تقریب … جس میں نیند کا انتظام تھا
06 نومبر 2019 2019-11-06

میں نے پریشانی میں دستور کے مطابق سر پر ہاتھ رکھا سر کو جھکایا اور معاملے کی تہہ میں پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔بلاشبہ گہرائی میں جانے اور معاملوں کو سلجھانے کا یہ اچھا طریقہ ہے۔یہاں اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام ایک تقریب تھی جس میں اردو ادب خاص طور پر تنقید کے حوالے سے ڈاکٹر دھیان چند کی وفات پر ان کی شخصیت (متنازعہ) اور اردو ادب کے حوالے سے ان کی خدمات زیر بحث تھیں۔محفل میں کچھ لوگ اسی انداز میں ... سوچنے کے انداز میں عینک (کالے رنگ والی ... سن گلاس) لگائے بیٹھے تھے۔ نیند تو مجھے بھی آرہی تھی ... دماغ کو جگانے کی کوشش کرتا تو آنکھیں بند ہونے لگتیں،آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتا تو دماغ مزید سونے لگ جاتا.... بڑی مشکل پیش آرہی تھی....

سوچا نہا لوں یا کم از کم منہ دھو لوں... عابد کمالوی صاحب نماز کے لئے وضو کر کے نماز پڑھ کے دوبارہ اپنی سیٹ پر براجمان ہو چکے تھے مگر نیند کا غلبہ ان پر بھی چھایا ہوا تھا ۔ہاں البتہ ایک بزرگ شاعرہ جب جان بوجھ کر یا شاید انجانے میں زور سے کھانستی تو ان کی آنکھ کھل جاتی ... ایک آنکھ کا کھل جانا بھی عجیب منظر پیش کرتا ہے۔آپ آنکھیں بند کر کے ذرا میری اس کیفیت پر غور کریں.. آپ کو مزہ آئے گا ... خیر جب ذرا نیند پر قابو پانے میں کامیاب ہوا ، تو میں نے غور کیا کہ یہ جو کالی عینک لگائے سوچنے کے انداز میں بیٹھے ہیں . .. ان کی اصل کیفیت کیا ہے ... میری ہنسی چھوٹ گئی .... وہ سب بھی پچھلی رات ٹھیک سے نیند پوری نہ لینے پر .... پریشان تھے...اور اس تقریب کو غنیمت جان کر دو دو مزے لے رہے تھے.... تقریب میں حاضری بھی اور نیند ... وہ بھی میٹھی .... پوری کر رہے تھے ۔ایک آدھ دفعہ تو مجھے احساس ہوا کہ اگر یہ ادیب و شاعر ’’ خواب خرگوش‘‘ کے مزے لینے لگ گئے .... تو ان کے خراٹے کہیں سٹیج پر بیٹھے صدر محفل کو بھی نہ جگا د یں.... شکر ہے انہیں اپنے خراٹوں پر پورا پورا قابو تھا ۔اس دوران سٹیج سے اعلان ہوا کہ متنازعہ ہی سہی ... ڈاکٹر دھیان چند جین نے اردو ادب کی خدمت تو کی ہے ... اور اردو ادب کے ہندو قارئین ان سے ناخوش بھی ہیں۔اس لئے آنجہانی کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے....

یہ ایک منٹ کی خاموشی بھی خوب رہی ... اس دوران واقعی خاموشی تھی ... اس لئے کالی عینک والوں نے اس قہر آلود خاموشی سے خوب فائدہ اٹھایا .... اور وہی جو میرا خوف تھا . ... ماحول پر وہ کیفیت طاری ہو گئی ... یعنی ایک منٹ کی خاموشی کو لوگوں نے جہاں آنجہانی ڈاکٹر دھیان چند جین کے لئے بطور خراج عقیدت استعمال کیا وہیں... نیند بھی پوری کرنے لگے ... اور باقاعدہ خراٹے بھی جاری ہو گئے ... یہ نہایت ’’ خوبصورت منظر ‘‘ دیکھ کر میں ہنسنے لگا ... میرے ساتھ بیٹھی ایک ’’نہایت بزرگ‘‘ خاتون ادیب بھی ہنسنے لگیں . .. وہ بولیں... کیا خوبصورت اور اکثر کیسوں میں ’’ خوفناک ‘‘خراٹے ہیںمجھے تو مظفر بہت مزہ آرہا ہے ... ایک مشہوراخبار کی مشہور کالم نگار بھی چھوٹی سی ’’ خراٹی ‘‘ لے رہی تھیں۔کچھ میوزیکل خراٹے بھی تھے ... یوں لگ رہا تھا جیسے بہت بڑے غلام علی خا ن کوئی ٹھمر ی سنا رہے ہوں ۔اگر غلام حسین ساجد کا عالی شان مضمون نہ ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا ؟خاموشی تو ایک منٹ میں ختم ہونی تھی ... مگر ہم چونکہ مزے لے رہے تھے .. اس لئے ہم نے اسے دو تین منٹ تک لمبا ہونے دیا ... اس دوران چائے بسکٹ دور سے آتے دکھائی دیئے ... میں نے اور بزرگ خاتون نے فیصلہ کیا کہ یہ جو ’’ ہو کا عالم‘‘ طاری ہے اس میں ہمیں اب رکاوٹ بن جانا چاہیے۔اور پھر ہم دونوں یکدم بول اٹھے ’’ چائے آگئی‘‘.... ہیں چائے آگئی ‘‘ .... ایک بزرگ شاعر ہڑ بڑا کر اٹھتے ہوئے غیر ارادی طور پر بولے .... کدھر ہے ... چائے .... ایک بزرگ ادیب نے اٹھتے ہوئے پوچھا .... صاحب صدر بھی جاگ چکے تھے .... وہ پراپر انداز میں سوئے نہیں تھے ... بس ذرا محفل میں موجود دوستوں کا ساتھ دے رہے تھے ۔آپ نے اخبارات میں اسمبلی ہال میں ارکان کو سوتے ہوئے دیکھا ہو گا .......

اسکولوں کالجوں کی تقریبات میں ہم نے بڑی تعداد میں لوگوں پر یہ کیفیت طاری ہوتے دیکھی۔ہمیں کئی محفلوں میں بطور کمپیئر فرائض سرانجام دینے کو کہا گیا .... مگر ہم نے معذرت کر لی .... کہ بطور حاضرین لوگ سو جائیں... چاہے خراٹے لیں مگر وہ جو کمپیئر بن جائیں تو پھر کیا ہو گا .... کیونکہ مائیک پر چلنے والے خراٹوں سے لوگ ڈر بھی سکتے ہیں۔

ہم ایک بس سٹینڈ پر کھڑے تھے ... بس کی روانگی کا اعلان ہوا اور اعلان کرنے والی مائیک بند کرنا بھول گئی .... پھر سینکڑوں لوگوں نے جو گفتگو لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے سنی .... آپ بھی ملا حظہ کریں۔

لڑکی ....’’ کمینے .... یہاں میں نے چائے رکھی تھی‘‘

مرد .... ’’ چائے تو نہیں تھی .... کپ تھا البتہ‘‘

لڑکی ’’ ایک منٹ کی انائوسمنٹ کے دوران تم غٹا غٹ چائے پی گئے ہو؟‘‘

ایک اور مرد .... ’’ یار صنوبر خان ... بھا ئی آپ نے چائے پی لی .... ‘‘

مرد .... ہاں.... ہاں تم جیلس کیوں ہو رہے ہو ؟

ایک اور مرد .... یار .... صنوبر بھائی میں بتانے آیا تھا کہ چائے کا یہ کپ کوئی نہ پئے.... کیونکہ میں نے غلطی سے اس میں سیگریٹ بجھایا تھا جو ’’ باس ‘‘ کا بلاوا آجانے سے اسی میں گر گیا تھا .... اور میں گرم چائے ہونے کے باعث وہ آدھا سیگریٹ نکال نہ سکا ... سوری .... بہت سوری .... ہزار بار سوری .... (شور ... قہقہے .... بہت سی آوازیں) اور پھر مائیک بند ہو گیا .... ؟ میں نے تقریب کے اختتام پر دوستو ں ( ادیبوں شاعروں) کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ آئندہ ہم ایسی تقریب میںچھوٹے سائز کے سرھانے ( تکیہ) لے کر جایا کریں گے ... تا کہ کرسی پر سونے سے گردن کو نقصان نہ ہو اور الارم والی گھڑی بھی کہ چائے کے ٹائم پر وہ الارم والی گھڑی ہمیں جگا دے کہ ایسی تقریبات میں لوگ چائے پر ٹوٹ پڑتے ہیںاور ایک سے ڈیڑھ منٹ کے اندر بسکٹ ختم ہو جاتے ہیں اور خالی چائے پینا.... کوئی اچھی بات نہیں.... بندہ ایک تو ادبی تقریب میں شرکت کرے اور بغیر ’’ بسکٹ کے چائے پیئے‘‘۔


ای پیپر