فردوس عاشق اعوان بمقابلہ سونیا صدف
06 May 2021 (11:43) 2021-05-06

سیالکوٹ میں وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان او ر اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے معاملہ نے سوشل میڈیا کو ایک نیا موضوع دیا ہے۔ ایک طرف فردوس عاشق کی حمایت میں لوگ ہیں تو دوسری طرف سونیا صدف کی ستائش بھی کی جارہی ہے۔ ہر ایک کے پرکھنے کا پیمانہ اپنا اپنا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ پھر میں کس کی طرف داری کر رہا ہوں ۔ مجھے ان دونوں سے کوئی ہمدردی  نہیں ہے۔فردوس عاشق اعوان معاون خصوصی ہیں اور وہ عام انتخابات میں اپنا حلقہ ہار چکی ہیں۔ ان کا درجہ معاون خصوصی کا ہے ایک وزیرکا نہیں ہے اور معاون خصوصی کابینہ کا حصہ نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے معاون خصوصی کو انتظامی معاملات میں باز پرس کرنے کا اتنا اختیار نہیں ہے جس قدر اختیار ایک منتخب وزیر کو حاصل ہے۔ ہاں وہ ایک محکمہ کے معاملات کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں اور اگر اس محکمہ کا وزیر موجو د ہے تو اس محکمہ کے تمام معاملات کی ذمہ داری متعلقہ وزیر پر ہے۔ چونکہ اطلاعات کو کوئی دوسرا وزیر موجود نہیں ہے تو بنیادی طور پر اس کے وزارت خود وزیراعلیٰ کے پاس ہے اور ان کے اختیارات کو فردوس عاشق اعوان استعمال کر رہی ہیں۔ چوکے چھکے لگانے کی عادت ان کی پرانی ہے ۔ وفاق سے انہیں پنجاب میں بھیجا گیا ہے کہ وہ میڈیا کے معاملات کو ٹھیک کریںاور انہیں اسی ڈومین رہنا چاہیے نہ کہ رمضان بازاروں اور اتوار بازاروں میں جا کر فوٹو سیشن کرائیں۔ سیالکوٹ چونکہ ان کا حلقہ ہے تو قدرتی طور پر وہاں کی انتظامیہ کے معاملات اورعوام کی مسائل سے ان کی دلچسپی ہو گی۔حیرت اس بات پر ہے کہ وزیراعلیٰ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ 7کلب سے نکل کر باہر دیکھیں کہ عوام کس حال میں ہیں اور معاون خصوصی دن رات عوام میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے محکمہ کی طرف توجہ دیں اور دوسرے مسائل کو وہ لوگ دیکھیں جن کی یہ ذمہ داری ہے۔ دوسروں کا بوجھ وہ اپنے کاندھوں پر نہ ڈالیں۔ محکمہ اطلاعات میں ہی بہت سے کام ہیں جو ان کی توجہ چاہتے ہیں۔ جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب وہ جتنی مرضی صفائیاں پیش کریں مگر اس واقعہ کی وجہ سے حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب اگر سونیا صدف اپنے رویے کی معافی بھی مانگ لیں تو سوشل میڈیا کے لوگ اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو ں گے اور یہی سمجھا جائے گا کہ شاید اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ یہ بھی حیرت ہے کہ چیف سیکرٹری کو اس معاملہ کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے تھا مگر انہوں نے بھی سیاستدانوں کی طرح پوائنٹ سکورنگ کی اور اپنا وزن اسسٹنٹ کمشنر کے پلڑے میں ڈال دیا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس معاملہ کی مکمل انکوائری کراتے۔فردوس عاشق اعوان نے جو زبان استعما ل کی ہے اسے سب نے دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے۔ بادی النظر میں یہ معاملہ گلے سڑے پھلوں کا نہیں ہے معاملہ کچھ اور ہے۔ سوشل میڈیا کے صارفین سونیا صدف کی تصاویر لگا رہے ہیں کہ انہوں نے کئی گودام اور دکانیں سیل کی ہیں اور ان میں کوئی گودام فردوس  عاشق اعوان کے کسی عزیز کا بھی تھا۔ اس طرح کا تاثر بھی شاید درست نہ ہو مگر جس طرح سونیا صدف کی تصاویر شیئر کی گئی اس کا مقصد یہی ظاہر کرنا تھا کہ معاملے کو کوئی اور رخ دیا جائے۔

بنیادی طور ہر انتظامیہ رمضان اور اتوار بازار لگاتی ہے تو وہاں کے معاملات کی براہ راست ذمہ دار بھی ہوتی ہے۔ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ وہاں پر موجود اشیاء کا نرخ عام بازار سے کم کرایا جائے او ر اس نرخ کم کرانے کے چکر میں وہاں پر موجود دکاندار گھٹیا اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ یہ صرف پبلسٹی سٹنٹ اور سب سڈی کو خردبرد کرنے کا معاملہ ہے۔ آٹا مل مالکان سارا سال اس مہینے کا انتظار کرتے ہیں اور جتنی خراب گندم ہے اسے پیس کر رمضان بازار میں بیچ دیتے ہیں اور حکومت سے سب سڈی کے پیسے وصول کر لیے جاتے ہیں۔ جس چینی کی لائنیں لگی ہوئی ہیں وہ بازار میں دستیاب چینی سے غیر معیاری ہے۔ یہی حال پھلوں اور سبزیوں کا ہے۔چینی اور آٹا کو ایک طرف رکھیں کہ اس پر حکومت نے سب سڈی دے کر ایک مافیا کو خوش کیا ہے تو دوسری مصنوعات کی قیمت کو ریگولیٹ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائس مجسٹریٹ حکومتی نرخوں پر اشیائے خورونوش فروخت کرانے کے پابند ہیں پھر ایسا کیوں نہیں ہو رہا۔ یہ اشیاء اگر رمضان بازار میں کم نرخوں پر فروخت کرائی جا سکتی ہیں تو عام دوکان پر یہ کام کیونکر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کے رمضان بازار دوسرے ممالک میں کیو ںنہیں لگتے۔ وہاں تو دوسرے اسٹور رمضان کے مہینے میں خصوصی ڈسکائونٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ن لیگ تو فری مارکیٹ اکانومی کی بہت بڑی حامی ہے کہ سارا کاروباری طبقہ ان کے ساتھ تھا۔ اس حکومت کو چاہیے تھا کہ مجسٹریٹ کے نظا م کو اتنا مضبوط کرتی کہ عام دوکاندار یہ سب کرنے کی جرأ ت نہ کرتا، مارکیٹ سے اشیاء خورونوش کو ذخیرہ کرنے کی ہمت کوئی نہ کرتا مگر ایسا کون کرے گا۔فردوس عاشق اعوان کو کہاں کہاں بھیجیں گے کہ وہ انتظامیہ کو درست کرے۔

ِٖٓپاکستان میں سول بیوروکریسی خود کو نوکر شاہی نہیں مانتی اس نے اسے افسر شاہی کا خطاب دے رکھا ہے۔ وہ اپنے آپ کو عوام کا اصل حکمران تصور کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کا موقف یہ ہے کہ یہ سیاستدان چند سال کے لیے آتے ہیں مگر اصل حکومت تو ان کی ہے۔ ایسے سیاستدان انہیں بہت عزیز ہوتے ہیں جنہیں حکومتی معاملات کا ذرا بھی پتہ نہ ہو اور پھر وہ اپنے محکمہ میں کھل کھیل سکتے ہیں۔بیوروکریسی کا کام حکومت کے منصوبوں کو انتظامی لحاظ سے آگے چلانا ہے اور وہ اصل میں عوام کے خادم ہیں۔ عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں اور انہیں عوام کے مسائل کو حل کرنے کا جتن کرنا چاہیے۔ ہر ایک کو خوش کوئی بھی نہیں رکھ سکتا لیکن ایک توازن بہت ضروری ہے۔ افسر شاہی کے پرانے نظام کو بدلنا ہو گا۔ بیوروکریسی میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے کام کو انتہائی جانفشانی اور ایمانداری سے کرنے کے قائل ہیں مگر جس نظام میں موجود ہیں اس نظام کو ساتھ لے کر بھی چلنا ہے۔مسئلہ صرف سونیا صدف کا نہیں ہے اسے ٹرانسفر کر دیا جائے گا لیکن کیا اس کے بعد معاملات درست ہو جائیں گے۔اس لیے مسئلہ کو سمجھ کر اس کو درست کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ شہباز شریف لوگوں کو اب تک یاد ہیں مجال ہے کہ کوئی افسر چوں چراں بھی کرے لیکن اس کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا پڑتی ہیں اور صبح سات بچے ماڈل ٹائون حاضری دینا ہوتی ہے۔ سب کوعلم ہوتا تھا کہ شہباز شریف صبح سویرے بریفنگ لے کر کام سٹارٹ کرتے ہیں اس وقت کسی نے یہ آواز نہیں اٹھائی کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ دفتر کا وقت صبح 9 بجے شروع ہوتا ہے اور ہم صبح سویرے ماڈل ٹائون کیوں حاضری دیں۔پرویز الہی کا دور بھی لوگوں کو یاد ہے انہوں نے بھی بیوروکریسی کو کام پرلگایا تھا اور آج بھی بہت سے منصوبے ایسے ہیں جو پرویز الٰہی کی یاد دلاتے ہیں۔لوگوں کی یاد داشت بہت کمزور ہے ۔بہت کم لوگ ہیں جنہیں نواب آف کالا باغ کا دور یاد ہے بطور گورنر کسی کی مجال نہیں تھی کہ ذرا سی غفلت بھی کرے۔ مصطفی کھر بھی اسی صوبے کے گورنر تھے۔ پنجاب میں ایک بار پولیس نے بھی یک جان ہو کر ہڑتال کی تھی ، پھر کیا ہوا تھا؟ ذرا تاریخ کو کھنگالنے کا ہنر بھی سیکھیے۔

سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ایک دعا مانگتے ہوئے تصویر شیئر ہو رہی ہے کہ یا اللہ مجھے بھی فردوس عاشق اعوان جیسی جرأت عطافرما۔ اسے دیکھ کر بندہ ہنستا ضرور ہے لیکن اصل میں لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ بھی اپنے خول سے باہر نکلیں اور انتظامی معاملا ت کو اسی دبنگ انداز سے چلائیں۔ فردوس عاشق اعوان نے اس حکومت کو بتایا ہے کہ انتظامیہ کا کام کیسے لینا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ حکومتی وزیر مشیر عوام میں موجود ہوں اور انتظامیہ کے اہلکار اپنی گاڑی میں آرام فرما رہے ہوں ۔ اسسٹنٹ کمشنر اپنی تحصیل کے تمام معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ عوام کا پیسہ انہیں سہولیات فراہم کرنے پر صرف ہوتا ہے اور اس کا  یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ چونکہ میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئی ہوں تو کوئی مجھ سے باز پرس کرنے کا حق نہیں رکھتا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بیوروکریسی کے کروفر کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کرے اور عام آدمی کو ان کے دفتر میں تضحیک آمیز رویے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان کے ایک وزیراعظم محمد خان جونیجو کو غیر ملکی دورے سے واپسی پر ائیر پورٹ سے فارغ کر کے سیدھا گھر روانہ کر دیا گیا تھا لیکن بہت کم لوگوں کویہ علم ہو گا کہ انہو ںنے بچت مہم کے تحت وزراء اور جرنیلو ںکو ہزار سی سی گاڑیاں دینے کا حکم دیا تھا۔ ویسے اب بھی گریڈ سترہ کا حامل افسر اپنے کمرے میں اے سی لگانے کا مجاز نہیں ہے اسے صر ف روم کولر لگانے کی اجازت ہے۔  فردوس عاشق اعوان کو اس مسئلہ میں نہیں الجھنا چاہیے تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتاکہ وہ اسی رویے کا مظاہرہ کسی بیوروکریسی کے کسی بڑے کے ساتھ کرتیںتو یقین جائے آج سوشل میڈیا پر یہی چل رہا ہوتا کہ فرودس عاشق اعوان کو وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ سچ پوچھئے تو یہ لڑائی ان کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ لڑائی کے اصولوں پر عمل کرنے سے ہی مقابلہ جاندار ہوتا ہے۔ 


ای پیپر