بابری مسجد کا فیصلہ اورمثبت نتائج کی توقعات!
06 نومبر 2019 2019-11-06

ملک ایک بڑے مقدمے کے فیصلہ کے انتظار میں ہے۔پندرہ نومبر2019سے قبل بابری مسجد کا فیصلہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے آنے والا ہے۔ملک اور اہل ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظریں اس اہم مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے بے تاب ہیں۔کیونکہ ایک جانب مسلمانوں کا یقین ہے کہ مسجد جس جگہ بنائی گئی تھی وہاں کوئی مندر نہیں تھا ۔اس کے باوجود ہندوئوں کی عام اکثریت کو گزشتہ ستر سال سے اور عموماً اس سے کچھ زائد عرصہ سے آج تک یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ مسجد کے مقام پر 1528میں ایک عظیم مندر تھا جسے توڑ کر مسجد بنائی گئی ۔ اِنہیں میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ اُسی مقام پر رام چندر جی پیدا ہوئے تھے۔برخلاف اس کے واقعہ یہ ہے کہ مسجد 1528میں یعنی 936ہجری میں ایودھیا میں بابرکے ایک کمانڈر میر باقی نے بنوائی تھی۔اُس مسجد میں 1528سے لے کر 1949تک لگاتار نماز ہوتی رہی ۔نیز واقعہ یہ بھی ہے کہ ایودھیا صرف ہندوئوں کے لیے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں،بودھوں اور جینیوں کے لیے مقدس جگہ رہی ہے ۔یہاں تک کہ سکھوں کا بھی دعویٰ ہے کہ ان کے کچھ خاص گورودوارے اورمذہبی پہچان بھی یہاں سے وابستہ ہے۔تو یہ کہنا کہ مخصوص طور پر ایودھیا صرف ہندوئوں کے لیے مقدس مقام رکھتا ہے ،یہ صحیح نہیں ہے۔موجودہ دور میں بھی ایودھیا میں بابری مسجد کے علاوہ کئی مساجد اورقبرستان ہیں۔ یعنی مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ابھی بھی وہاں آباد ہے۔

پہلی بار یہ تنازع 1855میں پیدا ہوا۔اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے بابری مسجد کی مقام پر مندر ہونے کی بات یا اس مقام پر رام چندر جی کی پیدائش کی بات،کبھی نہیں کہی گئی تھی۔لیکن انگریزوں نے اپنے gazetteerمیں یہ کہنا شروع کیا کہ بعض ہندو یا ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ رام چندر جی اسی مسجد میں پیدا ہوئے تھے۔اور پھر اتالوی ،فرینچ،چائنیز اور جیپنیز سیاحوں نے اپنے سفر ناموں میں یہ بات کہی ہے کہ یہاں کے بعض ہندو یہ دعویٰ کرتے ہیں یہی جنم بھومی ہے اور مسلمانوں نے مندر کو توڑ کر مسجدتعمیر کی ہے۔وہیں 1885میںنرموہی اکھاڑے کی جانب سے،ان کے مہنت، رگھوور داس نے، جو مسجد کے باہر چبوترے پر پوجا کیا کرتے تھے، فیض آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک سب جج کی عدالت میںمقدمہ دائر کیا کہ یہاں پر ہمارے شردھالو آتے ہیں ،بارش وبرسات میں اورسردی و گرمی میںان کو پریشانی ہوتی ہے تو ہمیں چبوترے پر ایک شیڈ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔یہ مقدمہ ایک ہندو ،برہمن جج کی عدالت میں دائر کیا گیا تھا جن کا نام جے کشن تھا ۔جج نے اس مقدمے کو یہ کہ کر خارج کر دیاکہ چبوترے کی پشت پر ،بالکل نزدیک مسجد ہے،جہاں مسلمان پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں،یہاں اگر بھجن کیرتن کی اجازت دی جائے گی،تو اس سے نمازیوں کی نماز میں خلل پڑے گا،اس لیے ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے۔پھر وہ مقدمہ اگلی عدالت میں چلا وہاں بھی اسے خارج کر دیا گیا۔اور یہ کہا کہ اس چبوترے پر نرموہی اکھاڑے کو پوجا کا حق تو حاصل ہے لیکن مالکانہ حق نہیں ہے۔ٹائٹل ان کا نہیں ہے،چبوترے پر ٹائٹل بابری مسجد کاہی ہے۔اس کے بعد ایک وقفہ گزرا اور 22؍دسمبر1949کی رات میں چند شر پسندعناصر نے چبوترے پر سے مورتیاں اٹھا کر،جبکہ مسلمان نماز پڑھ کر،تالا لگاکر چلے گئے تھے، مسجد میں داخل کردیں اور جب مسلمان فجر کی نماز پڑھنے آئے تو وہاں پر تنازع ہو گیا کہ یہاں پر رام پرکٹ ہو گئے ہیں،آپ نماز نہیں پڑھ سکتے۔وہاں اس وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ،کے کے نائرتھے ،انہوں نے اس میں مداخلت کی اور کہا کہ یہ جگہ متنازع ہو گئی ہے،اس لیے عدالت کا فیصلہ جب تک نہ آئے ،ہم اس میں تالا لگادیتے ہیں،اور تالا لگادیا گیا۔پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور پہلا مقدمہ 1950میں گوپال وشارد کی طرف سے ہوا،جس میں انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں پوجا کا حق ملنا چاہیے۔پھر مزید دو اور مقدمے ہندوئوںکی طرف سے داخل کیے گئے اور چوتھا مقدمہ 1961میں سنی وقف بورڈ کی جانب سے مسلمانوں نے داخل کیا۔اس کے بعد یکم فروری 1986میں عدالت کے فیصلہ کے ذریعہ ،جبکہ جس نے مقدمہ دائر کیا تھا وہ کوئی مقدمہ میںفریق نہیں تھا ،اس نے یہ کہا کہ یہ جو تالا لگایا گیا ہے ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اسے کھولا جائے اور ہم کو مورتیوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔جج نے کسی بھی فریق کو نہ ہندوئوں کو اور نہ ہی مسلمانوں کو اس کی اطلاع دی کہ اس طرح کا کوئی کیس ہمارے یہاں فائل ہوا ہے،اور فیصلہ سنا دیا۔جب مسلمانوں کو یہ معلوم ہوا تو محمد ہاشم جو ایودھیا میں رہتے تھے ،اور اس مقدمہ میں ایک فریق تھے ،ان کی طرف سے یہ درخواست لگائی گئی کہ ہمیں سنا جائے اور ہمیں سنے بغیر آپ کوئی فیصلہ نہ دیں،لیکن اس درخواست کو مسترد کر دیا گیااور شام پانچ بجے یہ فیصلہ سنا دیا گیا کہ تالا کھول دیا جائے،تالا غلط لگایا گیا ہے اورپوجا کی اجازت دی جائے۔

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں اس وقت ریاست میں اور مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی،گووند ولب پنتھ ریاست میں وزیر اعلیٰ تھے۔اور جب تالا کھولا گیا اس وقت راجیو گاندھی کی سرکار مرکز میں تھی اور ریاست میں بھی کانگریس ہی برسراقتدار تھی۔وہیں جب تالا کھولا گیا تو بہت بڑے پیمانے پر دوردرشن کے ذریعہ اس کی تشہیر کی گئی کہ رام جو اب تک بند تھے ،قید میں تھے ،ان کو کھول دیا گیاہے اور اب ان کے درشن ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر پورے ملک کے مسلمانوںکو پتہ چلا ہے کہ ایسا مسئلہ فیض آبادمیںچل رہا تھا جہاں ایک مسجد پر قبضہ کرکے مورتیاں رکھ دی گئیں اور اب وہاں باضابطہ پوجا کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔1989میں کانگریس کے ذریعہ سے وہاں شیلانیاس کروایا گیا۔اور اس شیلا نیاس کے سلسلے میں بھی کہا گیا کہ یہ شیلا نیاس متنازع زمین پر نہیں ہے۔لیکن بعد میں عدالت کے فیصلہ سے یہ معلوم ہوا کہ وہ شیلانیاس متنازع زمین پر ہی تھا۔1986میں بی جے پی نے پہلی بار اس ایشو کو اپنے ہاتھ میں لیا۔وشو ہندو پریشد اور بی جے پی اس معاملہ میں سامنے آئیں۔1989اور1991میں پورے ملک میں سومناتھ سے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی گئی ۔اسی دوران مظفر پور ،بہار میں اڈوانی جو اس یاترا کو لیڈ کر رہے تھے ،گرفتار کر لیا گیا۔لیکن اس مسئلہ کو ملکی سطح پر ایشو بنانے میں نہ صرف وشو ہندوپریشد،بی جے پی نے کردار ادا کیا بلکہ کانگریس بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔1989میں ایک اور مقدمہ فائل کیا گیا اور یہی وہ مقدمہ ہے جس نے اس مسئلہ کو اوراس پورے کیس کو مولڈ کرنے کا کردار ادا کیا۔1989تک کسی مقدمہ میں یہ دعویٰ کہیں نہیں کیا گیا تھا کہ یہی رام جی کی جنم بھومی ہے۔اور یہ جو مسجد کے بیچ کا گنبد ہے ،یہیں رام پیدا ہوئے تھے۔1989میں رام جنم بھومی نیاس ،جو وشوہندوپریشد،بی جے پی اور وہاں کے مقامی سادھوئوں نے مل کر بنایا تھا،نے ایک مقدمہ فائل کیا ۔اور اس مقدمہ میں یہ بات کہی گئی کہ یہ جگہ رام کی جنم بھومی ہے،یہاں رام پیدا ہوئے تھے،اور یہ ہمارا عقیدہ وآستھا ہے۔یہ آستھا کی بات 1989میں کی گئی ، اس سے پہلے اس جگہ کے لیے آستھا کی بات نہیں کہی گئی تھی۔چاہے گوپال وشارد نے کیس دائر کیا ہویانرموہی اکھاڑے نے کیس درج کیا ہو۔ نیز 1992میں جبکہ مرکز میں کانگریس کی حکومت اور ریاست اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی، بابری مسجد شہید ہو گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے(ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ،کنوینربابری مسجد کوآرڈینیشن کمیٹی، کی تقریر سے ماخوض اقتباسات)۔اور اب ،جبکہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے فیصلہ آیا ہی چاہتا ہے تو مسلمانوں کے جملہ اکابرین ملت نے جو شروع سے اب تک نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی بات کہتے آئے ہیں بلکہ اس موقع پر بھی ملک و قوم کے مفاد میں امن و امان کی بالا تری کے لیے ہرممکن سعی کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے نتائج و اثرات کو ملک کی تعمیر و ترقی کے تناظر میں مثبت نظر سے دیکھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔نیزبلا امتیاز مذہب و فرقہ ہندوستانیوں کو خصوصی طور سے متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ،چاہے جس شکل میں بھی آئے اس کا ماننا ضروری ہے۔ساتھ ہی صبر و تحمل اور عزم و حوصلے کے ساتھ ہر طرح کی اشتعال انگیزی اور بہکاوے سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔لہذا اس اہم ترین اپیل پر ہر ہندوستانی کو عمل کرنا چاہیے،یہی ہم سب کے بہتر مستقبل کی ضامن ہوگی،ان شاء اللہ!


ای پیپر