کیا مولانا ہار گئے؟
06 نومبر 2019 2019-11-06

مولانا فضل الرحمان اپنے آزادی مارچ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ لینے گئے تھے اور اگر اس یک نکاتی ایجنڈے کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو جنگ مولانا نے شروع کی تھی، جس کے لئے ا نہوں نے شہر شہر جا کے مورچا لگایا تھا اور پھر جان دینے تک کے لئے تیار کارکنوں کی ایک فوج کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھااس میں وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ پہلے خبر آئی کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے مارچ اور جلسے میں ساتھ دینے کے بعد ڈی چوک کے مجوزہ دھرنے میں بیٹھنے سے صاف انکا رکر دیاتھا اوراس کے بعد مولانا کے خطاب میں گرمی کی شدت بھی کم ہوئی لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اپنے مارچ کے دس دنوں بعد ہی جنگ ہار چکے ہیں تو آپ ان کے بارے کیا کہیں گے جو سوا سو دنوں سے بھی ایک دن زیادہ تک بیٹھے رہے تھے اور تمام پوشیدہ قوتوں کی حمایت کے باوجود اس وقت کے وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں لے سکے تھے اور پھر ایک انتہائی المناک واقعہ ان کی فیس سیونگ بن گیا تھا۔

یہ سوال بار بار کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی فیس سیونگ کیا ہو گی کیونکہ حکمران جماعت استعفے کے علاوہ تمام مطالبات پر بات کرنے کے لئے تیار ہے تو ممکنہ طور پر دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کی شفافیت بارے ایک مقررہ مدت میں تحقیق اور انتخابات میں دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم کے استعفے کا وعدہ ایک بہتر فیس سیونگ ہوسکتی ہے۔ عام انتخابات میں اپوزیشن کی شکایات پر ایک پارلیمانی کمیٹی قائم ہے جس کی سربراہی پرویز خٹک صاحب کے پاس ہے اور ہمارے اداروں کی ساکھ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں اس وقت پارلیمنٹ کے علاوہ کسی بھی دوسرے ادارے پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور شائد یہی قابل قبول بلکہ مو¿ثر ترین وجہ ہے کہ اس دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن سمیت کسی بھی ادارے سے رجوع نہیں کیا گیا، یہ عدم اعتماد کی بدترین صورتحال ہے۔

ہو سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بہت جلد اسلا م آباد سے واپس آجا ئیں اور ہم میں سے بہت سارے ان پر پھبتی کسیں کہ وہ لینے کیا گئے تھے تو اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ جو اس سے پہلے اسلام آباد قاضی حسین احمد لینے جاتے رہے ہیں یا عمران خان اور ان کے کینیڈین شہریت کے حامل کزن لینے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان انتہائی کہنہ مشق سیاستدان ہیں اور یہ امر کبھی نہ کبھی ضرور کھل کر سامنے آجائے گا کہ انہیں اسلام آباد کا راستہ کس نے دکھایا تھا۔ یہ درست ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام شدید بے چینی کا شکار ہیں مگر یہ بات سب جانتے ہیں کہ حکومتوں کو رخصت کرنے میں صرف یہ عوامل اہم نہیں ہوتے بلکہ یہ عوامل صرف اصل تبدیلی کا چہرہ بنتے ہیں، تبدیلی کا دل، دماغ، ہاتھ اور پاو¿ں کچھ اور ہوتے ہیں، کہیں اور ہوتے ہیں۔ جب میں اس صورتحال کا پاکستان کی سیاسی تاریخ کے طالب علم کے طور پر جائزہ لیتا ہوں تو میرا گمان بڑھتا ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ کے مقاصد کچھ اور بھی ہوسکتے ہیں۔ اس بات سے کون انکا رکر سکے گا کہ مولانا فضل الرحمان نے جو باتیں کی ہیں وہ اس سے پہلے عتاب کا شکار مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی قیادت بھی نہیں کرپا رہی تھی۔

مولانا نے ثابت کیا کہ وہ ایک بہادر شخص ہیں اور رسک لے سکتے ہیں۔ سیاست میں بہادری کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہ آپ کو مرکزی حیثیت عطا کر دیتی ہے۔ میں نے عشروں سے مولانا کی سیاست دیکھی ہے اور وہ کبھی اپنی سیاست میں اتنے آزاد اور خود مختار نہیں ہوئے تھے۔ وہ عمومی طور پر اپنی سواریاں لے کر دوسروں کی گاڑی میں سوار ہوتے رہے ہیں مگر یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں نے ان کی طرف دیکھا ہے اور ان کے قافلے میں اپنے سواروں کو شامل کیا ہے۔ سیاست میں مرکزیت کا یہ حصول بہت اہم ہے۔ مولانا اس سے پہلے متحدہ مجلس عمل بنا کے بھی اہم ہوئے تھے اور انہوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی کو کو خیبرپختونخوا میںا پنی حکومت کے قیام کے لئے کامیابی سے استعمال کیا تھااور پھر وہ دور گزر گیا۔ حکومت کی ایک برس کی بدترین کارکردگی پر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر موثر ردعمل دینے میں ناکام رہیں تو مولانا نے اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھایا اور اپوزیشن کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ جناب عمران خان کی اقتدار سے رخصتی اگلے یا آخری مرحلے کی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے مگر پہلے مرحلے میں جب انتخابی دھاندلی کی تحقیقات شروع ہوں گی تو اس میں نمبر ون پوزیشن پر مولانا ہی بیٹھے ہوں گے۔

ہر دور میں سازشی تھیوریوں کے ذریعے اپنی دکان سجانے والے میرے کچھ باخبر دوستوں کا کہنا ہے کہ مولانا کااصل ٹارگٹ افغانستان ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت قائم ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان کا افغانستان میں اثر ورسوخ ختم ہو کے رہ گیا ہے ،وہ مبینہ طور پر امید کر رہے تھے کہ مولانا سمیع الحق کے بعد افغانستان میں ان پر ہی انحصار کیا جائے گا مگر ان کی امیدیں پوری نہیں ہوسکیں،یہ مارچ اور دھرنا دراصل اسی کردار کے حصول کی کوشش ہے۔میں چونکہ محلاتی سازشوں پر زیادہ نہیں لکھتا لہٰذا اس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی دوسری بڑی کامیابی پر آجاتا ہوں کہ انہوں نے جمہوری قوتوں میں قیادت کا خلا محسوس کرتے ہوئے وہ لب ولہجہ استعمال کیا کہ لبرلز بھی چونک گئے۔ وہ لبرل اور سیکولر طبقات جو آئین اور جمہوریت کی بات ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ کرتے ہیں، وہ مولانا کے فین ہو گئے حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جو مولوی کے نام سے بھی بدکتے تھے مگر میں نے لبرلز کی حیرت انگیزتعداد کو مولانا کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ بات مان لینی چاہئے کہ پاکستان کا ووٹر تیزی کے ساتھ بھٹو ، اینٹی بھٹو اور نواز شریف ، اینٹی نواز شریف کے بعد پرو اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ میں تبدیل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پرو اسٹیبلشمنٹ ووٹر کی قیادت اس بڑھاپے میں جناب عمران خان نے سنبھال لی ہے اور پنجاب سے چودھری برادران ان کے ساتھ ہیں ۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹر کی بھاری اکثریت نواز شریف سے امیدیں باندھے بیٹھی ہے مگران کی جیل اور بیماری نے انہیں محدود کر کے رکھ دیا ہے اور مولانا فضل الرحمان نے اسی خلا کو بھرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان ایک کائیاں سیاستدان ہیں اور میری نظر میں انہوںنے آزادی مارچ کا انعقاد کر کے اپنے پتے بہترین انداز میں کھیلے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی عوامی مسائل پر سٹریٹ پاور کا استعمال نہیں کر سکتیں اور جو لیڈر ( مریم نواز) کر سکتی تھی اسے دوبارہ پابند سلاسل کر دیا گیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے کارکنوں کو بھرپور اندا زمیں متحرک کیا بلکہ حکومت سے ناراض لوگوں کی عوامی سطح پر بھی حمایت حاصل کر لی۔ کیا دلچسپ صورتحال ہے کہ حکومت سے ناراض ہر طبقہ کہہ رہاہے کہ میری بات مانو ورنہ میںچلامولانا کے دھرنے میں۔ جب ایک عام سیاسی تجزیہ کار جانتا تھا کہ ایک مارچ ، جلسے یا دھرنے سے اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا تو یہ بات یقینی طور پر ایک تجربہ کار سیاستدان زیادہ جانتا ہوگا۔ میں نے اس تحریر میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے تمام نظر آنے والے پہلوو¿ں پر بات کی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مارچ کے تمام تر مقاصد وہ ہرگز نہیں تھے جو نظر آ رہے تھے بلکہ وہ جو نظر آ رہے تھے اور جو مطالبات کئے جا رہے تھے وہ احتجاج کا محض چہرہ تھے ، وہ محض بونس تھے، اگر بونس مل جاتا تومولانا فضل الرحمان کے وارے نیارے ہوجاتے مگر اب بھی وہ ناکام نہیں ہوئے۔


ای پیپر