آزادی مارچ کے معصوم شرکاء
06 نومبر 2019 2019-11-06

مولانا کے آزادی مارچ کو اسلام آباد میں بیٹھے ایک ہفتے سے زائد کا وقت گزر گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مولانا کی امیدوں پر پورا اتر سکیں یا نہیں اس کا تعین مولانا کی صوابدید ہے مگر یہ بات واضح ہے کہ مولانا کے دھرنے سے ن لیگ نے جتنے فائدے اٹھانے تھے اٹھا لیے۔ پیپلز پارٹی بھی اب پیمانہ برابر کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے اور مولانا ابھی تک سمجھ نہیں سکے یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ انہیں کس نے اورکس طریقے سے استعمال کیا ہے ۔میاں نواز شریف کی 2 ماہ کی اور مریم نواز کی مشروط ضمانت کے بعد میاں شہباز شریف کسی کو اپنی محنت پر پانی پھیرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔خبر ملی ہے کہ ن لیگ کے پارٹی اجلاس میں شہباز شریف نے واضح طور پر آزادی مارچ سے لاتعلقی اختیار کرنے کی بات کی تو چند رہنماؤں نے شہباز شریف سے سوال پوچھ لیا کہ ن لیگ کو آزادی مارچ میں شرکت نہ کرنے کا کیافائدہ ہو گا؟شہباز شریف نے کہا کہ مجھے نواز شریف کی صحت سے زیادہ کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔اس پر لیگی رہنماؤں نے یہ بھی پوچھ لیاکہ آخر آزادی مارچ میں شرکت سے نواز شریف کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟خبر تو یہ بھی ہے ضمانت کے دن سے آج تک میاں نواز شریف سے کسی لیگی رہنما کی ملاقات نہیں ہوئی ۔اور نواز شریف کا جو بھی پیغام کارکنوں یا پارٹی رہنماؤں تک پہنچتا ہے و ہ شہباز شریف کے ذریعے پہنچتا ہے ۔ن لیگ نے آزادی مارچ سے جتنے فائدے اٹھانے تھے اٹھا لئے،یہ موقف اس لئے بھی درست ہے کہ اب شہباز شریف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق صدر آصف علی زرداری کو بہترین علاج کی سہولیات مہیا کرنے کی مہم چلاتے نظر آ رہے ہیں ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنی پارٹی اور میاں نواز شریف پر شہباز شریف کا مکمل کنٹرول ہے ۔اس طرح آزادی مارچ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا کردار تو تقریباََ ختم ہو چکا ہے اب رول ہے تو مولانا کا اور انکے معصوم شرکاء کا ۔ایک طرف عمران خان ہیں کہ کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں اور دوسری طرف مولانا ہیں جومیں نہ مانوں کی ضد پکڑ کر عمران خان کی ہی شبیہ بنے بیٹھے ہیں ۔حکومت کی جانب سے واضح موقف پیش کر دیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات نو گو ایریا ہیں ۔ایسے میں یہ امید رکھنا بھی بے وقوفی ہے کہ مولانا خالی ہاتھ واپس لوٹ جائیں گے ۔ موجودہ صورتحال کو حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے مبصرین بند گلی قرار دے رہے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کسی ایک دیوار کو توڑنا ہو گا ۔حکومت یا اپوزیشن دونوں ہی تصادم نہیں چاہتے لیکن اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ان حالات میں جوڑ توڑ کے ماہر چوہدری برادران کی خدمات لی جا رہی ہیں ،چوہدری پرویز الہی مثبت نتائج کی امید بھی ظاہر کرہے ہیں لیکن کیسے ؟یہ وہ بھی نہیں جانتے۔ ادھر مولانا بھی پریشان ہیں کہ اب کیا کریں کیونکہ بغیر کسی کامیابی کے اٹھنا انکی سیاسی موت ہے ۔یہا ں تک تو بات ہو رہی تھی سیاسی فائدے یا نقصان کی ۔۔ پس پردہ کس نے کتنا فائدہ اٹھایا؟ کہاں ڈیل ہوئی ؟کون گھاٹے میںرہا ؟ن لیگ کو کیا ملا؟ پیپلز پارٹی کس کوشش میں ہے ؟اورکس کے ساتھ ہاتھ ہو گیا؟ ان سب سوالوں میںایک سیاست دان کی دلچسپی ہوسکتی ہے ، ایک صحافی کو اچھی خبر مل سکتی ہے ، کالم نگار کو تجزیے کے لئے اچھا مواد مل سکتا ہے اور اور کسی گھر میں بیٹھے ناظرین ، سامعین اور قارئین کو حالات حاضرہ میں دلچسپی کی ایک نئی وجہ مل سکتی ہے مگر انکا کیا جو نہیں رکھتے کسی بھی ایسے سوال میں دلچسپی۔جنھیں نا مولانا کی آزادی مارچ سے سروکا ر ہے نہ میاں نواز شریف کے اندرون یا بیرون ملک علاج میں کوئی دلچسپی۔قارئین سمجھ رہے ہونگے کہ میں ایک عام آدمی کی بات کر رہی ہوں جو مہنگائی کی چکی میں پس رہاہے ، نہیں جناب ایک آدمی بھی مولانا کے دھرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ مولانا آزادی مارچ کے کنٹینر پر اس کے حقوق کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔مجھے تو نہ عام آدمی کی فکر ہے نہ کسی سیاست دان کی اور نہ کسی اخبار نویس کی مجھے فکر کھائے جا رہی ہے توبس آزادی مارچ کے ان معصوم شرکاء کی جنھیں اسلام آباد کی پارکس میں بچوں کے جھولوں پر جھولتے دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہی وہ بچے ہیںجنھیں یونیسف اور دیگر عالمی ادارے سکولوں سے باہررہنے والے بچے کہتے ہیں ۔میں نے آزادی مارچ کے شرکاء کی کرکٹ ، کبڈی اور اپنے علاقے کے مقامی کھیل کھیلتے ہوئے ویڈیوز دیکھیں تو گماں ہوا کہ انھیں تفریحی دورے کا جھانسہ دے کر یہاں لایا گیاہے ۔ان معصوم شرکاء کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ کہیں بھی کیسے بھی حالات میں باخوشی رہ سکتے ہیں۔ آزادی مارچ کی کوریج کرنے والے جتنے بھی صحافیوں نے شرکاء سے یہ سوال پوچھا کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں اور انکا اگلا ہدف کیا ہے؟ تو ہر فرد کا ایک ہی جواب ہے کہ جو ہمارے قائدین کاحکم ہو گا ہم وہی کریں گے۔ انھیں اس بات سے کوئی سروکار ہے نہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ انکے اسلام آباد آنے کا مقصد کیا ہے۔

دھرنے کے دوسرے یا تیسرے روز سوشل میڈیا پہ مدرسے کے طالب علم کے والد کی ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس کے مطابق انکے بیٹے کو بغیر اجازت اور بغیر اطلاع دئیے دھرنے میں لے جایا گیا۔میں مولانا فضل الرحمن سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ایک مذہبی رہنما ہوتے ہوئے آپکا ضمیر یہ گوارا کرتا ہے کہ آپ کی اندھی تقلید کرنے والے کارکنوں کو ذاتی مقاصد کے لئے جہاں چاہیں جیسے چاہیں استعمال کریں ؟کیا آپ کا ضمیر یہ گورار کرتا ہے کہ مدرسے کے معصوم طلبہ کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر محض اس لیے ہانکتے رہیں کہ کیونکہ انکے والدین آپ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں ؟مجھے طلبہ کی سیاست میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کیا یہ نوجوان جانتے ہیں کہ یہ کس مقصد کے لئے سیاست میں گھسیٹے جا رہے ہیں ؟مدرسوں میں دی جانے والی دینی تعلیم ہر لحاظ سے دنیاوی تعلیم سے بہترہے مگر کیا دینی تعلیم یہ کہتی ہے آپ لوگوں سے انکا شعور ہی چھین لیں ؟ انکی سوچ پر پابندی لگا دیں ؟کیا دین محمدی نے ہمیں یہ بتایا تھاکہ اپنے امیر یا پیشوا کی اندھی تقلید کرتے رہیں یہاں تک کے وہ آپکو اندھے کنوئیں میں پہنچا دے۔


ای پیپر