سہولت بازاروں سے براہ راست
06 نومبر 2020 2020-11-06

میرے پروگراموں اورکالموں میں آپ کو دوسروں سے ایک فرق ملے گاکہ یہ ڈرائنگ روموںمیں بیٹھ کرکئے اور لکھے گئے نہیں ہوں گے۔ میںسمجھتا ہوں کہ صحافت کی اس سے بڑھ کر کوئی مقدس ذمے داری نہیں کہ وہ عوام کی ترجمانی کرے۔ہمارے رپورٹر عامرسلامت نے حکومت کی طرف سے پنجاب بھر میں ساڑھے تین سو اور لاہور کے اکتیس سہولت بازاروں کی دلچسپ کہانیاں سنائیں تو شوق پیدا ہوا کہ انہیںقریب سے دیکھاجائے۔ حکومت بڑے بڑے اشتہارات شائع کر کے اور پریس ریلیزوںمیں اپنے اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کر رہی ہے کہ اس نے سہولت بازارقائم کر کے مہنگائی کاخاتمہ کر دیا ہے، کیا ایسا واقعی ہوا ہے، اس کے لئے فرسٹ ہینڈ انفارمیشن ضروری ہے۔

سہولت بازارمختلف علاقوں میں سڑک کے کناروں پر قائم کئے گئے ہیں اور میں نے جو سہولت بازار دیکھے ان میں دکانوںکی تعداد بہت محدود ہے۔ ان کا سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک محنت کش شام کو پانچ یا چھ بجے اپنے دفتر یا فیکٹری سے فارغ ہو کر گھر کی طرف جاتا ہے تو اس وقت تک یہ بازار بند ہوچکے ہوتے ہیں یعنی آپ کے لئے پانچ بجے سہولت بازار پہنچنا ضروری ہے بلکہ پانچ بجے سے بھی پہلے کیونکہ دکاندار ان بازاروں میں دکانیں بندکرنے کے لئے یوں تیار بیٹھے ہوتے ہیں جیسے جیل میں بندہوں مگر اس سے بھی بڑااوربنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ان نام نہاد سستے بازاروں میں کسی قسم کی کوئی سب سڈی نہیں دے رہی۔ دکاندار سبزی منڈی یا اکبری منڈی سے چیزیں خرید کر لاتے ہیں اور ان سہولت بازاروں میں ڈپٹی اوراسٹنٹ کمشنروں کے دئیے ہوئے نرخوں پر گھاٹے میں فروخت کرتے ہیں، سوال ہے کہ وہ ایساکیوں کرتے ہیں؟

ریلوے اسٹیشن لاہور کے قریب لگے ہوئے سستے سہولت بازارمیں ایک سبزی بازار نے مجھے دیکھا تو چیخ اٹھا۔وہ اس وقت دکان بند کر رہا تھا۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، اسے خالی کرتے ہوئے ہزار ، پانچ سو کے چند نوٹ میرے سامنے ڈھیر کر دئیے،بولا ،جب وہ آج سے پندرہ، سولہ روز پہلے یہاں دکان لگانے آیا تھا تو اس کے پاس بیس ہزار روپے تھے اور اب ساڑھے چھ ہزا ر بچے ہیں۔ اسے یہاں مسلسل گھاٹا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا، پیارے بھائی، تمہیں کیا تکلیف ہے کہ تم یہاں دکان لگا رہے ہو، گھاٹا ہو رہا ہے تو جاو کسی دوسرے کو دکان لگانے دو۔ وہ روہانسا ہو کے بولا،میں کیسے جاوں، مجھے حکومتی کارندوں نے زبردستی پکڑ کریہاں لا بٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ اگر تم نے یہاں دکان نہ کی تو ہم تمہارے خلاف کارروائی کریں گے۔ میرے لئے یہ حیرت انگیز انکشاف تھا کہ بلدیہ اور پولیس کی سرکاری مشینری تاجروں کو بلیک میل کر رہی ہے، انہیں مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دے کر سہولت بازاروں میں لایا جا رہا اور خرید سے بھی کم پر اشیا فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

میں نے لال پُل مغلپورہ اور اس کے بعد ہربنس پورہ کے بازار میں دکانداروں کو چینی چھپاتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو چینی کی بوری کا منہ کھول دیا جو پہلے بند تھااور مختلف اشیا کے نیچے چھپا ہوا تھامگروہاں کھڑے گاہکوں نے سب بھانڈا پھوڑ دیا کہ ابھی آپ کے آنے سے پہلے ہم ان سے چینی کا پوچھ رہے تھے جس کے بارے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ پچاسی روپے کلو دستیاب ہے توکہا جا رہا تھا کہ چینی نہیںہے۔ عامرسلامت نے بھی مجھے یہی بتایا کہ دکاندار اسی وقت چینی دیتے ہیں جب کوئی دوسرا سامان زیادہ لے اورا نہیں کچھ بچت ہو یا کمشنر، ڈی سی ، اے سی ٹائپ کی کوئی شے وزٹ کر رہی ہو۔ میں نے دکانداروں سے کہا کہ میں عوام کا ہی نہیں تمہارا بھی دوست ہوں کہ تم بھی عوام ہو۔ مجھے بتاوکہ مسئلہ کیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ وہ اکبری منڈی سے سو روپے کلو چینی لا رہے ہیں اور یہاں انہیںمجبور کیا جا رہا ہے کہ ہر کلو کے پیچھے پچاس روپے کاگھاٹا کھائیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ چینی چھپا دیتے ہیں،گاہک کو نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ سولت بازاروں میں سب سڈی کا کوئی نظام نہیں ہے جس طرح سابق حکومت میںہوتا تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت مکمل فنکاری بلکہ نوسر بازی سے کام لے رہی ہے۔ وہ دکانداروں کی جیب سے منافع ہی نہیں بلکہ اصل لاگت نکال رہی ہے اور اشتہاروں میں اسے اپنی کارکردگی بتا رہی ہے جبکہ اس کی بنیادمکمل طورپر دھونس اوردھاندلی ہے۔ یہ نمبر ٹنگ پروگرام ہے اوراردو میںاس کے لئے حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ والا محاورہ فٹ بیٹھتاہے۔

جہاں چینی ایک کلو سے زیادہ نہیں دی جا رہی وہاں ان سہولت بازاروں میں پابندی ہے کہ گاہک پیاز اور ٹماٹر بھی ایک کلو سے زیادہ نہیںلے سکتے۔ میں نے دیکھا کہ برائلر چکن کے ریٹ پر تین سے پانچ روپے کی رعائیت دی جا رہی تھی مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ شہر بھر میں ایسی دکانوں کی بھرمار ہے جو سرکاری ریٹ سے بیس بیس روپے کم پر چکن فروخت کرتی ہیں۔ میں کسی کو الزام نہیںدیتا اور نہ ہی کم تولنے کا الزام لگاتا ہوں جو پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت کم از کم آدھے دکانداروں کا وطیرہ ہے مگر یہ عمومی طریقہ ہے کہ اگرچکن ٹھیک سے صاف نہ کیا جائے توایک کلومیں سے پانچ، دس روپے کا فرق نکال لیاجاتا ہے لہذا جب بھی آپ سستا چکن خریدیں تو ہرگز اس یقین کے ساتھ مت خریدیں کہ آپ واقعی سستا لے جا رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو وہ مہنگا پڑ رہا ہو۔

حکومتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے مصنوعی طریقے استعمال کرتی ہیں جیسے چینی کی کم قیمت کے لئے آپ کو کوئی بھی کمشنر،ڈپٹی کمشنر،اسسٹنٹ کمشنر اور پرائس مجسٹریٹ شوگرملوں میں جاتا ہوا اوروہاں کے نرخ چیک کرتا ہوا نظر ہی نہیںآئے گا کہ یہ ہر دورمیں ان بیوروکریٹوں کے لئے ایسے ہی ہے جیسے وہ تتے توے پر چلے گئے ہوں۔یہ افسران لاہور کی اکبری منڈی سمیت اپنے اپنے علاقوں کی ہول سیل مارکیٹوں میں بھی نہیں جائیں گے مگر یہ دکانداروں کو ضرور مجبور کریںگے بلکہ گرفتار کریں گے کہ جو چینی انہیں سو روپے کلوپڑ رہی ہے وہ کہیں کم سرکاری ریٹ پر فروخت کریں۔یہ معاملہ دالوں کے ساتھ ہے کہ اس کے غیر حقیقی نرخ ڈی سی آفس سے جاری کئے جاتے ہیں اور ان نرخوںپر دالوں کی فروخت کے لئے بڑے سٹورز ڈی سی کاونٹرز پر گندی اور غیر معیاری دالیں رکھ دیتے ہیں جنہیں کھا کے پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔ میں نے سہولت بازاروں میں یہ بھی دیکھا کہ وہاں سیب اسی سے سو روپے کلو پر دستیاب تھے اور کیلے پچاس روپے درجن مگرجب میں نے مختلف علاقوں میں سیبوں اور کیلوں کی ریڑھیاں دیکھیں تومجھے سہولت بازار سے بہتر سیب اورکیلے انہی نرخوں پر فروخت کئے جاتے ہوئے نظر آئے یعنی سستے سہولت بازاروں کے پھلوں میں بھی کوئی سہولت اور کوئی بچت نہیں ہے۔

آپ کہیں گے کہ مجھے سب کچھ غلط اور خراب ہی نظر آیا تو ایسی با ت نہیں۔ مجھے سہولت بازاروں کے ساتھ آٹے کے ٹرک کھڑے نظر آئے تو جوآٹھ سو چالیس روپے میں غیر معروف فیکٹریوں کا بیس کلو آٹے والاتھیلا بیچ رہے تھے مگرمجھے دوباتیں بتائیں گئیں، پہلی عامر سلامت نے بتائی کہ اب بہت سارے غریبوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اکٹھا بیس کلو آٹا خریدیں، قوت خرید ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے، اب دودو یا چار چار کلو آٹا خرید کر دن گزارے جا رہے ہیں اور دوسرے مجھے عام دکانداروں نے بتایا کہ دس اور بیس کلو کے سرکاری ریٹ والے تھیلے میں انتہائی ناقص آٹا دیا جا رہا ہے۔آپ کو عام معیار کاآٹا چاہیے تو اس کے لئے پندرہ کلو کا متعارف ہونے والا نیا تھیلا خریدنا ہوگا جس کی قیمت ساڑھے نو سو روپے ہے یعنی ہر ایک کلو پر بیس روپے اضافی۔


ای پیپر