یہ دھندا بند ہونا چاہیے
06 May 2021 (11:35) 2021-05-06

توہین رسالت کے مسئلے پر یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے تجارتی مقاطع کی قرارداد کے بعد یہ سوال زیادہ زور کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہے آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے… حضور خاتم النبیین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی پہلو سے توہین ہم برداشت نہیں کر سکتے… مغربی ممالک کے اندر اسلام اور بانی اسلام سے معاندانہ رویہ رکھنے والے عناصر اپنی مکروہ حرکات سے باز نہیں آنے والے… کوئی دلیل ان پر اثر نہیں کرتی… کوئی احتجاج انہیں متاثر نہیں کرتا… اب فرانسیسی سفیر کو نکالے جانے کے مسئلے پر پاکستان میںجو ہنگامے ہوئے ہیں اور اسمبلی میں قرارداد پیش ہوئی اس کے ردعمل میں پاکستان کو یورپی ممالک کی جانب سے جو تجارتی مراعات حاصل ہیں انہیں واپس لینے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے… تاکہ ہماری ریاست اور عوام کی جو اپنے نبی اعظمؐ کی ذات اور سیرت مطہرہ سے گہری ایمانی اور جذباتی وابستگی ہے اس کی پاداش میں اقتصادی اور تجارتی گھیرا تنگ کیا جائے… اہل یورپ و امریکہ کے اس رویے سے ان کی اسلام، اس کے عظیم بانی اور ان کی ذات گرامی جو جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے، کے ساتھ وارفتگی پہلے سے زیادہ گہری ہوتی چلی جا رہی ہے اور پُرزور طریقے سے بھرپور اظہار کرتی ہے… یہ امر ان کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنتا ہے لہٰذا اپنے شدید تعصب کے اظہار میں کمی نہیں رہنے دیتے… لیکن ہم مسلمانوں خصوصاً اہل پاکستان کے لیے توجہ طلب امر یہ ہے کیا یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہے گا… وہ گستاخانہ اور مکروہ حرکات سے باز نہیں آئیں گے ہم خاموش نہیں بیٹھ پائیں گے… بات ہماری جانب سے سفیروں یا ان کے نمائندوں کو نکالنے اور ان کی طرف سے ہر طرح کے تجارتی و سماجی بائیکاٹ پر آ جائے گی… اس سردجنگ کا فائدہ کس کو پہنچے گا… واضح رہے کہ مسیحی ممالک کی جانب سے عظیم پیغمبر اسلام کی ذات گرامی کو مختلف طریقوں سے طنز و تشنیع کا نشانہ بنانے کا سلسلہ آج نہیں صلیبی جنگوں کے ادوار سے چلا آ رہا ہے… بیت المقدس پر قبضہ اسی طرح کے مذموم جذبے کے تحت کیا گیا… لیکن مسلمانوں میں ایک دو بار شکست کھانے کے باوجود فوجی طاقت موجود تھی اس نے ایمانی قوت کے ساتھ مل کر جس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں قبلہ اول واپس لے لیا… تب کا مسلمان فوجی لحاظ سے آگے نہیں تو برابر کا طاقتور تھا اور اقتصادی و معاشی نقطہ نظر سے اسے کسی کی محتاجی کا سامنا نہیں تھا… لہٰذا اس دور کے عیسائی شرارت باز، جس حد تک بھی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے وہ ان کے کسی کام نہ آئی… آفتاب پر تھوکتے تھے جو ان کے منہ پر آ گرتی تھی… نبی علیہ السلام کے پیروکاروں کے غلبے کا دوبارہ دور شروع ہو گیا… آج کے حالات اس کے برعکس ہیں… ہم اپنے اپنے جذبہ ایمانی کا اظہار تو خوب خوب کرتے ہیں مگر اقتصادی لحاظ سے ایک ایک ڈالر اور فوجی و دفاعی میدان میں ایک ایک گولی کی خاطر ان کی امداد یا تعاون کے رہین منت ہیں… طرفہ تماشا یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال جو عرب ممالک بظاہر اقتصادی لحاظ سے خودکفیل ہیں… ان کی حکومتیں بھی امریکہ کی سرپرستی کے بغیر خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے میدان میں ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتیں… صلیبی جنگوں کے عہد میں قبلہ اول پر قبضہ کر لیا گیا تھا تو اسے چھڑانے کی خاطر سلطان صلاح الدین ایوبی نہ وقت کے کسی امریکہ یا یورپ کے فراہم کردہ اسلحہ کا رہین منت بنا نہ اپنے عہد کی کسی عیسائی یا غیرمسلم طاقت کی جانب سے سفارتکارانہ تعاون کا طلبگار ہوا… اس کے برعکس آج کے عہد میں قبلہ اوّل پر ناجائز یہودی ریاست کا قبضہ ہے ہم اسے چھڑانا تو درکار اسے تسلیم کرنے کے امریکی احکامات کی تعمیل میں بچھے بچھے جا رہے ہیں… ہماری اس کیفیت اور پُرسان حالی کو سامنے رکھتے ہوئے اہانت رسول کی مردود حرکتیں کرنے والے فرانس و یورپ کے بدبختوں کو کیا ہماری اس حالت زار اور اس پسپائی کا علم نہیں جس سے بطور مسلم اقوام اس وقت گزر رہے ہیں… فرانسیسی صدر نے ان کی مذموم حرکات کے حق میں جو بیان دیا ہے وہ اس لیے کہ ایک تو وہ خود متعصبانہ فضا سے متاثر ہے دوسرا اسے ان کے ووٹ درکار ہیں… ہمارے پرجوش احتجاجی مظاہروں اور سفیر کے اخراج کی قرارداد سے وہ مزید مقبول ہوا ہے… یورپی یونین کی قرارداد سے صاف معلوم ہوتا ہے اسے اپنے ہمسایہ ممالک کی بھی پُرزور تائید و حمایت حاصل ہے… یہ سب محاسن اس لیے کہ  ان اقوام اور ان کی حکومتوں کو بخوبی علم مسلمان ملکوں میں مل کر بھی اتنی طاقت نہیں کہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں دوسرے پاکستان کی حکومت کا کوئی ساتھ دینے والا ان کے اپنے مسلم بلاک میں نہیں رہا… دیکھ لیجیے یورپی یونین کی قرارداد سامنے آنے کے بعد ایک بھی مسلمان حکومت کے نمائندے یا وہاں کی کسی قابل ذکر شخصیت اور ادارے نے ہمارے حق میں معمولی درجے کی صدائے احتجاج بلند کی ہو یا ہمدردی کا ایک آدھ لفظ بھی کہا ہو… کیا یورپ کے لوگوں اور حکومتوں کو اس کا علم نہیں یہ صورت حال ایک جانب ہماری خارجہ پالیسی کی بری طرح ناکامی پر دلالت کرتی ہے دوسری جانب اہل یورپ و امریکہ پر بھی یہ نہایت افسوس ناک حقیقت بری طرح واشگاف ہو گئی ہے مسلمان ملک اور قومیں اپنے دین و مذہب اور پیغمبر کے بارے میں حساس ہونے کا تو بہت دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے نام پر وہ اکٹھے ہو کر مقابلے کے میدان میں اترنے کی ہمت و جرأت نہیں رکھتے لہٰذا ہمیں کھلی چھٹی ہے جو ہفوات چاہے بکتے رہیں، اس معاملے میں ایک نہایت درجہ قابل توجہ بات یہ بھی ہے اہل مغرب بلاشبہ اسلام حضرت بانی اسلام اور ان پر اتارے جانے والے کلام الٰہی یعنی قرآن مجید کے بارے میں شدید درجے کے تعصب کا شکار اور عناد بھرے جذبات سے مغلوب ہیں… اس کی جڑیں صلیبی جنگوں کے ادوار بلکہ اس سے پہلے کے ادوار میں پائی جاتی ہیں جب مسلمانوں نے سلطنت روما کی جڑوں کو ہلاکر رکھ دیا تھا… پھر اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول کا سامراجی غلبے کا عہد شروع ہوا… مسلمانوں کے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دیا مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا… آزادی کی جنگیں لڑیں کامیاب بھی ہوئے… پاکستان کا قیام عمل میں آیا جو بطور ایک اسلامی جمہوری ریاست انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا … مگر باوجود اس تمام تر تعصب و عناد اور مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے اندھے جذبے کے یہ بھی حقیقت ہے یہ لوگ ان پڑھ نہیں… ان کی بھاری اکثریت خواندہ لوگوں پر مشتمل ہے… عقل و شعور رکھتے ہیں… ہمارے نبی مکرمؐ کی ذات اقدس کے خلاف چاہے جتنا زہر اگلتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے حضورؐ  کی سیرت مطہرہ ایسے چمکتے چاند کی مانند ہے جس کی کرنیں اگر انہیں انہی کی زبان و کلام اور روزمرہ میں روشناس کرائی جائیں تو وہ لازماً ان کے اذہان و قلوب پر ضیا پاشی کریں گی… ان میں سے کئی ایک کے دل حضورؐ  کی سیرت مطہرہ سے متعلقہ واقعات سے موم ہو سکتے ہیں اور کئی ایک آپ کی ذات گرامی کے اعلیٰ اصولی اور اخلاقی پہلو جو محض آپؐ کی تعلیمات پر مشتمل نہیں… میدان عمل میں بھی ایسے انمٹ نقوش ثبت ہوئے ہیں کہ سیرت النبیؐ حقیقت میں روشنی کا مینار بن چکی ہے مگر کوئی اہل مغرب کو اس سے آشنا تو کرے… سوال یہ ہے ہماری حکومتوں اور اداروں نے انگریزی، فرانسیسی اور جرمنی وغیرہ میں سیرت مطہرہ پر کتنی عام فہم زبان میں ان لوگوں کے محاورے اور اسلوب میں لکھ کر ان کے اندر پھیلانے کی سعی کی ہے… ایسی ایک بھی قابل قدر خدمت کی مثال نہیں دی جا سکتی… اگر ہم ان لوگوں کو حضورؐ  کی ذات اقدس کے ہر لحاظ سے روشن پہلوئوں سے آگاہ کرنے کا فریضہ ادا نہیں کریں گے… ان کے یہاں صرف تعصب اور عناد کو فروغ پانے دیں گے اور اس پر محض اپنے جذباتی ردعمل کا اظہار کر کے تلخیوں کو بڑھاتے رہیں گے تو نقصان کس کا ہو گا… مسلمانوں کا یا اہل مغرب کا… حضورؐ کے خلاف ہفوات بکنے کا مکروہ کام آپؐ کے مبارک دور میں بھی ہوتا رہا… خلافت راشدہ کے عہد میں بھی… صلیبی ادوار سے لے کر آج تک یہ مکروہ کام جاری ہے… مگر آج کے پڑھے لکھے عہد میں اگر ہم حضورؐ  کی سیرت مبارکہ کو اس کی اصل اور روشن ترین شکل میں ان کے سامنے پیش کر کے اپنا فریضہ ادا نہیں کریں گے تو کیا اپنے فرائض حقیقی سے روگردانی کے مرتکب کے ہم مسلمانان عالم ٹھہرائے جائیں گے یا وہ لوگ…

آخری بات یہ کہ پاکستان کی مقتدر قوتوں کو آپؐ  کی سیرت مطہرہ اور دین اسلام کے بنیادی عقیدے ختم نبوت کی آڑ میں سیاست کا کھیل کھیلنا بند کر دینا چاہیے… ہمارے یہاں صورت حال کو انگیخت دے کر جذباتی نعروں کی بنیاد پر ایسی فضا کھڑی کر دی جاتی ہے کہ جس اور جیسی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے اس کے خلاف دین مقدس کے عقائد کے نام پر لوگوں کو سڑکوں پر لے آیا جاتا ہے اور ایسا مکروہ دھندا کھیلا جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے خاص سیاسی عناصر جو فی الواقعہ غیرآئینی اختیارات کی مالک اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ ہوتے ہیں جب تک ان سے اقتدار چھین کر انہیں ذلیل و رسوا نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک ریاستی اور عوامی سطح پر دین حق کے تقاضوں سے عہدہ برا نہیں ہوا جا سکتا… 2017 میں فیض آباد کا دھرنا اسی سوچ اور منصوبہ بندی کا شاخسانہ تھا… سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ نے ازخود نوٹس لے کر اسی منصوبے کے پیچھے کارفرما ایجنسیوں کا چہرہ بے نقاب کرنے کی جسارت کی تو ان کی وہ درگت بنائی گئی کہ ایک عالم حیران ہوا مگر انہوں نے اور ملک کی جملہ بار کونسلوں نے اہل دانش کی اکثریت سے مل کر جسٹس موصوف کا اس جرأت کے ساتھ دفاع کیا کہ وہ تو سرخ رو ہوئے ہیں لیکن اصل حاکموں کے ابھی تک زیرعتاب ہیں… حال میں فرانسیسی سفیر کے اخراج کے مطالبے پر جو مظاہرے ہوئے ان کے بارے میں یورپی یونین میں پاکستان کے تجارتی مقاطعے کی قرارداد پیش کرتے وقت کہا گیا ہے کہ ایک پاکستانی وزیر نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر اخراج کے حق میں قرارداد پیش کی… گویا یورپی حکومتوں کو ان کے سفارتخانوں کے ذریعے ملنے والی رپورٹوں کے ذریعے پورا علم ہے کہ اس پردہ زنگانی کے پیچھے کون سا محبوب بیٹھا ہوا ہے… جب ہماری مقتدر قوتیں اپنا غیرآئینی راج جمانے کی خاطر ختم نبوت جیسے عظیم اور مقدس عقیدے کی اس طرح آڑ لے کر اپنا کھیل کھیلتی رہیں گی… بیرونی دنیا بھی اندر کی حقیقت سے باخبر ہونے کی بنا پر ہماری جانب نظر التفات سے نہیں دیکھے گی… آخری تجزیے میں ہم اہانت رسول کی مذموم حرکات کے خود بھی ذمہ دار ہوں گے… لہٰذا اگر ہمیں اپنا عظیم دین اور اس کے مقدس ترین بانی اور خدا کے اولیٰ العزم آخری پیغمبرؐ  کی حرمت جانوں سے بھی عزیز ہے تو اپنے گھر کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا یہ دھندا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔


ای پیپر