میاں صاحب کا علاج PIC لاہور میں ہی ہو
06 مئی 2019 2019-05-06

2008ء سے بی بی کی شہادت کے بعد تبدیلی، نیا پاکستان، یورپ، انگلینڈ ، سستا پٹرول ، انصاف، دیانتداری ، احتساب اب روحانیت کے نام پر بہت سیاسی کام ہوا حتیٰ کہ حکومت ہی قائم کر دی گئی۔ صحت، تعلیم، انصاف موجودہ حکمران پارٹی کا سلوگن رہے ہیں۔ میاں صاحبان کے سڑکیں بنانے پر فقرہ کسا گیا اوئے سڑکیں نہیں قوم بناتے ہیں میرے مشاہدے میں ضیاء الحق کے بعد موجودہ دور میں قوم کو جتنا تقسیم کیا گیا کسی اور دور میں ایسا نہیں ہوا۔ صحت کا معاملہ دیکھ لیں اگلے روز 28 اور 29 اپریل کی رات میرے دوست کی والدہ کی حالت خراب ہوئی ان کو ان کے گھر کے قریب بھٹہ چوک ایک ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈیوٹی ڈاکٹر نے کہا کہ ہمارے ہاں آئی سی یو نہیں ہے۔ ان کی ای سی جی بھی درست نہیں جبکہ سانس بھی پھولا ہوا ہے۔ آپ کسی دل کے ہسپتال لے جائیں پرائیویٹ ہسپتالوں کا تو سب کو علم ہے بقول سابق چیف جسٹس کے لوگ گاڑی پر آتے ہیں اور گاڑی بیچ کر بل ادا کرتے ہیں۔ یورپ امریکہ سعودیہ کہیں بھی ہو ہر جگہ زندگی بالآخر موت ہے ۔ ہوتا تو اللہ حکم یہی ہے مگر ڈاکٹروں کی غفلت جیسا سبب جتنا وطن عزیز میں ہے اتنا کہیں اور نہیں۔ بحرحال دوست کی والدہ محترمہ سیدہ شبیہ فاطمہ کو PIC لے جایا گیا وہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر صاحب سے کہا گیا کہ ماں جی ایمرجنسی میں ایمولینس پہ آئی ہیں اس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے کوئی دہشت گرد سعودیہ یا امریکہ کا ویزہ مانگ بیٹھا ہے۔ ڈاکٹر پوری رعونت سے کہنے لگا کہ لائین میں لگا دیں اس کے پاس جو مریض تھا وہ پٹھوں کے درد کے ساتھ اور درست ECG والا تھا۔ جس لوڈر نے ویل چیئر پکڑی ہوئی تھی، اس کو ترس آ گیا اور وہ ماں جی کو سیدھا ایمرجنسی کی آئی سی یو میں لے گیا وہاں موجود ڈاکٹروں نے TROP Iکے ساتھ دیگر ٹیسٹ تجویز کیے اور سانس ٹھیک کا ٹیکہ لگا دیا۔ جس سے وہ بہتر ہوئیں 80 سالہ خاتون وہیل چیئر پر اور ٹیسٹ کا انتظار شروع کر دیا۔ TROP Iجو ہارٹ اٹیک بتاتا ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا گیا اس نے کہا positive ہے اس کو repeat کرواؤ اب دوبارہ بلڈ دیا۔ میں نے کہا کہ کوئی بیڈ، کوئی جگہ جہاں ان کو لٹا دیا جائے اس نے کہا کوئی بیڈ نہیں نہ جگہ ٹیسٹ آجائے یہ یاد رہے کہ ہارٹ اٹیک کی بلڈ رپورٹ positive عمر 80 سال ہے رات دس بجے سے صبح 5 بجے تک وہیل چیئر پر بٹھائے رکھا۔ نہ بیڈ دیا نہ کوئی علاج کیا رپورٹ جو ایک گھنٹہ بعد آنا تھی 5 گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ سسٹم آف ہے۔ ماں جی کو گھر لے آئے صبح پتا چلا کہ 250 سے اوپر مریضوں کے بلڈ سیمپل ضائع ہو گئے۔ اگلے روز زندگی کی تلاش میں پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے اس نے چیک کیا اور جیل روڈ کے پرائیویٹ ہسپتال کی ایمرجنسی اور بعد میں ICU میں داخل کروا دیا۔ ایک رات گزارنے کا صرف کرایہ 18 ہزار روپے تھا باقی خرچہ الگ مجبوراً دوست کو ایسا کرنا پڑا۔ مسیحائے شہر جناب ڈاکٹر شہریار احمد شیخ نے وزیر اعلیٰ نواز شریف کے دور میں PIC کو آئیڈیل ہسپتال بنایا مگر مسیحائے شہر کے بعد 350 سے زائد لوگوں کی اموات اور دیگر عیاشیوں کے سکینڈلز اس ہسپتال کے ذمہ آئے۔ میں نے PIC کے اپنے دوست ڈاکٹر سے کہا کہ یار ہارٹ اٹیک کی مریضہ کو رات انتظار اور اذیت کی وہیل چیئر پر رکھا ، گھر جانے کا کہا نہ داخل کیا نہ علاج کیا وہ کہنے لگے کہ آپ کہتے ہم نے pay کر کے علاج کروانا ہے اسی وقت داخل کر دیتے میں نے کہا اس لفظ کا مجھے آئیڈیا نہیں تھا لہٰذ ا قارئین اگر اللہ نہ کرے PIC جانا پڑ جائے تو pay کا لفظ استعمال کر لیں۔ اگلے روز میں اسی ہسپتال کی OPD میں گیا اف میرے خدایا! صحت مند آدمی بلکہ واوڈا بھی جائے تو بے ہوش نہ ہو جائے جو اسد عمر کی سزا وہ میری سزا دل کے مریضوں کا OPD جہاں سانس لینا دشوار ایسے جیسے جنگی قیدی پکڑ رکھے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال تو فائیوسٹار ہوٹلز بنے پڑے ہیں۔ مگر یہ ہسپتال جن پر حکومت بہت خرچ کرتی ہے یہاں پر جو سلوک کیا جاتا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد ایک اچھی درد دل والی خاتون ہیں مگر عملی طور پر صوبہ پنجاب لاہور میں شہباز شریف لگ جانے کا دعویٰ کرنے والے بزدار کے علاوہ تین تجربہ کار ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ بھی ہیں مگر عوام الناس برباد ہوئے دے رہے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں اسد عمر واپس آئیں گے الگ بات ہے کہ قوم سہم گئی کہ مہنگائی نے رشتے دار اجنبی بنا دیئے۔ فرماتے ہیں 5 سالوں میں 50 لاکھ گھر بنائیں گے میرے خیال سے اگر ایسے ہی رہا تو پانچ سالوں میں گھروں کے مالکان اپنے گھر فروخت کر دیں گے۔ اعداد و شمار جمع کر لیں، اتنے لوگ انڈ و پاک جنگ، دہشت گردی کے ہاتھوں نہیں مرے جتنے لوگ ڈاکٹروں کی بے اعتنائی اور غفلت نگل گئی۔ کبھی PIC اور دیگر ہسپتالوں کے دروازوں اور راہداریوں پر شرح اموات تو دیکھیں۔ جہاں 10 دوائیاں حکومت فری دیتی تھی اب 3 دوائیاں دے رہی ہے۔ ڈاکٹر اپنی اپنی سیٹ پر امریکی ویزہ آفیسر بنے پڑے ہیں۔ کراچی غلط ٹیکے لگنے سے مرنے والوں ایڈز کے موذی مرض میں مبتلا کر دیئے جانے والوں اور دیگر دکھیوں کا ازالہ کون کرے گا۔ دل کے مریضوں کو نزلہ زکام کے مریضوں سے بھی زیادہ لاپروائی کا سامنا ہے جبکہ دیگر دنیا میں دل کے مریض کا میڈیکلی پروٹوکول ہے کہ اس کو ایک قدم پیدل نہیں چلنے دیاجاتا۔ اس کو اپنی شرٹ کا بٹن بھی خود نہیں کھولنے دیا جاتا جہاں دل کے 250 سے زائد مریضوں کے خون کے نمونے ضائع کر دیئے جائیں۔ Tropi ہارٹ اٹیک positive ہونے پر بھی علاج میسر نہ ہو ۔ اس ہسپتال میں میاں صاحب کا علاج ضرور ہونا چاہیے کیونکہ وہ تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور اتنی شفا اور مریضوں کی اتنی آمد ہے کہ لواحقین اور مریضوں کو خوفناک آواز اور مارنے کے انداز میں ہٹو بچو کی آوازیں دینا پڑتی ہیں میں کراچی کے محمد جبران ناصر کو سلیوٹ کرتا ہوں جو ایسے معاملات اٹھاتا ہے۔ شریف نے پنجاب میں ہیلتھ کیئر کمیشن قائم کیا تھا۔ مگر سالوں پرانی درخواستیں فیصلوں کی منتظر ہیں۔ یہ ادارہ اگر کچھ سدباب نہیں کر سکتا تو اس کو بند ہی کر دیا جائے اور درخواستیں حقیقی عدالتوں میں منتقل کر دی جائیں۔ تبدیلی سرکار! چور چور، ڈیل ڈھیل، NRO کی فلم اب نہیں چلے گی۔ انگریزوں نے جو ادارے بنائے وہ برباد ہوئے۔ جناب بھٹو نے جو اصلاحات کیں وہ زمین بوس کر دی گئیں اور بقول حکومت کے ’’چوروں، ڈاکوؤں اور ملک لوٹنے والوں‘‘ نے جو اچھے کام کیے ہیں انہیں آگے نہیں بڑھا سکتے تو کم از کم پرانا معیار ہی بحال کر دیں تا کہ میاں محمد نوا زشریف صاحب کا علاج تو اس ملک میں ہو سکے۔

میو برادران، گلاب دیوی، سر گنگا رام نے چندہ نہیں کیا تھا ذاتی کمائی سے خدمت خلق کی اور وزارت نہیں مانگی سرکاری کی زمین پر پوری دنیا کے پاکستانیوں نے چندہ دیا ایک ہسپتال بنایا اور قوم پر آپ کو وزیراعظم لگا دیا جبکہ بزدار کو پنجاب میں شہباز شریف لگادیا گیا حسرتوں کی ماری اس قوم کے بیمار لوگوں اور لواحقین کی تو داد رسی کر دیں۔


ای پیپر