ہم بھی دائرے بڑھا رہے ہیں
06 May 2019 2019-05-06

ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک شخص کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔

اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ہو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا۔ چلتے چلتے ظہر ہوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاہیے،

مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاہئے۔

الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا

جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اتنا جلدی ڈھل رہا ہے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگھلنا شروع ہو گیا ہے۔

وہ شخص دوڑنا شروع ہو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رہا تھا ۔

آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے سٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رہے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا۔

جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور قبرپر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا…

’’اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ہے‘‘

افلاطون کی ایک بہت خوبصورت کوٹیشن ہے کہ ایک شہر میں دو شہر ہوتے ہیں ۔ ایک امیروں کا اور دوسرا غریبوں کا اور دونوں کے اخلاق و عادات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ افلاطون کی اس کہاوت میں کوئی شک و شبہ والی بات ہی نہیں۔ بطور معلم معاشرے کے، ہمارے ہاں تین طرح کے طبقات جنم لے چکے ہیں ۔ اَپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس… یہ تینوں کلاسز سماج میں پیوست ہو چکے ہیں ۔ اپر کلاس کے نزدیک انسانیت کی کوئی قدر قیمت نہیں ہے۔ وہ انسان اور انسانیت نام کی چیز سے ماورا ہیں ۔ ان کے نزدیک حدود و قیود کا کوئی تصور نہیں ہے۔ مڈل کلاس کے نزدیک زندگی گزارنے کے لیے تگ و دو ضروری ہے۔ مڈل کلاس معاشرے کا وہ جزو ہے جس کا رخ دین اور دنیا دونوں کی طرف ہوتا ہے۔ کاروباری حضرات ملاوٹ بھی کرتے ہیں ۔ چور بازاری بھی کرتے ہیں اور نماز و روزہ کی پابندی بھی کرتے ہیں ۔ تھوڑا بہت رجحان صدقہ و خیرات کی طرف بھی ہوتا ہے۔ صدقہ اور خیرات کا زیادہ تعلق ان کے میلان پر منحصر ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنے مکانوں یا کوٹھیوں کے باہر ھذا من فضل ربی بھی لکھوایا ہوتا ہے۔ ان کے موبائل کی رنگ ٹیون کسی نعت یا مولانا طارق جمیل کے بیان پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ سر پر پگڑی یا سفید ٹوپی بھی رکھتے ہیں اور ہاتھ میں تسبیح بھی دکھائی دیتی ہے۔ ماہ رمضان کے آتے ہی الٹی چھری سے گاہکوں کو ذبیح کرتے ہیں اور بوقت نماز مسجد کی طرف دوڑتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ امام کی جگہ نہ سہی مگر پہلی صف پر ضرور قابض ہوتے ہیں ۔ اب آخری قسم لوئر مڈل کلاس کی ہے۔ یہ وہ کلاس ہے جو بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرتی ہے۔ یہ خط غربت تو کیا خط زندگی سے بھی نیچے زندگی بسر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ہم بطور معاشرے کے اور بطور اسلامی ملک کے باشندے ہونے کے ان کی زندگیوں کو بہتر نہیں کر سکے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ جو روٹی، کپڑا ، مکان کے جھانسے سے لے کر کئی کروڑ گھروں کے جھانسے میں آکر ووٹ دیتے آئے ہیں ۔ بریانی کے ایک ڈبے کی خاطر کوسوں میل سفر کریت ہیں اور جلسے میں گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کبھی بھی چودہویں رات کا گول چاند بھی روٹی نظر آتا ہے بلکہ زمین پر لگائے گئے دائرے بھی روٹیاں ہی نظر آتی ہیں ۔

قارئین یہ تمام باتیں انتہائی دکھ کی ہیں ۔ گورنمنٹ کو آج ہم کچھ نہیں کہتے ۔ آج سابق حکومتوں کو بھی معافی ہے۔ کیا بطور انسان ، بطور مسلمان ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں ۔ ہم ان فرضوں کو کس قدر پورا کرتے ہیں ۔ کیا ہم اپنے غریب ہمسائے کا خیال کرتے ہیں ۔ کیا ہم اپنے غریب عزیز و اقارب کا خیال رکھتے ہیں ؟ کیا یتیم اور بیواؤں کا حال پوچھتے ہیں ؟ کیا ہم غریب اور بھوکے شخص کی داد رسی کرتے ہیں ؟ کیا ہم اپنے غریب بہن اور بھائی کو مالی، اخلاقی سپوٹ کرتے ہیں ؟ کیا ہم غریب بیمار کی تیمارداری کرتے ہیں ؟ کیا ہم بوڑھے ماں باپ کی محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں ؟ کیا ہم بوڑھے اور ضعیفوں کا سہارا بنتے ہیں ؟ کیا ہم کسی غریب بچے کے تعلیمی اخراجات کی پروا کرتے ہیں ؟ کیا ہم کس ننگے پاؤں والے کا احساس کرتے ہیں ؟ کیا پھٹے پرانے لباس والے کی بے لباسی کا خیال کرتے ہیں ؟ نہیں ہم قطعاً نہیں کرتے۔ ہم صرف دولت کا دائرہ بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اب آپ سکے کا دوسرا رخ دیکھئے۔ کیا ہم ماہ رمضان میں روزے داروں کا خیال کرتے ہیں ؟ کیا پھل اور سبزیاں کم منافع پر فروخت کرتے ہیں ؟ کیا تاجر تجارت کرتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ کی سنت کی پیروی کرتا ہے؟ کیا سارا سال کی نہ بکنے والی چیز ماہ رمضان میں سستی بھیجی جاتی ہے۔ کیا زکوٰۃ ایمانداری کے ساتھ ادا کی جاتی ہے؟ نہیں کچھ بھی ایسا نہیں ہے اور کوئی بھی اس ظلم سے مبرا نہیں ہے۔ ہر ایک کو دولت اکٹھی کرنے کی پڑی ہوتی ہے اور ہر ایک سارے سال کے لیے دھن اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ چاہیے اسے اپنا من ہی کیوں نہ فروخت کرنا پڑے۔ ہم انسانیت کو بھول گئے ہیں ۔ ہم مذہب اور پیارے نبیؐ کی تعلیمات کو بھول کر مادی دائرے بڑھانے پر تل گئے ہیں ۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ مادی دائرے وسیع سے وسیع تر ہو جائیں مگر یاد رکھیے یہ دائرے اربوں، کھربوں بھی پہنچ جائیں تو آپ کی خواہش ختم نہیں ہو گی۔ یہ دائرے سوئس بینکوں تک بھی پہنچ جائیں تو آپ کے حصے میں سات فٹ لمبا اور تین فٹ چوڑا زمینی دائرہ آئے گا۔ اس سے پہلے کہ زمینی دائرہ ناپا جائے۔ آپ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیے۔ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیے۔


ای پیپر