نظام سقہ، نظام دکن، ہمارا نظام اور نظام الدین اولیائؒ
06 May 2019 2019-05-06

مکمل سابق وزیراطلاعات، جو موجودہ حالات اور صیاد کے دوسرے شکار تھے، انہوں نے دوباتیں ایسی کی تھیں، جن میں سے ایک کا تو معترف ہوں، مگر دوسری بات سے اس لیے اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ وہ مطالبہ تھا، کہ برطانیہ کوہ نور ہیرا واپس کردے، کیونکہ یہ اصل میں پاکستان کی ملکیت تھا، جبکہ افغانستان بھی ہماری طرح دعوے دار ہے، جبکہ تاریخ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے، کہ وہ ہیرا جس ملک میں بھی رہا، اس ملک کے حکمران کو بھی لے ڈوبا، اور فواد چودھری نے خود آنکھوں سے بھی دیکھا اسی لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی حکومت کے ڈوبنے کے لیے ہیرے کے علاوہ بھی کچھ ایسے حقائق ، اور عوامل ہوتے ہیں، کہ جو حکومتوں کو لے ڈوبتے ہیں ، چین میں جاکر جرمنی، اور جاپان کی سرحدوں کی باتوں سے تو اگر درگزر کرجائیں، تو دوسرے ملک میں یہ کہنا، کہ پاکستان میں ہم اربوں درخت لگاکر سرسبز پاکستان والا نصب العین قوم کو بھی یاد کرانا چاہتے ہیں۔

میرے خیال میں انسان کو خواہ اپنی علمیت اور اپنی فراغی زبان وذہن پہ کتنا ہی ناز اور فخر کیوں نہ ہو، مگر جس منصب پہ اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو فائز کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ خواہ چند الفاظ ہی کیوں نہ ہوں، لکھ کر بولنا چاہیے، کنٹینر کی بات الگ ہے، وہاں بائیس سال تک مسلسل ایک ہی بات کا بار بار اعادہ کیا گیا مگر اس بات پہ میں وزیراعظم کے حوصلے اور صبر کو داد دیتا ہوں، کہ حفاظ کی طرح انہوں نے تکمیل، ایجنڈا کی خاطر ایک ایک لفظ کو یاد رکھا، اور اپنے آپ کو اکتانے نہیں دیا، اور دوسروں کو بے شک زچ کردیا، مگر خود زچ نہیں ہوئے، ان کی اس ہمت کو داد دیئے بغیر کوئی نہیں رہ سکتا۔ حضرت خواجہ اویس قرنی ؒفرماتے ہیں ، کہ اگر جدوجہد کرتے ہوئے کامیابی کو صرف اور صرف خدا کے حوالے کروگے تو لوگوں سے بے پرواہ ہوجاﺅ گے، اور یہی استغنا ہے استغنا کہتے ہیں، بے فکری، بے پروائی اور بے نیازی کو، خداگواہ ہے، وہ تو سولین نیازی ہیں، اور بے فکری اور لاپروائی ان کے بیانات سے ظاہر ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ میں خدا کو جوابدہ ہوں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ 22کروڑ افراد کے ناخدا ہیں اور ان کے بھی جوابدہ ہوں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کپتان تو خدا کے حوالے، جو جدوجہد تحریک انصاف کرنے کی بجائے ہمیشہ ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھتے رہے، اور قوم کو بھی بتاتے رہے، جنرل شجاع پاشا نے بائیس سال تک جو سرِشام تماشا لگوائے رکھا، ان کی نگاہ انتخاب کی داد دیئے بغیر نہیں بنتی۔ جنہوں نے پلٹ کر نہیں پوچھا کہ ”کس حال میں ہیں یاران وطن “

وزیراعظم فرماتے ہیں کہ میں کابینہ سے جس کو نکالوں، جس کو رکھوں میری مرضی ، میں ملکی مفاد کی خاطر لائق لوگوں کو رکھوں گا، اور اسدعمر کو دوبارہ کابینہ میں لاﺅں گا، اور چوروں کا گواہ بھی یہی بیان دیتا ہے، مگر اس کو خوشامد اور چاپلوسی نہیں سمجھتا، شاید اسی لیے کہ چپڑاسی کے میرٹ والے کو ”وزیر“ جو لگادیا گیا ہے ، غیر منتخب لوگ اگر وزیر بنانے تھے، تو اربوں روپے انتخابات میں کیوں جھونک دیئے گئے جہاں چیئرمین، گورنر کو کہے، کہ پھر گاﺅ کہ کوئی روک سکے تو روکے، تبدیلی آئی ہے، اوریہی کابینہ ہے، کہ چاہے، نامنتخب لوگوں سے کابینہ پوری کرلی جائے۔ مگر اب یہی ہمارا نظام ہے، اور یہی نظام حکمت حکومت ہے، اور ایسے ہی ہمارے وزیر اطلاعات ہیں، پہلی حکومتوں میں بھی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو وزیر ٹرانسپورٹ بنادیا جاتا تھا، اور تبدیلی کے دور میں بھی ایک ڈاکٹر کے حوالے اطلاعات کا محکمہ کردیا جاتا ہے، جن کو ”میک اپ“ سے فرصت بڑی مشکل سے ملتی ہے، واقفان حال بتاتے ہیں کہ پہلے کسی دور میں وہ دو ”میک اپ مین“ ساتھ رکھتی تھیں پنجاب کے وزیراطلاعات ، جو ذہین وفطین مانے جاتے ہیں، فرماتے ہیں کہ ”مشکل حالات“ میں ملک سے فرار ہونے والے قابل رحم ہیں، قارئین کرام اب کون صمصام بخاری صاحب سے پوچھے کہ ”مشکل حالات“ سے ان کی کیا مراد ہے، میری تو بخاری صاحب سے محض ایک ملاقات ہے، میجر ابراہیم صاحب، اور سابقہ وزیر مذہبی امور محمد الحسنات شاہ کی ایک تقریب میں صمصام بخاری صاحب کے بعد میری تقریر تھی، اس کے بعد ملاقات کی نوبت نہیں آئی تاہم میں ضرور سمجھتا ہوں کہ مقابلتاً فیاض چوہان سے ہزار گنا بہتر ہیں کیونکہ ان سے گری ہوئی بات کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی، قابل فخر بات یہ ہے کہ وہ ”سید“ ہیں اور اولاد آل بیت میں سے ہیں۔

قارئین اب نظام سقہ کی بات کرلیتے ہیں، یہ شخص وہ تھا کہ جس نے ایک دن کی ہندوستان پہ حکومت کی تھی ، چونکہ وہ ”ماشکی“ تھا، ماشکی پرانے دور میں اس کو کہتے ہیں، کہ جو کندھے پہ مشکیزہ لیے پھرتے تھے، اور مشکیزے میں پانی ہوتا تھا ، سقہ نے ہندوستان کے بادشاہ ہمایوں کی جان بچائی تھی، جس کے بدلے میں ہمایوں نے اسے ایک دن کی بادشاہت عطا کی تھی، تو اس نے اپنے پیشے کو اتنی اہمیت دی کہ وہ اپنے پرانے ”خول“ سے باہر نہ نکلا۔ اور مشکیزوں اور چمڑے کی کرنسی اور سکے چلوادیئے، اوریوں چمڑے کے تاجر راتوں رات اربوں پتی بن گئے، بالکل اس طرح جس طرح روپے کی قیمت چارگنا کم ہونے سے ”احباب شاہ“ اربوں پتی بن گئے ، مگر اسد عمر اس حوالے سے کبھی وعدہ معاف گواہ نہیں بنیں گے، راز کو راز ہی رہنے دیں گے، فاش کرنے کی فاش غلطی کبھی نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ایسا کرہی نہیں سکتے، ایسا ”عقلمند “ تاریخ میں ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ جو خود ملزموں کی طرح تھانے پہنچ گیا، کہ مجھے سات سال کے لیے گرفتار کرلو، اور جیل بھیج دو۔ اب بات کرتے ہیں، جہاں سے شروع کی تھی، کہ فواد چودھری کو ہیرا واپس مانگنے کے بجائے لازمی طورپر جلیاں والا باغ میں تقریباً سوسال پہلے گولی اور بم چلا کر ہزارسے زیادہ انسانوں کو ہلاک، اور سات سو سے زیادہ افراد جو شدید زخمی اور مفلوج ہوگئے تھے ، برطانیہ سے معافی مانگنے کے مطالبے کی ہم حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایسا ناقابل جرم تھا، کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، گو اس حوالے سے ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی کچھ ایسے ہی احساسات وجذبات کا اظہار کیا ہے، فواد چودھری اپنا مطالبہ، برطانیہ سے ضرور کرتے رہیں، کیونکہ ان کے وزیراعظم عمران خان بھی ٹیپوسلطان، سے بہت متاثرہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ ”شیر“ کی ایک دن کی زندگی گیدڑکی زندگی کے ہزار سال سے بہتر ہے، مگر ہمیں ان سے یہ گلہ ہے کہ جہاں وہ گھنٹوں تقریر کرتے ہیں، وہاں قوم کو یہ کبھی نہیں بتاتے کہ شیر کون ہے، اور گیدڑ کون؟ جیسے سیاستدانوں کا ایک دوسرے سے اِٹ کتے کا ویر ہوتا ہے، مگر آج تک پتہ نہیں چلا کہ اینٹ کون ہے ؟ (جاری ہے)


ای پیپر