دارالحکومت پر سیاسی سموگ کے سائے
06 نومبر 2019 2019-11-06

پاکستان میں احتجاج کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روایت کا آغاز بھٹو دور سے ہوا ۔ جب ملک کے طول و عرض میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے اقتدار سے دست کشی اختیار کر لی۔ بھٹو کا ایجاد کردہ یہ ہتھیار چند سال بعد خود ان کے خلاف استعمال ہوا جب تحریک نظام مصطفی نے احتجاج کی شکل اختیار کر لی۔ یہاں فرق صرف یہ تھا کہ فوجی جرنیل عوامی احتجاج کے آگے سرنڈر کر گیا تھا ۔ مگر سیاسی لیڈر جس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے اس نے احتجاج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر ان دونوں احتجاجوں اور بعد میں آنے والے احتجاج اور مارچ پروگراموں میں بڑا واضح فرق ہے یہ احتجاج عوام کے اندر سے شروع ہوئے اور آتش فشاں بن گئے۔ مگر 80 کی دہائی سے احتجا ج اور مارچ کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں پارٹیاں مظاہرین کے کھانے اور ٹرانسپورٹ اور خرچوں کو اپنے ذمہ لینے کے عمل کا آغاز کر چکی تھیں۔ آج کے احتجاج سپانسرڈ ہوتے ہیں۔ جس میں ایم پی اے اور ایم این اے کے ٹکٹ ہولڈرز اور امیدواروں کو ٹاسک دیا جاتا ہے کہ آپ نے اتنے بندے لے کر آنے ہیں ساری سیاسی پارٹیاں اس روایت پر کاربند ہیں۔ اس تمہید بیان کرنے کا مقصد اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کی مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالنا ہے ۔ پی ٹی آئی کے 2014 ء کے دھرنے اور جے یو آئی کے اس حالیہ دھرنے میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں دفعہ دھرنا دینے والوں کی اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں سیاسی شعور کا لیول اتنا بڑھ گیا ہے۔ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے اور اس سے بھی بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ کے پی کے میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو ہر دھرنا بردار کے لیے افرادی قوت کا بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ آزادی مارچ دھرنا میں شریک ہونے والوں کی اکثریتی تعداد نو جوانوں کی ہے جو یا تو مدرسوں کے لے پالک ہیں یا بے روز گار ہیں اور نصف سے زیادہ وہ ہیں جو پہلی دفعہ اسلام آباد آئے ہیں جو Free tour سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ پارکوں میں جھولے جھولتے ہیں ڈانس کرتے ہیں ( جی ہاں ڈانس تو ڈانس ہوتا ہے یہ خٹک ڈانس ہو یا ڈسکو ڈانس ) یا پھر اپنے بچپن کی یاد تازہ کرنے کے لیے آنکھ مچولی کھیل کر اپنا ٹائم پاس کرتے ہیں۔

دھرنا سیاست کا تاریخی پہلو یہ ہے کہ حکومتیں مظاہرین کے اعداد و شمار سے نفسیاتی طور پر متاثر ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد کوئی حکومت یہ رسک نہیں لیتی کے ورغلا کر لائے گئے نا سمجھ افراد ریاستی گولیوں کا نشانہ بن کر دھرنا سپانسرز کے لیے ایندھن کا کام کریں۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو پتہ ہے کہ وہ اپنے دھرنا میں پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہائوس پر حملے کی بات کیا کرتے تھے۔ اس لیے انہیں یہ حق دوسروں کو بھی دینا چاہیے۔ اسلام آباد کے دھرنا سپیشلسٹ جانتے ہیں کہ یہ بہت مہنگی انویسٹمنٹ ہوتی ہے جس کے ڈوبنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ گزشتہ 20 سالوں میں آج تک کوئی حکومت دھرنے کی بناء پر گھر نہیں گئی البتہ دھرنا حکومت کو کمزور کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ جس کی مثال وکلاء تحریک کا جنرل پرویز مشرف کے خلاف احتجاجی پروگرام ہے۔

اب آزادی مارچ دھرنے کی طرف آتے ہیں اس دھرنا کا معروضی جواز تلاش کرنا بہت مشکل ہے ملک میں ایسے کوئی غیر معمولی حالات یا واقعات نہیں تھے جن کی بناء پر دھرنا کو فرض کفایہ قرار دیا جا سکے۔ جس پارٹی نے دھرنے کو جنم دیا وہ انتخابات میں 9 سیٹوں پر جیتی تھی۔ جس بات کو دھرنے کا جواز بنایا گیا وہ جعلی انتخابات تھے مگر دھرنا دینے والی پارٹی آج تک نہ تو الیکشن کمیشن میں گئی اور نہ ہی کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ اور نہ ہی ان کے ممبران نے حلف اٹھانے سے گریز کیا یا اس کے بعد اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیا۔ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے دھرنے میں فرق صرف یہ تھا کہ پی ٹی آئی روز اول ہی سے 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کر رہی تھی جبکہ موجودہ دھرنا محض لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ تھا کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

یہ دھرنا اس لحاظ سے ایک سیاسی کرشمہ ہے کہ ن لیگ جس نے عام انتخابات میں 85 سیٹیں حاصل کیں اور پیپلز پارٹی جن کو 65 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں وہ خود تو حکومت گرانے سے گریزاں رہے مگر مولانا فضل الرحمن کے نعرہ مستانہ پر لبیک کہنے لگے انہیں معاملے کا احساس اس وقت ہوا جب چوہدری شجاعت حسین نے مولانا کو اس بات پر مبارکباد دی کہ آپ نے 9 سیٹوں کے بل بوتے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی دیو ہیکل جماعتوں کو اپنی امامت پر راضی کر لیا گویا ن لیگ اور PPP نے تسلیم کر لیا کہ مولانا فضل الرحمن ان سے بڑے لیڈر ہیں اور قیادت کا حق ان کا ہے ۔ جب سے شجاعت حسین کا بیان آیا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے اندر کھلبلی مچ گئی ہے ۔ اب دونوں پارٹیاں شرمندہ شرمندہ سی تھیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہم نے احتجاج کی حد تک ساتھ دینا ہے دھرنا میں شامل نہیں ہونا۔

جے یو آئی کو اعتراضات ہیں کہ اتحادیوں نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔ ایک تو خاطر خواہ سپانسر شپ نہیں ملی جس کی وجہ سے دھرنے کے شرکاء کی خاطر تواضع میں دقت پیش آ رہی ہے جبکہ پارٹیاں پنجابی محاورے کی قائل ہیں کہ بھوکا بٹیر زیادہ بے جگری سے لڑتا ہے۔ دھرنے کا منافع بخش پہلو جے یو آئی کے لیے تو نظر نہیں آتا البتہ اسلام آباد کے فوڈ سٹورز کی یومیہ فروخت کئی گنا بڑھ گئی بلکہ خوراک کے ذخیرے ختم ہو گئے ہیں اور آٹا گندم چاول سبزی وغیرہ ہنگامی بنیادوں پر منگوایا جا رہا ہے تاکہ قلت پیدا نہ ہوا۔خوانچہ فروشوں کی چاندی ہو گئی ہے ان کا سٹاک روزانہ ختم ہو جاتا ہے ۔ جتنی زیادہ سیل اتنا ہی منافع۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور وزیر اعظم کے بیانات میں واضح تضاد ہے مذاکراتی ٹیم افہام و تفہیم سے بات چیت کرتی ہے مگر وزیر اعظم کا رویہ جارحانہ ہے ۔ اسی طرح فضل الرحمن جب خطاب کرتے ہیں تو ان کا لہجہ اور ہوتا ہے اور جب وہ میڈیا سے بات کرتے ہیں تو اس میں جوش کی بجائے ہوش کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ۔ البتہ دونوں فریق ایک درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں جس کے لیے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کو لایا گیا ہے۔ ویسے اکبر بگٹی اور لال مسجد واقعات میں بھی چوہدری شجاعت حسین Trouble shooter کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ جو بے نتیجہ رہا مگر اس دفعہ ایسا نہیں ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن اور عمران خان دونوں کی سیاست اس لحاظ سے منفرد رہی ہے کہ ان کو کسی بات پر قائل کرنا بڑا مشکل ہے ۔ اس وقت جبکہ دونوں آمنے سامنے ہیں اور سنگین ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں میں جیت کس کی ہوتی ہے ۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کر لے گی مگر مولانا کہتے ہیں کہ استعفیٰ سے کم وہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے ۔ مولانا کمزور وکٹ پر ہیں ان کے دھرنے کو برقرار رکھنے پر روزانہ کروڑوں روپے کا خرچ آ رہا ہے ۔ یہ کون دے گا دھرنا ایک ایسی موم بتی ہے جو لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے اور اس کے گل ہونے سے پہلے پہلے مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ اگر دھرنا فلاپ ہو گیا تو اس سے مولانا کی پارٹی سیاست اور ووٹ بینک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اور یہ ان کی سیاست کا رخ تبدیل کر سکتا ہے ۔ حکومت کو سوچنا ہو گا کہ لال مسجد واقعہ کے رد عمل کے طور پر تحریک طالبان پاکستان وجود میں آئی تھی۔ اور جب وہ بن گئی تھی تو پھر لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے تابع نہیں تھی۔ بلکہ وہ مکمل طور پر ایک الگ جماعت تھی جس نے اپنے سارے اہداف بدل لیے تھے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جس بناء پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی دھرنے کی حمایت سے گریزاں ہیں۔

شروع میں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ مولانا کس کی شہہ پر یہ سب کرنے جا رہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں آپ کو یاد ہو گا کہ ان کے ساتھ بعد میں شامل ہوئی تھیں مارچ کا فیصلہ خالصتاً ان کا اپنا تھا ۔ ماہرین فلکیات مولانا کے ارد گرد کے ماحول سے قیاس آرائی کر رہے تھے کہ اشارہ کہاں سے ہوا ہے ۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ مولانا شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی طرح پر ایک سے گیم کر رہے ہیں مگر آہستہ آہستہ یہ تاثر دم توڑ رہا ہے ۔ اسی اثناء میں موسمیات کی جانب سے اسلام آباد میں بارش کی پیش گوئی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ بارش مولانا صاحب کا سب کچھ بہا کے لے جائے۔ مگر جو سیاسی سموگ اسلام آباد پر طاری ہے اسے کلیئر ہونے میں وقت اور محنت درکار ہو گی ۔


ای پیپر