گھرکی ہسپتال کے ایدھی صاحبان!
06 May 2021 2021-05-06

 مجھے حیرانی ہوتی ہے جب میں لاہور کے آخری کونے میں، جلوپارک کے قریب مستحق مریضوں کے لیے جدیدترین سہولتوں سے آراستہ گھرکی ٹیچنگ ٹرسٹ ہسپتال کی ترقی و نیک نامی کی خبریں سنتاہوں، حیرانی اس لیے ہوتی ہے کہ ہماری اکثر سرکاری وغیرسرکاری علاج گاہیں اب باقاعدہ طورپر ”کاروبار گاہیں“ہیں، آج کل باقی سارے کاروبار حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کچھ کورونا کی وجہ سے تقریباً بند پڑے ہیں، صرف ایک ہی کاروبار چل رہا ہے اور وہ کچھ سرکاری وغیرسرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو لوٹنے کا کاروبار ہے، میں سوچتا ہوں کاش پاکستان میں اس وقت کوئی حکومت ہوتی ہم اس سے مطالبہ کرتے کہ اِس ناجائز کاروبار کو روکنے کا کچھ اہتمام کرے،....سواِن حالات میں، میں ذاتی طورپر گُھرکی ہسپتال کو انسانیت کی خدمت میں لگن کے ساتھ مگن دیکھتا ہوں تو ظاہر ہے مجھے حیرت ہی ہوتی ہے، میں نے ادارہ اخوت کے حوالے سے لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، ملک کے ممتاز ترین آرتھوپیڈک سرجن پروفیسرڈاکٹر عامر عزیز کوبھی عبدالستارایدھی صاحب کا دوسرا روپ قرار دیا تھا، مستحق مریضوں کی دل کھول کر مددوعلاج کرنے میں گھرکی ہسپتال کی خدمات روزبروز بڑھتی جارہی ہیں اور ان کے سارے مسائل غیبی مدد سے اللہ حل فرمادیتا ہے اس کی واحد وجہ شاید یہ ہے اِس ادارے کی بنیاد ایک فرشتے نے رکھی تھی جس کا نام عبدالستار ایدھی تھا اور اس کو چلا بھی اب ایک فرشتہ سیرت انسان ہی رہا ہے جس کانام عامرعزیزہے۔ وہ گُھرکی ہسپتال کے چیئرمین ہیں، پر ہم جب اِس ہسپتال میں جاتے ہیں اور ایک عام ورکر کی طرح اُنہیں کام کرتے دیکھتے ہیں، ہمیں حیرانی ہوتی ہے کہ کسی ادارے کا سربراہ یا چیئرمین خود کو عام سے ایک مقام پر کیسے رکھ سکتا ہے؟ جبکہ اُس کے مقابلے میں کسی ادارے سے وابستہ ایک عام ورکر یا کارکن خود کو ادارے کے سربراہ سے کم نہیں سمجھتا۔ یہ ظرف اللہ نے پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کو ہی عطا کررکھا ہے۔ شاید اِسی ظرف کے نتیجے میں اللہ نے ہرحوالے سے اُنہیں بے پناہ نواز رکھا ہے۔ وہ جو کارخیر بھی شروع کرتے ہیں اُس میں اتنی برکت پڑ جاتی ہے اُس میں ایسی آسانیاں اللہ پیدا کردیتا ہے جس کا ہم جیسے کمزور ایمان والے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ گھرکی ہسپتال میں آج سے چند برس قبل دنیا کا جدید ترین سپائن سینٹر بنانے کا اُنہوں نے سوچا۔ آج اِس سپائن سینٹر میں سینکڑوں مستحق مریضوں کا مفت علاج ہورہا ہے، جدید ترین آپریشن تھیٹرز سمیت بے شمار ایسی سہولیات یہاں موجود ہیں جو پاکستان کے شاید ہی کسی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال میں ہوں گی، سب سے بڑھ کر خود عامر عزیز کی صورت میں ایک ایسا اطمینان یہاں موجود ہے دوسرے ہسپتالوں میں جس کا تصور ہی نہیں ہے، وہ اللہ کے ایسے نیک بندے ہیں جن کے پاس کسی بھی حیثیت کے حامل مریض یہ اطمینان لے کر آتے ہیں وہ تندرست ہوکر جائیں گے، وہ جہاں بھی رہے اُنہوں نے اپنے پروفیشن کو باقاعدہ عبادت سمجھا، یہ اعزاز بھی اُنہوں نے ہی پاکستان کو بخشاکہ پاکستان میں مقیم بے شمار صاحب حیثیت لوگ اپنی دیگر بیماریوں کے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانا پسند کرتے ہیں مگر ہڈیوں کی بیماریوں میں مبتلا بیرون ملک مقیم اکثر لوگ پاکستان آکر پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز سے علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔ تین چاربرس قبل ایک کویتی وزیر میری وساطت سے خاموشی سے پاکستان آئے اور عامر عزیز صاحب سے اپنے گھٹنوں کا علاج کرواکر واپس چلے گئے سونے پہ سہاگہ یہ عامر عزیز کو اللہ نے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد جاوید، پروفیسر ڈاکٹر نعیم احمد، پروفیسر ڈاکٹررضوان اکرم، پروفیسر لینا ایوب، پروفیسر ڈاکٹر اعجازاحمد، پروفیسر ڈاکٹر عتیق الزمان اور فزیوتھراپی کے شعبے کے سربراہ پروفیسر حافظ عاصم کی صورت میں ایک انتہائی قابل قدر اور قابل فخر ٹیم سے نواز ہوا ہے، اب تو ان کے صاحبزادے ڈاکٹر عمر عزیز (جونیئر عامر عزیز) بھی اُن کے مددگار ہیں، .... جہاں تک گُھرکی ہسپتال کے سابق چیئرمین محسن گُھرکی ، اور ڈائریکٹر فنانس برادرم نعیم گھرکی کا تعلق ہے یہ دونوں اس ہسپتال کی ریڑھ کی ایسی مضبوط ہڈیاں ہیں جو بڑے سے بڑا بوجھ اُٹھانے کی سکت رکھتی ہیں، گُھرکی ہسپتال میں مستحق مریضوں کے لیے جتنے پروجیکٹس ماضی میں لگے، حال ہی میں جوڈائیلسز سنٹر قائم ہوا، اور مستقبل میں کینسر و نان کینسر ٹیومرز کے علاج کے لیے جو پراجیکٹ (سائبرنائف) شروع ہونے جارہا ہے، یہ سب اِن کی انتھک محنتوں، محبتوں اور اہلیتوں کے بغیر ممکن ہی نہیں تھے، ایک ”مسافر خانہ“ بھی حال ہی میں قائم ہوا، گھرکی ہسپتال میں داخل ہونے والے مستحق مریضوں کے عزیز اس مسافر خانے میں قیام کرسکیں گے، وہاں اُنہیں تمام سہولیات حتیٰ کہ مفت کھانے کی سہولت بھی میسرہے۔ اس ہسپتال میں دیگر بیماریوں سے متعلق شعبے بھی نہایت فعال ہیں، ایک اور”اعزاز“ اللہ کے فضل سے اِس ہسپتال کو یہ حاصل ہوا جہاں اِس ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے وارڈز مختص کئے گئے وہاں لاک ڈاﺅن اور دیگر تمام مشکلات ورکاوٹوں کے باوجودپروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی نگرانی اور سرپرستی میں گیارہ ہزار میجر آپریشنزکئے گئے، یہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے، کورونا کا کوئی خوف ان ”مسیحاﺅں“ پر اثرانداز نہیں ہوا، اطلاع ہے کہ ان ہی انسانی خدمات کے باعث ان کا نام ”گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ“ میں شامل ہونے جارہا ہے،.... سچ پوچھیں میرے لیے تو ذاتی طورپر گھرکی کی ہسپتال کی حیثیت اس حوالے سے ایک محسن کی ہے میراچھوٹا بھائی جب گھٹنے کے کینسر میں مبتلا ہوا پروفیسر عامر عزیز صاحب اگر فوری طورپر گھرکی ہسپتال میں اس کی دوبڑی سرجریوں کا اہتمام نہ کرتے، اُس کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق یہ اتنا ایگریسوکینسر تھا جو چند گھنٹوں کی تاخیر سے گھٹنے سے باہر آجاتا جان بچنی مشکل ہوجاتی۔ گھرکی ہسپتال میں صرف مستحق مریضوں کا فری علاج ہوتاہے، اور بغیر کسی ریفرنس اور سفارش کے ہوتا ہے۔ جبکہ مالی طورپر مضبوط لوگوں کے علاج سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ بھی مستحق مریضوں کے لیے ہی وقف کردیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ علاج میں بھی یہاں مریض کی کھال نہیں اُتاری جاتی، جیسے بے شمار دوسرے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کچھ انداز میں اتاری جاتی ہے کہ بِل ادا کرنے کے بعد لوگوں کے پاس صرف کپڑے ہی بچتے ہیں جو انہوں نے پہنے ہوتے ہیں۔اپنے دوستوں عزیزوں اور قارئین سے میری التجا، گزارش اور منت ہے گھرکی ہسپتال میں مستحق مریضوں کے علاج کے لیے دل کھول کر زکوٰة وعطیات دیں۔ اللہ اپ کو اجر عظیم دے گا!!


ای پیپر