انتخابی اصلاحات سے فرار کیوں…
06 May 2021 (11:40) 2021-05-06

جہاں تک مجھے یاد ہے وطن عزیز میں آج تک جتنے انتخابات ہوئے ماسوا ایک کے، مشکوک ٹھہرے اور ان کے نتائج بوجوہ قبول کیے گئے۔ ہر سیاسی پارٹی نے اپوزیشن میں انتخابی اصلاحات کی بات کی لیکن انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کے بعد دھاندلی کی محض لکیر پیٹنے پر ہی اتفاق کیا۔ اقتدار میں آنے والی جماعت کی انتخابی اصلاحات کبھی بھی ترجیح نہیں رہی اور اپوزیشن کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔ لیکن پارلیمنٹ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن نے انتخابی اصلاحات کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں دھاندلی یا بے ضابطگیوں کا رونا روتے ہیں لیکن اسے عملی طور پر دور کرنے کے اقدامات کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں یا الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہرانے پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔ جبکہ شفاف انتخابات کی کنجی ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے پھر وہ انتخابی اصلاحات کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کی سرد مہری دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں انتخابی بے ضابطگیوں کے حق میں ہیں۔ حالانکہ تمام اختلافات کے باوجود یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں ہونا چاہیے لیکن شاذ و نادر ہی یہ کبھی ایجنڈے پر آیا اور کبھی آیا بھی تو معاملہ نشستند گفتند برخواستند کی حد تک ہی رہا۔ انتخابی عذرداریوں کی سماعت کا ذکر کیا جائے تو عدالت یا الیکشن ٹریبونل سے انصاف کی فراہمی اتنی سست ہوتی ہے کہ بعض کیسز میں اسمبلیوں کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد بھی سماعت مکمل نہیں ہوتی۔ پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور عدالتی نظام کا یہی رویہ اگلے انتخابات میں مزید اور دھاندلی کے جدید طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور سیاسی جماعتیں نظام سے مایوس ہو چکی ہوتی ہیں۔ وہ دھاندلی کے ناپاک کنویں سے پانی نکالتی رہتی ہیں لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ کنواں اس وقت تلک پاک نہ ہو گا جب تک اس میں سے دھاندلی کے مردہ کتے کو نہ نکالا جائے گا۔ لیکن اس طرف محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے توجہ نہیں دی جاتی ورنہ سنجیدہ ہوں تو 18ویں ترمیم تک پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ انتخابی عذرداریوں کے لئے خصوصی عدالتیں بنا دی جائیں اور قانونی موشگافیوں کے پیچھے چھپتے ہوئے تاخیری حربے استعمال کرنے کی روش کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ الیکشن ٹریبونل کے شعبہ میں بھی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے لیکن دیکھا جائے تو دونوں بڑی جماعتوں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ گو کہ اب ملکی سیاست میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی آ چکی ہے اور انتخابی دھاندلی کیخلاف پارلینٹ کے سامنے 126 دن کا دھرنا بھی دے چکی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے فوری بعد انتخابی اصلاحات اس کی بھی فوری ترجیح نہیں رہیں اور حکومت نے پارلیمنٹ کو دوسرے کاموں میں الجھائے رکھا۔ جبکہ ابتدائی ڈھائی سال حکومت کی تمام تر توجہ اپوزیشن کو کچلنے کی طرف رہی۔ اب آ کر حکومت نے انتخابی اصلاحات کی بات کی ہے لیکن اپوزیشن حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت کے اپوزیشن کے خلاف اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے لیکن اس کے لیے عوامی مفاد کے لیے اصلاحات یا قانون سازی کو بَلی نہیں چڑھانا چاہیے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اپوزیشن کا اس حوالے سے رویہ غیر سنجیدہ ہے اور محض حکومت کی مخالفت میں اصلاحات یا قانون سازی سے بھاگنا قابل ستائش نہیں۔ خاص طور  پر اپوزیشن اراکین کا اس حوالے سے  میڈیا پر حکومتی ارکین کے متعلق تضحیک آمیز رویہ قطعاً نا مناسب ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈکٹیٹرز کی چھتری تلے ہر الیکشن مشکوک ٹھہرا بعد میں منتخب اور نگران حکومتیں بھی اس سے دامن نہ چھڑا سکیں۔ وطن عزیز نے محترمہ فاطمہ جناح اور ڈکٹیٹر ایوب خان کا مکمل دھاندلی زدہ الیکشن بھی دیکھا جس میں ایک ڈکٹیٹر جیت گیا اور قائد کی بہن کو ہرا دیا گیا۔ پھر ڈکٹیٹر ضیاالحق کا ریفرنڈم اور غیر جماعتی انتخابات بھی اسی دھاندلی سے آلودہ رہے۔ ایک اور ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے تحت کرائے گئے انتخابات بھی دھاندلی سے آلودہ رہے۔ گو کہ بعد میں آئینی ترامیم کے ذریعے اپوزیشن و حکومت کے اتفاق رائے سے نگران حکومتیں اور الیکشن کمشنر کا بھی تقرر ہوا لیکن یہ سب انتظامی تبدیلیاں تھیں۔ الیکشن کمیشن کو مکمل  بااختیار کرنے اور انتخابی عمل و ضوابط میں سیر حاصل اصلاحات پر توجہ نہ دی گئی جس کی وجہ سے آج تک ہم شفاف الیکشن سے محروم ہیں۔ اب انتخابی دھاندلی محض پولنگ والے دن تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں پری پول رگنگ کا عنصر نمایاں ہو رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ ووٹ پڑنے کے بعد گنتی اور بیلٹ بکس کی ترسیل کا ہے۔ اگر اس عمل کو شفاف بنا لیا جائے تو کافی حد تک شفاف انتخابات کی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔

اصل میں الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی انتخابی اصلاحات کے لیے الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تجویز بھی الیکشن کمیشن کے علم میں لا کر پارلیمنٹ، اپوزیشن، حکومت اور الیکشن کمیشن پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دینی چاہیے تھی تا کہ اس حوالے سے بدگمانیاں پیدا نہ ہوتیں۔ لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملہ اب سیاسی مخالفت سے بڑھ کر سیاسی دشمنی تک پہنچ چکا ہے اور دشمنی میں بندہ اندھا ہو جاتا ہے اور اس کے دماغ میں سوائے مخالف کو ختم کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی روش ہے جو کہ جمہوریت کے لیے قطعی سود مند نہیں۔ اگر انتخابی اصلاحات نہ ہو سکیں تو لگتا یہی ہے کہ اگلا الیکشن بھی مشکوک ہی ٹھہرے گا اور ایک بار پھر دھاندلی کا واویلا اٹھے گا۔ شاید ایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست ہمیں راس آتی ہے کیونکہ الزام تراشی سب سے آسان اور حضرت انسان کا پسندیدہ فعل ہے۔

شہباز شریف کی رہائی کے بعد امید تھی کہ اب سیاست میں مثبت رویوں کو جگہ ملے گی لیکن شاید ان کے لیے بھی لہروں کے مخالف تیرنا مشکل ہے اور وہ بھی نفرت کی سیاست کی اسی رو میں بہہ گئے ہیں۔ مجھے بلاول بھٹو کے رویے پر بھی دکھ ہوا کہ انہوں نے بھی انتخابی اصلاحات کی حکومتی تجویز کو یکسر رد کر دیا۔ حکومت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی کبھی ہاتھوں سے لگائی گئی سیاسی نفرت کی گرہیں دانتوں سے بھی نہیں کھلتیں اور یہ ہم سب کے لیے سبق ہے۔


ای پیپر