کیامولانا خالی ہاتھ واپس جائیں گے ؟
06 نومبر 2019 2019-11-06

مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے۔ دھرنے کے شرکاء موسم کی سختیاں جھیلتے اور بارش میں بھیگتے اپنے قائد کی اگلی ہدایت کے منتظر ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں گزشتہ چند برسوں سے ایک رجحان پروان چڑھا ہے۔ اس رجحان کے بانی علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ہیں جنہوں نے فائیو سٹار کنٹینر کا تصور پیش کیا تھا۔ جو قیادت انقلاب اور سٹیٹس کو توڑنے کے نعرے بلند کرتی ہے مگر وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ انہی حالات میں رہنا پسند نہیں کرتی جن حالات میں ان کے پیرو کار رہ رہے ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے پیرو کار اور سیاسی کارکن کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں جبکہ اہم راہنما آرام دہ گھروں میں مقیم ہیں۔ طبقاتی تضاد ہر جگہ نمایاں ہے ۔ جو طبقاتی تفریق ہمیں اشرافیہ اورعوام کے درمیان نظر آتی ہے اسی طرح کی تفریق سیاسی قیادت اور ان کے نچلے درمیانے طبقے اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں اور متاثرین میں نظر آتی ہے ۔ لیڈر اگر بارش میں گیلا ہو جائے تو اس کے بیمار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ جبکہ کارکن تو لوہے کے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو بارش اور سردی کچھ نہیں کہتی ۔

سیاسی کارکن کسی بھی جماعت کے ہوں یا کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتے ہوں وہ قابل احترام ہیں۔ ہمارے ملک میں تو ویسے بھی درمیانے اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے حقیقی سیاسی کارکن اب نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاسی کارکن تو در اصل سیاسی عمل اور جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں۔ سیاست کی اصل رونقیں تو ان کے ہی دم خم سے ہوتی ہیں۔ ان کے بغیر تو سیاست راہنمائوں کے وسیع و عریض ڈرائینگ روموں اور نیوز چینلز کی سکرینوں میں قید ہو جاتی ہے۔ ان سیاسی کارکنوں پر رحم کھائیے اور ان کو مناسب سہولیات فراہم کریں۔تاکہ وہ موسمی حالات کو بہتر انداز سے جھیل سکیں۔

اب اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس وقت یہ سوال سب کے ذہنوں میں موجود ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے یا انہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا ۔ ہماری سیاست کے عامل بابا شیخ رشید تو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ مولانا خالی ہاتھ واپس لوٹنے والے ہیں۔ شیخ رشید نے گر یہ نہیں بتایا کہ خالی ہاتھ سے ان کی مراد کیا ہے ؟۔ یہ واضح ہے کہ مولانا کو وزیر اعظم کا استعفیٰ نہ بھی ملا تو وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹیں گے ۔ ان کے ہاتھ میں پھر بھی بہت کچھ ہو گا۔ استعفیٰ نہ دینے والے وزیر اعظم کو سیاسی طور پر بہت کچھ دینا پڑے گا۔ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن یا کمیٹی تشکیل پا سکتی ہے۔ پاکستان کی 2008 ء کے بعد کی سیاسی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ دھرنا ناکام بھی ہو تو وہ حکومت کو پہلے سے کمزور کرتا ہے ۔ حکومت سیاسی اور انتظامی طور پر کمزور ہوتی ہے۔ دھرنے کے سیاسی مطالبات جو بھی ہوں تقریریں جتنی بھی انقلابی اور پر جوش ہوں۔ اصل معاملات پس پردہ کہیں اور ہی طے ہوتے ہیں۔ جن کی بنیاد کچھ لو اور کچھ دو ہی ہوتی ہے۔

اس وقت اگر وزیر اعظم اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں اس کے عوض نہ صرف حزب اختلاف کو بہت کچھ دینا پڑے گا بلکہ مقتدر قوتوں پر ان کا انحصار مزید بڑھے گا ۔ ان کے فیصلے کرنے کی صلاحیت اور جگہ مزید سکڑ جائے گی ۔ جس حزب اختلاف کو وہ منہ لگانے کے بھی روا دار نہیں تھے اور انہیں وہ چور اور ڈاکو نظر آتے تھے۔ لیکن اس وقت بلاول بھٹو اور شہباز شریف انہیں جمہوریت کے سب سے بڑے محافظ نظر آئیں گے ۔ اس دھرنے نے تحریک انصاف کی حکومت کے دماغ سے اس خناس کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ اگر مقتدر قوتوں کی مدد اور تائید حاصل ہو تو حزب اختلاف کو دیوار سے لگانے کی پالیسی درست ہوتی ہے ۔ ہر خرابی اور برائی کی ذمہ داری حزب اختلاف پر ڈال دو۔ اپنی نا اہلی اور غلط پالیسیوں کا ملبہ بھی اپوزیشن پر ڈال دو۔ میڈیا پر اتنا دبائو ڈالو کہ وہ یا تو ہمنوا بن جائے یا پھر تاریخ کا حصہ۔ بس مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھو۔ ان کی ہاں میں ہاں ملائو۔ اپوزیشن کو احتساب کے نام پر خوب رگڑا لگائو۔ کارکردگی اور بہتر حکمرانی کی بجائے جھوٹ بول کر اور معاشی اعدادو شمار کو توڑ مروڑ کر لوگوں پر اپنی قابلیت اور کارکردگی کی دھاک بٹھائو۔ یہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ مگر مولانا نے رنگ میں بھنگ ڈال دی ۔ مولانا کے مارچ اور دھرنے نے ساری صورت حال بدل دی۔ جو وزیراعظم صبح و شام NRO نہ دینے کی باتیں کرتا تھا اب وہ سب مطالبات ماننے کو تیار ہے بس اپنے استعفے کے علاوہ۔

مولانا اگر خٰالی ہاتھ جانے والے ہیں تو پھر چوہدری برادران کے ذریعے حکومت مولانا اور رہبر کمیٹی سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ خالی ہاتھوں کو تو کچھ دیا جاتا ہے کیونکہ خالی ہاتھ کسی کو کچھ دینے سے رہے۔

یہ بات تو یقینی ہے کہ وزیراعظم اگر دھرنے سے بچ بھی گئے تو انہیں جلد یہ سمجھ آ جائے گا کہ اس دھرنے اور مذاکراتی حل کے نتیجے میں ان کی حکومت اور کرسی مضبوط نہیں ہو گی بلکہ کمزور ہو گی۔

یہ دھرنا اگر ان سے استعفیٰ نہ بھی لے سکا (غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ ان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد آنے کا امکان زیادہ ہے) تو حزب اختلاف کے بہت سے مطالبات مانے جائیں گے ۔ احتساب کے یکطرفہ عمل میں کمی آئے گی۔ حزب اختلاف پر موجود شدید دباؤ کم ہو گا۔ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات میں پیش رفت ہو گی۔ الیکشن کو زیادہ صاف، آزادانہ اور شفاف بنانے کے لیے حزب اختلاف کی کئی تجاویز تسلیم کر لی جائیں گی۔ اس دھرنے کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے اندر حزب اختلاف کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ تحریک انصاف کی حکومت اس دھرنے کے بعد پہلے جیسے نہیں رے گی۔ مولانا کو اگر استعفیٰ نہ بھی ملا تو وہ بہت کچھ لے کر جائیں گے ۔ تحریک انصاف کے حامی حکومت کے قائم رہنے کا جشن منائیں گے اور مولانا مسکراتے ہوئے اپنی کامیابی پر ۔


ای پیپر