صحافت اور اسٹیبلشمنٹ
06 May 2020 2020-05-06

مشہور صحافی والٹر کرون کائیٹ کا قول ہے کہ آزادی صحافت صرف جمہوریت کے لئے ضروری نہیں بلکہ یہی جمہوریت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہذب معاشروں میں جمہوریت اور آزادی صحافت کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے کیونکہ صحافت کو آزادی ہوگی تو وہ آزادانہ حکومت کا احتساب کرسکے گی۔جس سے نظام میں شفافیت آئے گی اور ایک بہترین جمہوریت تشکیل پاسکے گی۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا کے پیشتر ترقی یافتہ ممالک میں صحافت آج بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکی اور صحافتی فرائض انجام دینے والے صحافی عوام کو سچائی اور آگاہی کی قیمت اپنی جانیں گنوا کر اور پابند سلاسل ہو کر ادا کر رہے ہیں۔ تین مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا۔ جس کا مقصد دنیا کی حکومتوں کو بآور کروانا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے 1948 کے عالمی منشور کے آرٹیکل 19 کے تحت دی گئی آزادی اظہار کا احترام کریں۔تاہم عالمی مبصرین کے نزدیک گزشتہ ایک دہائی سے دنیا بھر میں آزادی صحافت کو دبانے کے لئے طاقتور طبقات کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں صحافیوں کے بیہمانہ قتل اور جیلوں میں ڈالنے کے واقعات سامنے آئے لیکن متعلقہ حکومتیں صحافیوں کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔ رواں سال 2020 میں پاکستان آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180 ممالک کی رینکنگ میں گزشتہ سال کی نسبت تین درجے نیچے 145ویں نمبر پر آیا ہے۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم Reporters without Borders (آر ایس ایف) کی سالانہ رینکنگ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں رواں سال جنوری سے اب تک چار ماہ کے دوران 10 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں عراق میں 3، پاکستان میں ایک، میکسیکو میں ایک، نائیجیریا ایک، پیراگوئے میں ایک، صومالیہ میں بھی ایک جبکہ شام میں دو صحافیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافی عزیز میمن کی لاش رواں سال سولہ فروری کو سہراب پور سندھ میں نہر سے ملی تھی۔ اسی طرح پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 231 صحافیوں کو عوام کو سچائی سے آگاہ کرنے کی پاداش میں قید کی سزائیں دی گئیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں صحافی نصر اللہ چوہدری کو دہشت گردی کے الزام میں انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے پانچ سال قید کی سزا دی۔ اسی طرح لاہور میں صحافی اظہار الحق واحد کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شئیر کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھجوایا گیا۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آر ایس ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ برائے 2020 میں پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم پر ملزمان کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی میڈیا کی اسٹیبلشمنٹ کے انگوٹھے تلے ترجیحی نشانہ بننے کی پرانی روایت ہے جبکہ 2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا آزاد میڈیا پر اثر زیادہ بڑھا۔ سینسر شپ کے کھلم کھلا بہت سے واقعات سامنے آئے۔ اسٹیبلشمنٹ نے میڈیا پر دباو¿ کے لیے متعدد طریقے اپنائے۔ اخبارات بالخصوص ڈان کی ترسیل رکوائی گئی۔ میڈیا ہاﺅسز کو اشتہارات واپس لینے کی دھمکیاں دی گئیں، اپوزیشن نمائندوں کو ائیر ٹائم دینے والے ٹی وی چینلز کے سگنلز جام کرنے کے علاوہ حساس اداروں کی جانب سے ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ رپورٹ میں صحافیوں کے لئے بدترین ممالک میں شمالی کوریا، ترکمانستان، چائنا، ایرسٹریا، شام اور سعودی عرب شامل ہیں جبکہ آزادی صحافت کو یقینی بنانے والے ممالک میں رینکنگ میں پہلے پانچ پر بالترتیب ناروے، فن لینڈ، ڈنمارک، سویڈن اور نیدر لینڈ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2019 سے اپریل 2020 تک پاکستان میں مجموعی طور پر پیشہ ورانہ فرائض کے دوران صحافیوں پر حملوں اور بدسلوکی کے 91 واقعات ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں سات صحافی اور ایک بلاگر کا قتل بھی شامل ہے۔ فریڈم نیٹ ورک نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی یہ تشویشناک لہر صحافت کی آزادی کو متاثر کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں اور مرکز میں ہر جگہ حملوں کے یہ واقعات ہوئے۔ جبکہ ریاست اور اس کے ماتحت ادارے صحافتی آزادی کے خلاف مرکزی تھریٹ ایکٹر کے طور پر سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام کیسز کی شرح ماہانہ سات واقعات، ہر چوتھے دن ایک اور ہفتے میں دو بنتی ہے۔ مجموعی طور پر فرائض کی انجام دہی کے دوران سات صحافیوں کے قتل، دو صحافیوں کا اغواءاور غیر قانونی حراست، دس کو جسمانی تشدد، پانچ کو شدید زخمی کرنے، ایک صحافی کے گھر پر حملے، 23 کیسز زبانی یا تحریری دھمکیوں، دس سینسر شپ اور آٹھ مثالیں مقدمات کے اندراج کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک شہر اسلام آباد ہے جہاں 91 میں سے 31 واقعات پیش آئے۔ دوسرے نمبر پر سندھ جہاں 24 واقعات، تیسرے نمبر پر بیس واقعات کے ساتھ پنجاب، کے پی کے 13 اور بلوچستان میں تین واقعات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام واقعات میں 63 الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں جبکہ 25 میں پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس رپورٹ کی سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 42 فیصد مقدمات میں متاثرہ صحافیوں یا ان کے اہل خانہ نے ریاست اور اس کے اداروں پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ اسی طرح پاکستان میں پر اسرار، بے نام اور نامعلوم ایکٹرز صحافیوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ جبکہ دوسرا سب سے بڑا خطرہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں جن میں کالعدم دہشت گرد اور جنگجو گروپس شامل ہیں جبکہ دیگر خطرات میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ارکان اور ریاستی حکام شامل ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کی صحافیوں کے خلاف جرائم پر استثنیٰ سے متعلق تیار کردہ ایک اور خصوصی رپورٹ کا حوالہ دینا ضروری ہے جس کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے قاتلوں کیلئے سزا سے معافی یا بریت دنیا میں سب سے زیادہ معافیوں میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 تا 2019 کے دوران 33 صحافیوں کے قتل کے واقعات ہوئے، لیکن مقدمات درج ہونے کے باوجود انصاف صفر فیصد رہا کیونکہ ان 30مقدمات میں سے صرف 6 مقدمات پر استغاثہ اور ٹرائل مکمل ہوا۔ ان چھ مقدمات میں سے صرف ایک مقدمے میں ہی قاتل کو مجرم ٹھہرایا گیا لیکن وہ بھی اپیل کے مرحلے پر کامیابی کے ساتھ سزا سے بچ نکلا جس کے بعد مقتول صحافی کا خاندان وسائل کی کمی کے باعث اپنی جدوجہد سے دست بردار ہوگیا۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں قتل کئے گئے سات صحافیوں کے مقدمات درج کئے گئے لیکن صرف چار مقدمات میں پولیس نے چالان جمع کرایا۔ عدالتوں نے ان تمام چار مقدمات کو ٹرائل کیلئے فٹ قرار دیا لیکن کسی ایک کیس میں بھی استغاثہ اور ٹرائل کا نتیجہ نہیں نکل سکا۔ رواں سال بھی آزادی صحافت کا یہ عالمی دن پاکستان میں حکومت کی جانب سے آزادی صحافت یقینی بنانے کے کھوکھلے دعووں میں ہی گزر گیا اور صحافتی تنظیمیں صحافیوں کی حفاظت کیلئے خصوصی وفاقی و صوبائی قوانین کا نفاذ ،میڈیا ہاو¿سز میں ان ہاو¿س سالانہ حفاظتی اڈٹس، حفاظتی پالیسیوں اور پروٹوکولز کے نفاذ کا مطالبہ دہراتے رہ گئے۔


ای پیپر