پرانا کالم
06 May 2019 2019-05-06

نیا تو لکھتے ہی رہتے ہیں، کبھی پرانا کالم بھی لکھنا چاہئے۔یہ دسمبر 2013ء کی بات ہے، لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ میں ایک کالم لکھا تھا، تبدیلی کی شدید آرزو میں لکھا گیا ایک پرانا کالم حالات کے ادراک کیلئے قارئین کی نذر کررہا ہوں۔ پہلی بار پڑھنے کے بعد میاں صاحب کی جگہ خان صاحب لگا کر دوسری بار پڑھنے سے لطف دوبالا ہوگا، آزمائش شرط ہے۔

’’کب تک؟

دھاندلی کا شور اپنی جگہ، حقیقت یہ ہے کہ جیسے بھی تھے، انتخابات ہوچکے، میاں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کرچکے، طویل ہنی مون بھی منایا جا چکا، اب عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کا وقت ہے۔ہوسکتا ہے اپوزیشن مفاہمت کا درس دہراتی رہے لیکن میاں صاحب! ہم آپ کو آپ کے وعدے یاد دلاتے رہیں گے، ہم آپ کو بتاتے رہیں گے کہ عوام منتظر ہیں، کب ان کے حالات بدلیں گے، کب لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی، پٹرول مہنگا نہیں سستا ہوگا، وہ دن کب آئے گا جب بدحالی کا شکار معیشت خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی؟ نوجوان فارم بھر کر منتظر ہیں کب انہیں اپنا کاروبار کرنے کیلئے بلاسود قرضے ملیں گے؟ قوم کی بیٹیاں گھر کی چاردیواری میں باعزت روزگار شروع کرنے کو بے قرار ہیں۔ کتنا وقت لگے گا دہشتگردی کے عفریت کو انجام تک پہنچانے میں؟ آخر کب تک قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی؟ قوم کے بیٹے لہو میں نہاتے رہیں گے۔ ہماری مساجد ہمارے مدارس، ہمارے بازار ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، میاں صاحب! آپ تو کہتے تھے، ڈرنا چھوڑ دو، خوف کا دور ماضی کا قصہ کہانی بن جائے گا۔ کیا واقعی؟ کیا فرق آیا؟ یہی کہ بجلی جو پہلے آ ہی جاتی تھی اب کبھی کبھار ہی آتی ہے، لیکن مینار پاکستان کے سائے تلے کیمپ لگانے آج کوئی نہیں آتا۔ ٹھنڈے موسم میں لوڈشیڈنگ کا یہ حال ہے، گرمیوں میں کیا بنے گا؟ بجلی اتنی ہوگی دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے، یہ آپ ہی کہا کرتے تھے ناں؟ کرتے رہیئے گا ایکسپورٹ بھی، لیکن پہلے عوام کو تو دے دیں۔ فیکٹریاں ملیں بند ہورہی ہیں، لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں، مزدور کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے، غریب کیا کرے، اس کے پاس تو زہر کھانے کو بھی پیسے نہیں ہیں۔ اچھا وقت آئے گا، اچھا وقت آئے گا، یہ سن سن کر پیٹ نہیں بھر سکتا، حضور! جس دیس میں اللہ کے گھر سے زیادہ سینما گھر محفوظ ہوں، وہاں امن کا قیام دیوانے کا خواب نہیں تو اور کیا ہے؟

صورتحال کیا ہے، میرے سامنے ایشیائی ترقیاتی بینک کی حالیہ جائزہ رپورٹ پڑی ہے، لکھا ہے، 2014ء میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے کم ہوگی۔ شرح نمو تین اعشاریہ چار فیصد رہنے کا امکان ہے، جو دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار افغانستان سے بھی کم ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق ں نئے سال میں شرح مہنگائی نئے ریکارڈ بنائے گی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ بیرونی قرضوں میں اضافہ، درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتی خلیج، ادائیگیوں میں عدم توازن، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، اور افراط زر جیسے عوامل جاری اور تجارتی خساروں میں نمایاں اضافے کا باعث بنیں گے۔ کل ملا کر نتیجہ یہ ہے کہ ملکی معیشت آئندہ برس بھی سست روی کا شکار رہے گی۔ غربت، بیروزگاری اور مہنگائی بڑھے گی۔ آپ کے دکھائے گئے سپنوں کی تعبیر دیکھنے کی حسرت لئے جانے کتنی آنکھیں ہمیشہ کیلئے بند ہو جائیں گی۔

کب تک؟ آخر کب تک؟ عوام ایسے ہی سیاستدانوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہیں گے، سہانے سپنوں کے سرابوں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، خواب دیکھتے دیکھتے خواب بنتے جائیں گے؟ آخر اس شب تیرہ کی کبھی تو سحر ہوگی، لیکن کب تک؟ پیپلز پارٹی سے نجات کی خوشی اتنی جلدی ختم ہوجائے گی، کس کے گمان میں تھا؟ کون سوچ سکتا تھا، دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والا ملک ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بنگلہ دیش جیسے پٹ سن دیس سے بھی پیچھے رہ جائے گا؟ دنیا کی سب سے بڑی ورک فورس یوں بے کار بیٹھ کر بے جان ہو جائے گی، قدرتی وسائل سے مالا مال جنت بے نظیر یوں بے توقیر ہو جائے گی، ایسا تو آپ نے کچھ بھی نہ کہا تھا۔ امدادی ٹرکوں سے خوارک لینے کیلئے لائنوں میں لگے عوام سوچ رہے ہیں، جو پہلے تھے اور جو آج ہیں، دونوں میں فرق کیا ہے؟ بجلی گیس بحران، آٹا گھی بحران، امن و امان کا بحران، غربت، بے روزگاری مہنگائی، غریب کیلئے کیا بدلا؟ زندگی جبر مسلسل جو پہلے بھی تھی سو اب بھی ہے۔

پیپلز پارٹی نے غریب ختم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، لیکن میاں صاحب! آپ بھی زرداری حکومت کا پارٹ ٹو بننے جا رہے ہیں، غریب کو مار نے سے غربت ختم کرنے کا فارمولا زرداری کو بہت بھاری پڑا، آپ بھی کسی خوش فہمی میں نہ رہیئے گا۔ بھلے اپوزیشن لیڈر آپ کے چھوٹے سیاسی بھائی کی جماعت سے ہے، لیکن 35 پنکچرز کا معاملہ اتنا بے محل بھی نہیں، گھر بار سے فارغ عمران مبینہ دھاندلی پر گھر نہیں بیٹھا رہے گا، اپوزیشن کی اصل کمان خورشید شاہ نہیں عمران خان کے ہاتھ میں ہے، کپتان کے کھلاڑی جارحانہ کھیل دکھانے کیلئے بے قرار ہیں۔ عوام کے دل میں نئی سیاسی قوت گھر کر چکی، پنجاب سے پیپلز پارٹی کا وجود ختم کرنے کی خوشی عارضی ہے، آپ کے قلعے میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ میٹھی باتوں سے کام نہیں بنے گا، وہ جو سب پر بھاری تھے ان پر واقعی بھاری پڑنا ہے تو کارکردگی دکھانا ہوگی، ثابت کریں، آپ پچھلوں سے بہتر ہیں، عوام کو فوری ریلیف دیں، وہ وعدے جن پر اکثریت نے اعتبار کیا، انہیں وفا کریں۔ جتنی تاخیر ہوگی، حالات پر آپ کی گرفت کمزور ہوتی جائے گی، پھر حکومت کی باگ آپ کے اور ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہوگی۔ ‘‘


ای پیپر