ہائیر ا یجوکیشن بجٹ میں کٹوتی
06 May 2019 2019-05-06

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ہائےر اےجوکےشن کمےشن آف پاکستان کے بجٹ مےں تقرےبا 50 فےصد کمی کرنے کا فےصلہ کےا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ مےں اس کمی کا اعلان متوقع ہے۔حکومت کی طرف سے ہائر اےجوکےشن کمےشن کو اس فےصلے سے آگاہ کر دےا گےا ہے۔ جب سے ےہ خبر سامنے آئی ہے ےونےورسٹےوں کے اساتذہ اور طالبعلموں مےں انتہائی اضطراب پاےا جاتا ہے۔ تعلےمی بجٹ مےں کمی کا فےصلہ واقعتا قابل تشوےش ہے۔ پاکستان تو ےوں بھی خطے کے دےگر ممالک سے بہت کم شعبہ تعلےم پر خرچ کرتا ہے۔انڈےا تو رہا اےک طرف۔افغانستان، نےپال، بھوٹان اور مالدےپ جےسے ممالک بھی تعلےم پر ہم سے کہےںزےادہ خرچ کرتے ہےں۔ اب اگر اعلیٰ تعلےم کے بجٹ مےں ےکمشت 50 فےصد کٹوتی کی جاتی ہے تو صورتحال مزےد ابتر ہو جائے گی۔ جامعات کا بجٹ کم ہو گا تو اپنے اخراجات پورے کرنے کےلئے لا محالہ انہےں فےسےں بڑھانا پڑےں گی۔فےسےں بڑھےں گی تو داخلہ لےنے والوں کی تعداد مےں مزےد کمی واقع ہو گی۔ مطلب ےہ کہ اعلیٰ تعلےم کی شرح مےں مزےد کمی۔ ےوں تو ہم بہت فخر کرتے ہےں کہ ہمارے ملک کی آبادی کا بڑا حصہ ) تقرےبا دس کروڑ) 25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنےا بھر مےں نوجوان افرادی قوت واقعتا اےک سرماےہ تصور ہوتی ہے۔ تاہم تعلےم اور ہنر کے بغےر ےہ افرادی قوت سرما ےہ کے بجائے اےک بوجھ ہے۔ تو کےا خدا نخواستہ ہم اپنے بوجھ مےں مزےد اضافہ کرنے جا رہے ہےں؟

تعلےمی بجٹ مےںپچاس فےصدکٹوتی کا سےدھا سےدھا مطلب ےہ ہے کہ اعلیٰ تعلےم مےں پچاس فےصد کمی۔ معےار مےں بھی اورتعلےمی سرگرمےوں کی تعداد مےںبھی ۔ ےہ بات تو طے ہے کہ بجٹ مےں کمی کے بعد کوئی نےا پروگرام شروع نہےں ہو سکے گا۔ بلکہ پہلے سے جاری پروگراموں کو بند کرنا پڑے گا۔ کوئی نئی ےونےورسٹی ےا ےونےورسٹی کا سب کیمپس کھولنا تو دور کی بات ،پہلے سے جاری بہت سے منصوبے روکنا پڑےں گے۔ تحقےقی سرگرمےاں ماند پڑ جائےں گی۔ نئی بھرتےاں بھی مشکل نظر آتی ہےں۔ ہم نے ےونےورسٹی کے استاد پر لےکچر کےساتھ ساتھ تحقےقی مقالے لکھنے، اےم ۔فل اور پی۔اےچ۔ڈی کروانے اور انتظامی امور کا اسقدر بوجھ لاد رکھا ہے۔ اےسے مےں استاد اچھی تنخواہ اور سہولےات کی توقع کرتا ہے۔ مگر لگتا ےہ ہے کہ بجٹ مےں کمی کے باعث اسے پہلے سے مےسر سہولےات پر بھی زد پڑے گی۔ بےرون ملک کانفرنسوں اور ورکشاپس کےلئے دی جانے والی سفری گرانٹس تو وفاقی اور صوبائی ہائر اےجوکےشن کمےشنز پہلے ہی بند کر چکے ہےں۔نامعلوم فےکلٹی ڈےوےلپمنٹ پروگرامز کا مستقبل کےا ہو گا۔ اساتذہ اور طالبعلموں کو ڈاکٹرےٹ اور پوسٹ ڈاکٹرےٹ کےلئے بےرون ملک بھجواےا جاتا تھا۔ نجانے ےہ سلسلہ کیونکر جاری رہے گا۔ پےپلز پارٹی کے دور حکومت مےں ہائےر اےجوکےشن کمےشن کے بجٹ مےں کمی کی گئی تھی توبےرون ملک زےر تعلےم طلباو طالبات خوار ہوتے رہے تھے۔ ےہاں تک کہ بہت سے طلباءبےرون ملک بھےک مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ کےا ہم اب بھی ےہی صورتحال پےدا کرنا چاہتے ہےں؟ بجٹ کٹوتی کی خبروں کےساتھ ےہ خبر بھی سننے کو ملی کہ جامعات کو ہداےت کی گئی ہے کہ وہ " چندہ " اکٹھا کر کے اپنے اخراجات پورے کرنے کی منصوبہ بندی کرےں۔ اب کےا ہماری سرکاری ےونےورسٹےاں NGOs کی طرح فنڈز اور چندے اکٹھے کےا کرےں گی؟ ۔

ہم سب بخوبی آگاہ ہےں کہ تعلےم پر خرچ کرنا اےک محفوظ سرماےہ کاری ہے جو منافع سمےت واپس ملتی ہے۔معلوم نہےں کےوں ہم اس سرماےہ کاری سے گرےزاں ہےں۔ اےک طرف تو تعلےم کی اہمےت بتانے کےلئے وزےر اعظم ہاوس ( رہائشی حصے ) کورےسرچ ےونےورسٹی بنانے کا اعلان کےا جاتا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ تعلےم کے بجٹ مےں اس قدر کمی کا فےصلہ کہ ےونےوسٹےوں کا گزارہ مشکل ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے معےشت کو درست سمت مےں ڈال دےا ہے۔اگر اےسا ہے تو تعلےمی بجٹ مےں کمی کی کےا ضرورت ہے؟ گزشتہ چند ماہ مےں مہنگائی جس تےزی سے بڑھی ہے اور روپے کی قدر مےں جس تےزی سے کمی ہوئی ہے، اسے دےکھتے ہوئے تو تعلےمی بجٹ مےں کم از کم پچاس فےصد اضافہ کرنا چاہےے تھا۔ مگر پہلے سے موجود بجٹ مےں کمی کا اعلان کر دےا گےا ہے۔ برسوں سے ہم حکومتی اور صحافتی سطح پر ےہ واوےلا سنا کرتے تھے کہ ہماری ےونےورسٹےاں عالمی درجہ بندی مےں اپنی جگہےں نہےں بنا پاتےں۔ابھی چند ماہ پہلے جامعہ بنجاب سمےت سات ےونےورسٹےوں نے بےن الاقوامی درجہ بندی مےں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ہونا تو ےہ چاہےے تھا کہ ان جامعات اور انکے سربراہان کی اعلیٰ ترےن سطح پر پذےرائی کی جاتی۔ انہےں انعامات سے نوازا جاتا۔ اس کامےابی کی خوشی مےں انہےں تعلےمی بجٹ مےں اضافے کی نوےد سنائی جاتی۔ مگر حکومت نے بجٹ مےں پچاس فےصد کمی کا عندےہ دےا ہے اور ےہ پےغام بھی کہ اپنے اخراجات پورے کرنے کےلئے ©" چندہ" مہم چلانے کی تےاری کرےں۔ اےسے حالات مےں کسے پڑی ہے کہ معےار تعلےم مےں بہتری اور عالمی درجہ بندی مےں جگہ پانے کےلئے کوششےں کرتا رہے۔

بر سراقتدار آنے سے قبل عمران خان اپنے ہر جلسے مےں تعلےم کی اہمےت بےان کےا کرتے تھے۔ تعلےم کےلئے کم بجٹ مختص کرنے پر پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ ´´´´(ن) کی حکومتوں پر تنقےد کےا کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ تعلےم جےسا اہم شعبہ ان حکومتوں کی ترجےحات مےں شامل ہی نہےں ہے۔برسر اقتدار آنے کی صورت تعلےمی بجٹ بڑھانے کے وعدے کےا کرتے تھے۔ تحرےک انصاف کی حکومت بنے اےک سال کا عرصہ ہونے والا ہے، تاہم ابھی تک کوئی تعلےمی پالےسی وضع نہےں ہو سکی۔جہاں دےکھےں انتہائی بے سمتی کی کےفےت دکھائی دےتی ہے۔ کئی ماہ سے پنجاب کی درجن بھر جامعات مستقل سربراہان کے بغےر کام کر رہی ہےں۔ پنجاب ہائر اےجوکےشن کمےشن کا بھی سربراہ مقرر نہےں ہو سکا ہے۔ مسلم لےگ (ن) کے دور مےں شروع ہونے والے وزےر اعظم فےس reimbursement پروگرام رکنے کی خبرےں بھی سننے کو مل رہی ہےں۔اس پروگرام کے تحت بلوچستان، فاٹا اور دےگر دور دراز علاقوں کے طالب علموں کی فےس ادا کی جاتی تھی۔ عمران خان ہمےشہ ملائشےاءکے وزےر اعظم ڈاکٹر مہاتےر محمد کو آئےڈےل مانتے ہےں۔ ملائشےا کی ترقی کی مثالےں دےتے نہےں تھکتے۔ انہےں ےقےنا معلوم ہوگا کہ ملائیشیا کی ترقی مےں مہاتےر کی تعلےمی پالےسےوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔تےس برس قبل، جب مہاتےر محمد پہلی بار بر سراقتدار آئے تو انہوں نے ملکی بجٹ کا 30 فےصد تعلےم کےلئے وقف کر دےا تھا۔ ابھی چند ماہ پہلے مہاتےر حکومت نے اپنا بجٹ پےش کےا ہے جس مےںتعلےم کےلئے کثےر بجٹ شامل ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر مہاتےر محمد نے کہا کہ 60 ارب رنگےٹ) 2040ارب روپےہ) کا بجٹ تعلےم کے لئے مختص کےا جا رہا ہے۔ کےونکہ وہ سمجھتے ہےں کہ آنے والی نسلوں کو پہلے سے زےادہ علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے سمجھنے کی بات ےہ ہے کہ ملائشےا جےسی ترقی کرنی ہے تو مہاتےر محمد جےسے عملی اقدامات کرنا ہونگے۔

افسوس کی بات ےہ ہے کہ اس سارے قضےے مےں اپوزےشن کی احتجاجی آواز سننے کو نہےں ملی۔ نہاےت ضروری ہے کہ اپوزےشن جماعتےں اس معاملے مےں اپنا حصہ ڈالےں۔ کوئی بھی حکومتی فےصلہ ےا اقدام جو تعلےمی سرگرمےوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے، اسے رکوانے کے لئے حکومت کو دبا و مےں لائے۔بالکل وےسے ہی جےسے شہباز شرےف کو پبلک اکاو¿نٹس کمےٹی کا سربراہ بنانے کےلئے حکومت کو گھٹنے ٹےکنے پر مجبور کےا گےا تھا۔ مجھے ےاد ہے کہ فروری کے آغاز مےں مےڈےا پر خبرےں تھےں کہ حکومت دفاعی بجٹ مےں کمی کے متعلق سوچ رہی ہے۔انہی دنوں اےک کابےنہ اجلاس کے بعد اس وقت کے وزےر اطلاعات فواد چوہدری نے مےڈےا برےفنگ مےں بتاےا کہ" کابےنہ نے فےصلہ کےا ہے کہ دفاعی بجٹ مےں کسی قسم کی کمی نہےں ہو گی۔ ہمارا دفاعی بجٹ انڈےا سمےت خطے کے دےگر ممالک سے کم ہے اور اس مےں اضافے کی ضرورت ہے"۔ تعلےم بھی قوموں کی بقا اور دفاع کا معاملہ ہوا کرتا ہے۔ کاش کہ تعلےمی بجٹ کو بھی اتنی ہی اہمےت دی جائے اور کوئی حکومتی ترجمان قوم کو بتائے کہ" کابےنہ نے فےصلہ کےا ہے کہ تعلےمی بجٹ مےں کسی قسم کی کمی نہےں ہوگی۔ ہمارا تعلےمی بجٹ انڈےا سمےت خطے کے دےگر ممالک کے بجٹ سے کم ہے اور اس مےں مزےد اضافے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر