لندن سے پرے
06 May 2019 2019-05-06

لانگ ویک اینڈ شروع ہوتے ہی لندن سڑکوں پر امڈ آیا۔ ویک اینڈ کا پہلا دن ہم نے سنٹرل لندن میں گزارا۔ کاؤنٹ گارڈن گئے۔ شہر کا تاریخی اور ثقافتی علاقہ، جہاں سیاحوں کی دلچسپی کا خاصا سامان ہے۔ کھانے کے لیے جابجا ریستوران ہیں خریدنے کے لیے اسٹالز پر مشتمل بازار۔ قدیم عمارتوں میں جدید برانڈز کی دکانیں کھلی ہیں۔ جو مزاج یار میں آئے کھائے جو من کو بھائے خرید لے۔ لندن ٹرانسپورٹ میوزیم بھی یہیں ہے۔ انگریزوں کی قدامت پسندی مشہور ہے۔ جس کی نشانی کاؤنٹ گارڈن کی قدیم عمارتوں کے ساتھ پتھریلے راستے ہیں۔ سو سال سے بھی پہلے لگائے گئے پتھروں کی جگہ انتظامیہ نے سیاحوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ جگہ جگہ مداری نہیں عوامی فنکار اپنا اپنا کمال دکھا کر دیکھنے والوں کا دل لبھا رہے ہیں۔ مجھ سمیت اعظم چودھری، مبین چودھری اور میر اکرام شاہ پر مشتمل آوارہ گردوں کی ٹولی کاؤنٹ گارڈن کی گلیاں اپنے قدموں سے ناپتی رہی۔ پھر ایلسٹر سٹریٹ کا رخ کر لیا جہاں ساتھ ہی پکاڈلی سرکس کا چبوترہ ہے۔ جس کے اوپر محبت کا دیوتا کیوپڈ اپنی تیرکمان تھامے پتھر بنا ہوا ہے۔ نیچے چوراہے میں دل کے مارے مٹرگشت کررہے ہیں۔ یہاں بے فکروں کی محفل رات گئے تک لگی ہی رہتی ہے۔

سنٹرل لندن کو پہلا دن دینے کے بعد طے پایا کہ اب لندن سے نکلا جائے۔ گوگل سے موسم کا احوال دیکھ کر مبین چودھری نے خبر دی۔ برائٹن کے ساحل پر کل وقفے وقفے سے سورج چمکے گا۔ سمندر کی سیر کا یہ شاندار موقع آپ کے قیام کے دوبارہ آنے کا امکان نہیں۔ سب نے فورا حامی بھرلی۔ یہ جان کر وہاں باربی کیو کا اہتمام بھی ہوگا، گوشت خورے خوش ہو گئے۔

آج مشرقی لندن کے علاقے الفرڈ سے اعظم چودھری اور میں ٹرین پر بیٹھ کر سرے کاؤنٹی، مارڈن پہنچے۔ اسٹیشن سے باہر آئے ہیں تو سڑک پار کرتے ہی راستے میں کھڑے زندہ دل اکرم چودھری اور کمیونٹی رہنما چودھری اختر نے بانہیں کھول لیں۔ ایک چودھری ہمارے ساتھ ہیں ، دو اور ملے تو کوئی چودھری، چودھری نہ رہا، سب بغلگیر ہو گئے۔ ہمارے انتظار میں چہل قدمی کرنے گئے مبین چودھری کو اطلاع ملی تو وہ لوٹ آئے اور بتایا میر اکرام شاہ اس شاندار سفر میں ہمارے ہم سفر نہیں ہوں گے۔ یعنی اب چار چودھریوں کے درمیان میں تنہا آدمی رہ گیا۔ روانگی کے لیے دو گاڑیاں تیار کھڑی تھیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق بار بی کیو کا سامان تو ہونا ہی چاہیے تھا لیکن ڈگی میں آموں کی پیٹی دیکھ کر مزا آگیا۔مطلب ہم پاکستانیوں سے پہلے آم چکھیں گے۔ کھلم کھلا ساحل پر مینگو پارٹی۔ آم سے لطف اٹھانے اور شریکوں کو جلانے کا خیال ہی روح تک سرشار کر گیا۔

برائٹن کے ساحل تک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت درپیش ہے۔ طے پایا سیدھا راستہ نہیں اپنانا، کنٹری سائیڈ کے نظاروں کا لطف بھی اٹھایا جائے۔ جیسے ہی لندن سے ہیچھا چھوٹتا گیا، قدرت کے نظارے چاروں طرف رنگ دکھانے لگے۔ صاف شفاف ہوا، سڑک کے دونوں طرف قطار اندر قطار درخت، کئی جگہ ان کی شاخیں آپس میں مل کر سڑک کو ڈھانپ رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر پنجاب کو ملاتی سڑکوں کے اردگر لگے ٹالی اور کیکر کے درختوں کی یاد امڈ آئی۔ بل کھاتے راستوں سے گزرتے ہوئے درخت اور چراگاہیں اتنی زیادہ نظر آئیں کہ برطانیہ والوں پر رشک آنے لگا۔ گاڑی میں موجود اردگرد کے بارے میں بتایا یہ زرعی فارمز کاعلاقہ ہے۔ ہم نے بس اتنا کہا، کہاں لندن کے ڈربہ نما گھر کہاں یہ نظارے۔ فلموں، ڈراموں میں دیکھے برطانیہ میں تو ہم آج آئے ہیں۔ اچانک آتے جاتی اکرم چودھری کی گاڑی نے ایک پہاڑی کی جانب موڑ کاٹا ہم بھی پیچھے ہو لیے۔ پارکنگ میں گاڑی لگائی ،باہر نکلے تو سامنے نظر پڑتے ہی بے ساختہ منہ سے سبحان اللہ نکل گیا۔ اسلام آباد کی شکرپڑیاں جیسا نظارہ۔ ہم سرے کاؤنٹی کی ریڈ ہل پر کھڑے ہیں اور سامنے دور تک آبادی، وادی اور پہاڑوں، گھائیوں کا دلکش منظر مبہوت کر رہاہے۔ ہمیں ہکا بکا دیکھ کر جیسے کہہ رہا ہو، نواں آیا اے سوہنیا۔ ہمارے کھڑے کھڑے اچانک ہلکی ہلکی برف آسمان سے گرنے لگی۔ پہلے موسم سہانا تھا، اب مستانا ہو گیا۔ کچھ لمحے وہاں اور گزارے، تصاویر میں یہ حسیں پل قید کیے اور دوبارہ گاڑیاں تارکول والی سڑک پر آگے پیچھے دوڑنے لگیں۔

ہماری گاڑی میں کبھی لطیفوں کا دور چلا اور جرم کہانیوں کا۔ صحافیوں سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ خوش ہوں تو جملے کستے ہیں اپنی آئی پر آ جائیں تو قلم کو نشتر بنالیتے ہیں۔ ہمارااگلا پڑاؤ آ گیا ہے۔ یہ سرے ہل ہے۔

پارکنگ میں بمشکل جگہ ملی۔ انگریزوں کی خوبی ہے۔ دل لگا کر کام کرتے ہیں چھٹی ملتے ہی جی جان سے زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔یہاں بھی کاروں پر کئی سائیکلیں رکھی نظر آئیں۔ کچھ ٹریک پر چلا رہے تھے۔ زیادہ تر اپنے ساتھی کے ساتھ ادھر ادھر بیٹھے موسم اور ساتھ سے دل پشوری کرنے میں مگن نظر آئے۔ سرے ہل سے سرے کاؤنٹی نیچے بچھی نظر آرہی ہے۔ دور ایک کرکٹ گراؤنڈ بھی ہے جہاں میچ کھیلا جا رہا ہے۔یہاں ایک چبوترہ بھی بنا ہوا ہے جہاں باقیوں کی ہم نے تصاویر بنائیں اور پھر وسیع سبز قطعے پر چوکڑی جما کر بیٹھ گئے۔ پاکستانی سیاست میں عرصے تک دھوم مچانے والے سرے محل کے بارے میں سوال پوچھنے پر بتایا گیا۔ آصف زرداری کب کی اپنے حصے کی رقم لے کر دستبردار ہو چکے، اطلاع ہے کہ اب وہاں پارٹیاں جمتی ہیں۔ ہم نے بھی سیاست پر کچھ دن کے لیے چار حرف بھیجے اور ساتھ لائے میٹھے رسیلے انگور کھانے لگے۔

برائٹن سٹی آگیا۔ اگلی نشست پر بیٹھے مبین چودھری کی آواز پر ہم چونکے۔ ایک بڑا گیٹ آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ لندن کے جنوب میں واقع برائٹن سسکس کاؤنٹی کا حصہ ہے۔دوہزار ایک میں ملکہ ایلزبتھ نے شہر کا درجہ دیا۔ صاف ستھرا برائٹن اور حد نگاہ تک پھیلا سمندر پہلی نظر میں ہی دل کو بھا گیا۔ دو چودھری گاڑیوں کے لیے جگہ تلاش کرنے نکل پڑے۔ دو چودھریوں کے ساتھ ڈرائیو وے پر ہم چلنے لگے۔ بظاہر دھوپ ہے لیکن سرد ہوا کے سامنے اس کی ایک نہیں چل پارہی۔ یوں سمجھیں، کولڈ کافی کا مزا آرہا ہے۔ مبین چودھری، باقی دو چودھریوں سے رابطے میں مصروف ہوئے تو اعظم چودھری اور میں نے سیاحوں کے لیے چلنے چھوٹی ٹرام کی پٹری پار کی اور ساحل پر آگئے۔ یہاں ریت نہیں بلکہ برطانیہ کے کئی دوسرے ساحلوں کی طرح بجری ڈالی گئی ہے۔ سامنے کورٹ ایریا بنا ہوا ہے۔ جہاں مردوزن والی بال کھیل رہے ہیں۔ ماحول میں اک شور ہے جیتنے کا، ایک صدا ہے ہار جانے کی۔ کچھ دیر ٹھہر کر یہ منظر دیکھا۔دل سے کہا بس کافی ہے۔ ساحل پر پڑے چھوٹے چھوٹے پتھروں پر پاؤں مارتے ہوئے سمندر کا سامنا کر رہے ہیں۔ مجھے ہمیشہ لگتا ہے، سمندر ہمیشہ مجھ سے سرگوشیاں کرتا ہے۔آتی جاتی شور مچاتی لہریں دور دیس کی کہانیاں سناتی ہیں۔ دل چاہتا ہے۔چپ چاپ نگر نگر کی یہ باتیں دیر تک سنی جائیں۔ سمندر بول رہا ہو تو بیچ میں دماغ میں خیال کی گونج بھی اچھی نہیں لگتی۔ (جاری ہے)


ای پیپر