اذیتیں اور مصلحتیں
06 نومبر 2018 2018-11-06

گزشتہ ہفتہ دو تین روز ”کاروبار زندگی“ مکمل طور پر مفلوج رہا، اب صرف ایک ”کاروبار زندگی“ ہی بڑی مشکل سے چل رہا ہے وہ بھی مفلوج ہو جائے پیچھے رہ کیا جاتا ہے؟ انتہائی اذیت کا سامنا مسلسل دو تین روز تک پورے ملک کے عوام کے اس احساس کے تحت کرنا پڑا کہ یہ اذیت اب شاید ہی ختم ہو گی۔ لوگ اپنے گھروں میں بغیر کسی ”جرم“ کے قید ہو کر رہ گئے، وہ اس احساس میں مبتلا تھے یہ عمر بھر کی قید ہے، خوف بڑھتا جا رہا تھا۔ حکومت دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ وزیراعظم عمران خان ویسے ہی بیرون ملک تھے فوج کی جانب سے یہ تاثر مل رہا تھا وہ ان معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ میڈیا پر پابندی عائد تھی ان حالات میں لوگ خود کو انتہائی بے یارومددگار تصور کر ہے تھے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً واٹس ایپ پر شرپسند مولویوں اور ان کے پیروکاروں کی جو ویڈیوز آ رہی تھیں یوں محسوس ہو رہا تھاجیسے یہ طبقہ ملک پر قبضہ کرنے نکل پڑا ہے۔ اوپر سے معروف عالم دین مولانا سمیع الحق کو گھر میں قتل کرنے کی خبریں آ گئیں، خوف مزید بڑھ گیا۔ اس دوران ممتاز کالم نویس اور منفرد شاعر برادرم منصور آفاق واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کے نوجوانوں سے کہا ”گھر سے نکلو ملک میں مارشل لاءلگنے والا ہے“.... سچ پوچھیں مجھے بھی کچھ ایسے ہی لگ رہا تھا۔ دو تین دن افواہوں کا ایسا بازار گرم رہا اس کے اثرات سے لوگ شاید دیر تک باہر نہیں نکل سکیں گے۔ میں سوچ رہا ہوں بلا ایک بار پھر ٹل گئی ہے کل کلاں یہی ماحول ا ور حالات دوبارہ پیدا ہو گئے جس کے اچھے خاصے چانسز ہیں تو اس کا نتیجہ سوائے مکمل تباہی کے کیا نکلے گا؟ حکمرانوں کو اب اس طرف سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گی عملی طور پر ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جو شرپسند مولویوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیں۔ ہر چوتھے روز ایک تماشا اس ملک میں وہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں حکومت اور ریاست کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دو تین روز کے لئے موبائل فون مکمل طور پر بند رہے ایسے حالات تو اس وقت بھی پیدا نہیں ہوئے تھے جب دہشت گردی عروج پر تھی۔ مذہب کی آڑ میں جو دہشت گردی مسلسل کی جا رہی ہے اللہ جانے اس کا خاتمہ اس ملک سے کب ہو گا؟ کہتے ہیں یہ بیج جنرل ضیاءالحق بو گیا تھا اس کا نتیجہ اس نے بھگت لیا۔ جس انجام سے وہ دوچار ہوا اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے پاکستان اور اس کے عوام اس کا نتیجہ اب تک بھگت رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے تھے اس ملک میں سب سے زیادہ طاقت جرنیلوں کے پاس ہوتی ہے، وہ کچھ بھی کر لیں کچھ بھی کہہ لیں، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ججوں اور جرنلسٹوں کے بارے میں بھی لوگ یہی سمجھے ہیں وہ بہت طاقتور ہوتے ہیں، گزشتہ ہفتے جو تماشا شرپسند مولویوں نے لگایا اس سے اندازہ ہوا اصلی طاقت ان کے پاس ہے.... ایک معروف اور بڑے پھنے خان کالم نویس نے مجھے بتایا اس کے اخبار میں کسی کو جرات نہیں اس کے کالم ایڈٹ کرے، ایڈٹ کرنا تو دور کی بات ہے ایک لفظ تک حذف یا ادھر ادھر نہیں کیا جا سکتا، مگر ان شرپسند مولویوں کے بارے میں جو کالم اپنے اخبار کو اس نے بھجوایا وہ شائع کرنے سے معذرت کر لی گئی۔ اس سے اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان شرپسندوں سے صحافت بھی خوفزدہ ہے۔ اس کا انجام کوئی اچھا نہیں ہوگا.... نئی حکومت قائم ہونے کے بعد دنیا کو پاکستان کا مستقبل بڑا روشن دکھائی دینے لگا ہے۔ خود پاکستان کے عوام بھی یہی سمجھتے ہیں دو چار مہینوں کی تکلیف کے بعد ایک بڑا ریلیف انہیں ملے گا جس کے نتیجے میں ان کی زندگی میں کچھ ایسی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی جن کے خواب کتنے ہی سالوں سے انہوں نے دیکھ رکھے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اس کے لئے دل سے کوشاں ہیں، اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ایک پل بھی ایسا نہیں آیا جب ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی گئی ہو مسائل کا ایک انبار ان کے سامنے تھا اب بھی ہے، مگر جس نیک نیتی سے وہ محنت کر رہے ہیں یہ ہو نہیں سکتا قدرت اس کا پھل اس ملک اور عوام کو نہ دے، وہ کسی ذاتی مقصد یا کاروبار وغیرہ کے لئے سعودی اور اب چین نہیں گئے جیسا کہ ان سے پہلے کاروباری حکمران ہر دوسرے چوتھے روز منہ اٹھا کر چلے جایا کرتے تھے۔ وہ چین اور سعودی عرب پاکستان اور اس کے کروڑوں عوام کی حالت بدلنے گئے۔ ابھی مزید ملکوں کا دورہ بھی وہ کریں گے ان کی نیت صاف ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے سعودی عرب اور چائنہ کے دوروں میں ایسی کامیابیاں انہیں نصیب فرمائیں جن پر صرف وہی لوگ ناخوش ہو سکتے ہیں جنہیں اس ملک کا مفاد ایک آنکھ نہیں بھاتا دنیا کے سامنے پہلی بار پاکستان کا ایسا چہرہ سامنے آیا ہے جو ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہے۔ ان حالات میں پاکستان پر دنیا کا اعتماد دن بدن بڑھنے لگا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی نئے جذبوں سے ہمکنار ہے.... پہلی بار ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں پاکستان اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے عدلیہ کے کچھ ایسے فیصلوں کو بھی حکمران دل و جان سے قبول کر رہے ہیں جو ان کے حق میں نہیں ہوتے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں افواج پاکستان اور سیاسی حکومت اس وقت ایک پیج پر ہیں.... صرف ایک ہی چیلنج ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے حواریوں سے مستقل طور پرکیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے؟ اس ناسور سے جس روز ملک کو مکمل طور پر نجات مل گئی پاکستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ کرپشن سے بھی بڑا ناسور ہے جس نے کرپشن سے بھی زیادہ اس ملک کو تباہ کیا ہے۔ سو وزیراعظم عمران خان کو اس جذبے سے اس کا خاتمہ کرنا چاہئے جس جذبے سے وہ کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں.... اس حوالے سے اللہ نہ کرے وہ بھی مصلحتوں کا شکار ہو گئے پھر جتنی چاہے وہ کوششیں کر لیں جتنے چاہے بیرونی دورے کرلیں پاکستان کسی بھی صورت میں مستقل اور مکمل طور پر اندھیروں سے نہیں نکل سکے گا.... گزشتہ ہفتے ان مذہبی دہشت گردوں اور ان کے حواریوں کی زبان اور ہاتھوں سے ذہنی و جسمانی طور پر جتنے لوگوں کو زد پہنچی قانون کے مطابق اس کی سزا انہیں نہ ملی یہ پاکستان کا ایسا نقصان ہو گا جس کا ازالہ شاید ہی کوئی کر سکے.... اس حوالے سے صرف وزیراعظم یا سیاسی حکومت ہی ہیں آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان پر بھی بہت ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں.... آسیہ کو بری کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق ہی ہو گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اسے جو سزائے موت دینے کا فیصلہ ہوا تھا وہ کس قانون کے مطابق تھا؟ اس ملک میں قانون ایک ہے یا سب کا اپنا اپنا ہے؟ ملک و قوم کا نقصان کرنے والے، لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے والے انتہا پسندوں کو ٹھکانے لگانا انتہائی ضروری ہے مگر آسیہ کو بری کرنے کی ”ٹائمنگ“ اور کچھ دیگر حوالوں سے عدلیہ کے کردار کا بھی جائزہ لینا ہو گا اور یہ جائزہ کوئی اور نہیں صرف عدلیہ ہی لے سکتی ہے۔


ای پیپر