بھارت میں مسلمان صحافی خاتون بھی نہ بچ سکی
06 May 2020 (18:30) 2020-05-06

بنارس: بھارت کی مسلمان خاتون صحافی نے گلے میں پھندا لگا کر خود کشی کرلی، رضوانہ تبسم متعدد خبر رساں اداروں میں فری لانس اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست بنارس سے تعلق رکھنے والی بے باک خاتون صحافی 28سالہ رضوانہ تبسم اپنے گھر کے کمرے میں مردہ حالت میں پائی گئیں، ان کی لاش چھت پر پائپ سے بندھی رسی کے پھندے پر جھول رہی تھی۔

پولیس کی جانب سے ابتدائی تفتیش میں مقامی سماج وادی پارٹی کے رہنما شمیم نعمانی کو ان کی خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا گیاہے۔ اس حوالے سے سرکل آفیسر ابھیشیک کمار پانڈے نے بتایا کہ خودکشی کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع واردات پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔

پولیس کے مطابق ملزم شمیم نعمانی کے خلاف دفعہ 306 کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے، فی الحال شمیم نعمانی کو گرفتاری کرنے کی کوشش جاری ہے۔رضوانہ تبسم کی بہن نصرت جہاں نے میڈیا کو بتایا کہ میں صبح بینک سے رقم لینے گئی تھی اسی دوران مجھے اطلاع ملی کہ رضوانہ نے خودکشی کر لی ہے۔رضوانہ تبسم کی والدہ اختر جہاں نے بتایا کہ رضوانہ ایک کمرہ میں اپنے لیپ ٹاپ پر دیر رات تک کام کرتی تھیں آج صبح دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر دروازہ کھٹکھٹایا گیا اس کے بعد پھر دروازے کو توڑا گیا تو دیکھا کہ رضوانہ کمرے میں لگے پائپ سے دوپٹہ کے ذریعے بے جان لٹکی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مقامی سماج وادی پارٹی کے رہنما شمیم نعمانی نامی شخص کو رضوانہ نے خود کشی نوٹ میں خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔


ای پیپر