مایوسی، بے یقینی، بے حسی!
06 نومبر 2020 2020-11-06

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے، بحیثیت قوم، اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ایسا وقت اچھا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی فرد بھی ہاتھ پاوں مارنا چھوڑ دے اور اپنے آپ کو تقدیر کے حوالے کر دے تو اس کی قسمت نہیں بدلا کرتی۔ وہ جو علامہ اقبال نے اللہ تعالیٰ ہی کے ارشاد کو اپنے شعر میں سموتے ہوئے کہا ہے کہ خدا صرف انہی لوگوں کی حالت تبدیل کرتا ہے جو خود اپنی حالت تبدیل کرنے کی جدو جہد کرتے ہیں۔ فرد ہو یا قوم، یہ بیماری بڑی مہلک ہوتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسان بپھرے ہوئے پانی میں پڑا ہو اور کنارے کی طرف بڑھنے کی کوشش کے بجائے خود کو لہروں کے حوالے کر دے۔ اس امکان کو تو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی لہر اسے اٹھا کر کنارے پہ ڈال دے لیکن اس نوع کی خوش قسمتی کو زندگی کا اصول یا معمول نہیں بنایا جا سکتا۔

جس بھی پہلو پہ نظر ڈالی جائے یہی منظر سامنے آتا ہے کہ ہم نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے ۔ ہمارے اندر نہ ان حالات کو تبدیل کرنے کا کوئی جذبہ ہے، نہ اس کے لئے ہم جدوجہد کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ بیمار پڑ جائیں تو خود ہی اپنے علاج کا سامان کرنا ہے۔ دوا اگر سو روپے سے بڑھ کر دو سو روپے کی ہو گئی ہے تو چپ چاپ اسے خریدنا ہے۔ اور اگر ہمارا بجٹ اجازت نہیں دیتا کیونکہ ہمیں بیس روپے کا نان یا روٹی بھی خریدنی ہے تو ہم خود ہی دوائی کا ناغہ شروع کر دہتے یا اللہ پہ تکیہ کر کے دوا ترک کر دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ استطاعت نہ ہونے کے باعث اگر پرائیویٹ علاج ممکن نہیں تو سرکاری ہسپتال میں ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ ہم روتے دھوتے وہ سلوک سہہ لیتے ہیں اور اسے معمولات کا حصہ سمجھ کر چپ رہتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ گوشت، آٹا ، گھی، سبزیاں ، دالیں سب کچھ پہنچ سے باہر ہو جاتا ہے تو ہم اس سب کچھ کو تقدیر کا حصہ سمجھ کر برداشت کر لیتے ہیں۔ بجٹ کچھ خریدنے کی اجازت دے تو ٹھیک ورنہ صبر شکر کر لیتے ہیں۔ تعلیم کے مواقع محدود ہو جائیں، فیسیں بڑھ جائیں، نوکریاں نہ ملیں، کوئی کام رشوت کے بغیر نہ ہو، قدم قدم پر ہمیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہو، سب کچھ ہمارے معمولات بن جاتے ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھیں۔ہمارے پلاٹ پر قبضہ ہو جائے۔کوئی فراڈ ہو جائے۔ معاملہ عدالت کچہری تک پہنچے۔ تاریخوں پر تاریخیں پڑیں۔ ہم وکیلوں کی فیسیں بھرتے بھرتے کنگال ہو جائیںتو کوئی بات نہیں۔ ایسے ہوتا رہتا ہے۔ کوئی کسی الزام میں جیل میں ڈال دیا جائے۔ وہ اپنی بے گناہی کیلئے قانونی راستہ اختیار کرئے۔۔ اپیلیں چونٹی کی رفتار سے چلتی رہیں۔ پندرہ یا بیس سال کی قید کے بعد فیصلہ آئے کہ وہ بے گناہ ہے تو یہ کوئی حیرت یا رنج کی بات نہیں۔ ہمارے ملک میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اس پر کڑھنے یا احتجاج کرنے سے کیا حاصل۔ یہاں تو ایسے بھی ہو چکا ہے کہ ایک ملزم قتل کے الزام میں پھانسی چڑھ گیا اور بعد میں فیصلہ آیا کہ یہ تو بے گناہ تھا۔ اس کے لواحقین بد دعائیں دینے کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔ کوئی محنتی اور پیشہ وارانہ لگن رکھنے والا صحافی گھر سے نکلتے ہی اٹھا کر کسی ویگو ڈالے میں ڈال دیا جائے اور غائب ہو جائے تو گھر والے دہائی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ریاست کی مشینری اسے برآمد نہیں کر سکتی ۔ عدالت صرف ہدایات جاری کر سکتی ہیے۔ مائیں، بہنیں، باپ ، بیوی ، بچے دہائی دینے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ دوسرے یا تیسرے دن وہ لاپتہ صحافی کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ جائے تو یہ سوال ختم ہو جاتے ہیں کہ اسے کس نے اٹھایا تھا؟ اس پر تشدد کس نے کیا؟ وہ کہاں رکھا گیا؟ اس سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ یہ سب سوالات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کوئی ادارہ اس کی تفتیش نہیں کرتا کہ یہ اغوا کس نے کیا؟ کوئی عدالت اس کا سویو موٹو نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھتی۔ اور تو اور خود نشانہ بننے والا صحافی بھی چپ کا روزہ رکھ لیتا ہے اور یہ بتانے کی جسارت نہیں کرتا کہ اس پر کیا گزری۔ ذرا ہماری بے بسی کی انتہا دیکھیں کہ اغوا شدہ صحافی یا فرد کے گھر آجانے کے بعد نہ صرف سارے ضروری سوالات ختم ہو جاتے ہیں بلکہ لوگ مبارک باد دینے آتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں کہ شکر ہے زندہ سلامت گھر آگیا۔ ایسا اس لئے کہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو گھروں سے غائب ہوئے تو پھر ان کا کوئی نشان تک نہیں ملا۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کے معمولات کا حصہ ہیں۔

ہمارا ایک آئین بھی ہے۔ یہ ایک بڑا مکمل اور جامع آئین ہے جو ہم نے آدھا ملک گنوانے کے بعد بنایا۔ اس آئین میں بنیادی حقوق کا ایک بڑا ہی تفصیلی باب بھی ہے۔ لیکن ہمیں ان حقوق کا علم ہے نہ ہم اپنے حقوق کے تحفظ کا کوئی جذبہ رکھتے ہیں۔ اگر پولیس آدھی رات کو آئے اور کسی معروف شخصیت کو دہشت گردوں کی طرح اٹھا کر لے جائے اور ہتھکڑی ڈال کر عدالت میں پیش کرئے اور قصوری چکی میں ڈال دے اور پتہ چلے کہ اس پر کرایہ داری یا دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا کوئی الزام تھا، تو کسی کو حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی عدالت کو بھی جائزہ لینے کی حاجت نہیں کہ یہ سب کس نے کیا۔ بس ہو جاتا ہے ہمارے ہاں اور ہوتا رہتا ہے۔

آپ سوچتے جائیں ۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہاں کیا کچھ ہو جاتا اور پھر بھلا دیا جاتا ہے۔ میں نے ابھی آئین کا ذکر کیا تھا۔ اس آئین میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دستور شکنی کرئے گا تو اسے کیا سزا ملے گی۔ یہاں صرف ایک ایسے شخص پر مقدمہ چلا۔ پھر جو ہوا اس کی تفصیل کوئی ذیادہ پرانی نہیں۔ لیکن اس پر بھی کسی حیرت کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے ماضی کے بڑے بڑے سانحوں سے بھی سبق نہیں سیکھتے۔ تحقیقات ہوں بھی تو عوام کو بتایا نہیں جاتا۔ پتہ چل بھی جائے تو کسی کو سزا نہیں ہوتی، کسی کا محاسبہ نہیں کیا جاتا۔ 

بحیثیت قوم ہم نے خود کو حالات کے سپرد کر دینے کا رویہ شاید اس لئے اپنا لیا ہے کہ ہم مایوس ہو چکے ہیں۔ بار بار کے تجربات اور بار بار کی ناکامیوں کے سبب شاید ہم نے جان لیا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے ہی چلنا ہے۔ شاید ہمارے ہاں ایسے مستحکم ادارے نہیں رہے جو ہمیں امید دیں۔ اگر عدالتوں سے بھی انصاف کی توقع اٹھ جائے یا خود آزاد جج عتاب کا نشانہ بننے لگیں تو کیا باقی رہے گا۔

اس اجتماعی مایوسی، بے حسی اور بے عملی نے افراد کی اور قوم کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ کاش ہماری درسگاہوں میں کوئی غور و فکر کا نظام ہو۔ ہمارے دانشور مل بیٹھیں۔ اقتدار کی جنگ میں الجھے سیاستدان تھوڑا وقت نکال کر سوچیں کہ کس طرح عام آدمی کو امیداور یقین دیا جائے۔ کس طرح بے بسی محسوس کرنے والی قوم کو بیدار کیا جائے ۔ یا شاید کچھ لوگوں کیلئے یہی بہترہے کہ پاکستانی اسی طرح رلتے رہیں اور قوم اسی طرح اپنے مسائل میں الجھی رہے تاکہ ان کی طاقت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ 


ای پیپر