ہم بھی کیا عجیب ہیں
06 نومبر 2018 2018-11-06

ثنا اللہ مستی خیل بھکر سے آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ ثنا اللہ خان مستی خیل سے پہلی ملاقات نصراللہ ملک صاحب کے توسط سے ہوئی مگر پہلی ملاقات میں ایسا لگا جیسے میں کوئی اُن کا دیرینہ دوست ہوں۔ کھُلے دل اور عوامی انداز کے مالک ثناءاللہ مستی خیل اپنے دھیمے اور شائستہ لب و لہجے سے ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی کی سکرین اور اسمبلی کے فلور پہ آپ نے اُنھیں مخالفین پہ کافی گرجتے برستے سُنا ہو گا مگر نجی زندگی میں بہت پُر سکون طبعیت کے مالک ہیں۔کچھ دن پہلے لاہور میں بیٹھے تھے اور کافی کی چُسکیوں پر موسم کی انگڑائیوں سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ میں نے اچانک سوال کیا بھائی جیت کر تحریک انصاف میں ہی شامل کیوں ہوئے اور کیسے بدلیں پاکستان اتنے سالوں سے تو بدلا نہیں، کہنے لگے کہ یار اتنے اچھے موسم میں تم سیاسی سوالوں سے باز نہیں آئے میں اسلام آباد سے لاہور آیا تھا کہ آپ دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا کر تھوڑا ہلکا پھلکا محسوس کروں گا مگر یہاں بھی سیاسی سوالات شروع کر دئیے مگر جو جواب مستی خیل صاحب نے دیے وہ میرے لئیے نہایت متاثر کُن تھے۔پہلے سوال کا جواب دیا کہ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیںاور آزاد حیثیت سے الیکشن تو جیت لیاجو کہ میرے علاقے کی عوام کا مجھ پر اعتماد ثابت کرتا ہے تو اب مجھے بھی اُن کو پے بیک کرنا ہے جن لوگوں نے مجھے اپنے اعتماد اور ووٹ سے ممبر قومی اسمبلی منتخب کروایا ۔ کہنے لگے کہ میں اس سے پہلے ق لیگ اور ن لیگ میں بھی رہ چکا ہوں مگر تحریک انصاف کی جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ عام آدمی کیلئے کچھ کرنے کی لگن ہے، وہ آدمی جو دن رات محنت کی چکی میں پِستا ہے اور حق حلال کی کمائی کرتا ہے اُس کے لئے کچھ کرنے کا عزم۔ لوگ محنت سے پیسے کماتے ہیں مگر آپ کا نگران اور چوکیدار دیانتدار نہ ہو تو پھر آپکی جمع پونجی محفوظ نہیں رہ سکتی اور سب سے بڑی چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ کرپشن کے خلاف بلا تفریق جنگ ہے۔میں نے فورا دوسرا سوال داغا کہ بھائی حکومت اکیلے کیا یہ سب کر لے گی جب تک عدلیہ، مقننہ اور انتطامیہ ساتھ کھڑے نہ ہوں تو اس سوال کا جواب انتہائی عمدہ تھا کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو ابھی رہنے دو اس تبدیلی کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے رویے بدلنے ہوں گے اس کا آغاز ہمیں نچلی سطح سے کرنا ہو گا اورفرد کی سوچ کو بدلنا ہوگا تبھی ہم ایک صحت مند معاشرہ اور کرپشن سے پاک پاکستان بنا سکتے ہیں۔ جواب آیا کہ کسی بھی انسان یا معاشرے کی ترقی کیلئے کچھ نکات ہیں جو بڑے ضروری ہیں اُن کو سمجھے بغیر کوئی انسان یا معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ پہلی بات تلخ باتوں ، جملوں کو قبول کرنا ۔ ہم لوگوں کو کچھ بھی کہنے سے نہیں روک سکتے مگر ہم اس چیز کو تو کنٹرول کر سکتے ہیں کہ ہمارا رد عمل اور فیڈ بیک کیسا ہے۔ دوسری بات انھوںنے مجھے رِک وارن کی کہاوت سُنائی کہ ©؛ محفوظ زندگی ایک ضائع شدہ زندگی ہے، اللہ نے تمہیں خوف کے ساتھ زندگی کزارنے کیلئے نہیں بنایا؛مستی خیل صاحب گویا ہوئے کہ ہمیں اپنی ناکامیوں کو بھی قبول کرنا چاہیے ناکامی ہمیشہ کامیاب لوگوں کی زندگی میں آتی ہے لیں وہ اپنی ناکامی کو استعمال اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اُن کی کامیابی کا زینہ بن جاتی ہے۔ تیسری اور اہم بات جو مستی خیل صاحب نے کہی جو میرا خیال ہے کہ معاشرے اور فرد کی زندگی میں بہتری کیلئے انتہائی اہم ہے کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہو کہ Nothing in Life is free اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے دیسی انداز میں نیوٹن کے پہلے قانون کا سہارا لیا کہ کس طرح نیوٹن کا پہلا قانون جمود کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی چیز اگر ساکن ہے تو وہ اس وقت تک ساکن ہی رہے گی جب تک اُس پر کوئی بیرونی قوت اثر انداز نہیں ہوگی ۔ اگر ہم اپنی زندگی میں بہتری چاہتے ہیں تو کچھ ضروری قوتیں اور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ آپ کی پوزیشن کو تبدیل کریں اور کامیاب افراد اور معاشروں میں لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ انھیں کیا حاصل کرنا ہے اور وہ پھر اُس کیلئے محنت بھی کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں کرنے کے بعد مستی خیل صاحب تو اُٹھ کر چلے گے مگر میں دیر تک سوچتا رہا کہ ہم کیسے لوگ ہیں ٹیکس نہیں دیتے مگر ہم حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں تعلیم ، صحت اور دوسری سہولیات مفت مہیا کرے۔ ہم حج اور عمرہ کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہیں مگر ایمانداری میں ہمارا کوئی سو کے بعد والا نمبر ہے۔ ہم دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہیں مگر نام ہوتا ہے مدینہ مِلک شاپ۔ مستی خیل صاحب نے صیحح بات کی کہ حکومت اکیلے تبدیلی نہیں لا سکتی اس میں ہم سب کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا اور یہ تبدیلی اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائے گا۔ پچھلے دنوں موٹر وے پولیس نے بھیرہ کے قریب ایک پنکچر لگانے والے کو پکڑا گاڑیوں والے اس کے پاس ہوا بھروانے آتے تھے مگر موصوف تیز دھار آلے سے اُن کے ٹائر ہی کاٹ دیتے تھے یہ ہمارے عمومی رویے کی ایک مثال ہے اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہیں ہم خود اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے مگر ریاست سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے سارے وعدے وفا کرئے اور تعلیم سے لیکر صحت تک سب سہمولیات ہمیں مفت میں دے مگر کبھی ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے ملک کو کیا دیا ۔ اگر ہم نے کچھ نہیں دیا تو پھر توقع رکھنی چاہیے Nothing is free in Life۔


ای پیپر