسی بیانیے میں بار بار اس للکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ اپوزیشن مودی کے بیانیے کی ہمنوا ہے اس کا سیاسی رہنمائوں کو تاریخ کو جواب دینا ہوگا۔ اداروں میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ وقت تیزی سے بدل رہا ہے، سیاست میں آگ کی تپش اپنی حدوں کو عبور کر رہی ہے۔ اس برہمی، غضبناکی اور سیاسی تصادم کو روکیں، جمہوری قوتیں خاموشی کا طلسم توڑ دیں، ڈائیلا گ کو راستہ دیں، اپنی سیاسی تاریخ کے ان اندوہناک حادثات، تجربات اور تنازعات کے دلگداز نتائج اور غیر منطقی انجام کو چشم تصور میں لائیں، قوم کو اس سیٹ بیک کے امتحان میں نہ ڈالیں جسے ہمارے مخالف سیاسی دیوالیہ پن قرار دے سکتے ہیں۔ حکمران اور اپوزیشن جمہوری طرزِ عمل کا مشاہدہ کریں۔ بہ جنگ آمد سیاسی رہنمائوں کو صف آرائی سے اجتناب کا صائب مشورہ ہی دیا جانا چاہیے۔ سیاست ضرور کریں، رجائیت پسندی پر مبنی بیانات دیں، مگر 22 کروڑ عوام کی معاشی زبوں حالی کو بھی یاد کریں۔ سیاسی منظر نامہ کو ڈا ئیلا گ اور صر ف ڈائیلا گ سے تبد یل کرنے کی کو شش کریں۔


ای پیپر