وزیر اعظم کو ملکی معاملات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی بریفنگ
06 May 2019 (15:53) 2019-05-06

اسلام آباد: وزیر ِ اعظم عمران خان کو اعلی سطحی اجلاس میں بتا یا گیا ہے کہ مالی سال 2017-18میں محض ایک سال میں گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا، چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولیوں کی مہم کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں، چار ماہ میں 48ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے۔

  وزیر ِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعلی سطحی اجلاس ہوا۔اجلاس میں  وزیر ِ اعظم کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18میں محض ایک سال میں گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا، اکتوبر2018میں موجودہ حکومت کی جانب سے چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولیوں کے سلسلے میں باقاعدہ مہم شروع کی گئی جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں،دسمبر2018سے مارچ 2019تک بجلی چوری کی روک تھام اور واجب الادا رقوم کی وصولیوں کی مد میں محض چار ماہ میں 48ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے جوکہ رواں سال کے اختتام تک 80ارب تک پہنچ جائے گی،اضافی وصولیاں آئندہ سال110ارب تک پہنچ جائیں گی جبکہ جون 2020تک 190ارب روپے اکٹھے کیے جانے کی توقع ہے۔

وزیر ِ اعظم کو بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں چوری،تکنیکی وجوہات اور ترسیل و تقسیم کے ضمن میں ہونے والے نقصانات پر قابوپانے کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بجلی چوری کی روک تھام کی مہم میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر ِ اعظم کو بتایا گیا کہ اب تک ستائیس ہزار سے زائد ایف آئی آر درج کرائی جا چکی ہیں اور 4225 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، گرفتار شدگان میں 433 اہلکار ہیں جبکہ 1467مزید اہلکاروں کو چارج شیٹ کیا گیا ہے۔

وزیر ِ اعظم کو بتایا گیا کہ ترسیلی نظام کی 15بڑی خامیوں کو دور کیا جا چکا ہے جس سے نظام کی صلاحیت میں 3000میگا واٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کی وجہ سے ماہ رمضان میں ملک بھر میں 80فیصد فیڈرز پر کسی قسم کی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔ بقیہ 20فیصد فیڈرز پر کہ جہاں بعض مقامات پربجلی چوری کی شرح اسی فیصد سے بھی زائد ہے وہاں نقصانات کے تناسب سے لوڈ مینیجمنٹ کا پلان ترتیب دیا گیا ہے


ای پیپر