انتخا با ت اور سیاسی جلسوں کا انعقا د
06 مئی 2018 2018-05-06

گزشتہ اتوار سے پچھلے اتوا ر یعنی 29 اپر یل کو ا گر ملک میں کچھ ہوا تو وہ صر ف سیا سی جلسے تھے۔ لا ہور میں تحر یکِ ا نصا ف کے عمرا ن خا ن سرگرمِ عمل تھے تو مردا ن میں متحد ہ مجلسِ عمل کے سرا ج ا لحق اور مو لا نا فضل ا کر حما ن ، ا ور کر اچی میں پیپلز پا ر ٹی کے آ صف علی زرداری او ر بلا و ل بھٹو زرداری سر گر مِ عمل تھے۔ ان جلسو ں میں بر سرِ اقتد ار آ نے کی صو رت میں بڑے بڑ ے وعد ے کئے جا رے تھے۔ خا ص طو ر پر لا ہور میں دو نہیں ایک پا کستا ن کے حو ا لے سے عمرا ن خا ن نے گیا رہ نکا تی پر و گر ا م پیش کیا۔ چلیں با لفر ض محا ل یہ تسلیم بھی کر لیں کہ ا س سب کا وعد ہ کر نے میں عمرا ن خا ن کی نیت صا ف ہے، تو عقلِ عمو می فو راً یہ سو ا ل اٹھا تی دکھا ئی دیتی ہے کہ آ یا وطنِ عز یز کے حا لیہ ز مینی حقا ئق کی رو شنی میں یہ سب کچھ کر دکھا نا ممکن ہو گا؟۔ ایسی صو ر ت میں شا ئد کو ئی ا حمقو ں کی جنت میں ر ہنے وا لا ہی اس طر ح کے وعد و ں کا یقین کر سکے۔ سا منے کی با ت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے 2013 میں قو م سے 2017 کے او ا خر تک لو ڈ شیڈنگ کو جڑ سے اکھا ڑ پھینک د ینے کے و عد ے کیئے تھے۔ اور حق تو یہ ہے کہ اس نے اس پہ تند ہی سے کا بھی کیا ، لو ڈ شیڈ نگ بہت حد تک کم بھی ہو گئی مگر ختم تو نہ ہو سکی۔ وجہ؟ وہ تھی کہ ز بینی حقا ئق اس کے خلا ف تھے اور ہیں۔ا لبتہ اس تما م تر مخد و ش صو ر ت ِ حا ل کے با وجو د قوم الیکشن کے انعقاد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور سیاسی قائدین انتخابی موسم کے حوالے سے جلسوں کے مید ا ن سجا ئے ہو ئے ہیں۔ اس سے قبل ن لیگ پنجاب کے متعدد شہروں میں اہم جلسے کرچکی ہے۔ عمرا ن خا ن کا مز ید کہنا تھا کہ ا گر حکومت میں آیا تو گیا ر ہ نکات پر عمل کرکے ملک کو نیا پاکستان بنادوں گا۔ جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ اور فاٹا کو کے پی کے میں ضم کریں گے۔ نیب کو مضبوط کرکے کرپشن کا خاتمہ کروں گا۔ قوم کو ایک کرنے کے لیے ایک تعلیمی نصاب لا یا جا ئے گا۔ لوگوں کو روزگار اور 50 لاکھ سستے گھر دیں گے۔ کسانوں کے لیے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کو اندھیروں میں دھکیلا، ہم نے کراچی کو لندن کی قید سے آزاد کرایا۔ عمران خان کو نیا الطاف نہیں بننے دیں گے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ نواز شریف غریبوں کے ووٹ کو اتنی عزت دیتے تو اسے بھی عزت ملتی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عمران خان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کرکٹ کھیلیں آپ کا کام سیاست نہیں۔ ایم ایم اے اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی سے تمام سیکولر قوتوں پر لرزہ طاری ہے۔ پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے دباؤ میں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل 13 مئی کو مینارِ پاکستان پر ایک جلسہ عام میں موجودہ سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ نظام اور منافقانہ سیاست پر قو م سے خطا ب کر یں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (بہادر آباد) کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاب خواجہ اظہارالحسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی کراچی کے عوام سے مخلص نہیں ہوسکتی۔ متحدہ قومی موومنت پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا ہے کہ بہت اچھا ہوتا اگر اس جلسے میں کراچی کے عوام بھی شریک ہوتے۔ ادھر ایم کیو ایم لندن کے کنوینر نصرت احسان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی پی کو مہاجر مینڈیٹ چھیننے نہیں دیا جائے گا۔ان سب بیا نا ت کا نو ٹس لیتے ہو ئے سابق وزیر اعظم اور قائد ن لیگ نواز شریف نے کہا ہے کہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے ملک میں تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں۔ قوم کسی مہرے کے جھانسے میں نہیں آئے گی۔
تا ہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس مر تبہ چو نکہ عو می سیا سی ماحول سے ہٹ کر ہونے جا رہے ہیں ، لہذا نظرکچھ یو ں آ تا ہے کہ سیا سی جماعتوں میں انتخابی ٹکراؤ، مہم، پولنگ کے دن کی کشمکش اور ووٹرز کو گھروں سے نکالنے کی ایک غیرمعمولی جدوجہد دیکھنے میں آئے گی۔ بعض تشکیک پسند حلقے شفاف انتخابات کے بارے میں بے بنیاد خدشات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس لیے شفاف اور منصفانہ الیکشن کے لیے مثالی اقدامات اور انتظامات کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ پی پی اور پی ٹی آئی دونوں کا یہ استدلال رہا ہے کہ انہوں نے 2013ء کے انتخابی نتائج جمہوریت کی بقا کی خاطر تسلیم کیے۔ مطلب یہ کہ وہ بھی شفاف نہ تھے۔ چنانچہ اس بار جعلی ووٹنگ کی کوئی انگلی نہیں اٹھنی چاہیے۔ زمینی حقائق پر تمام سیاسی جماعتوں کو نظر رکھنی چاہیے۔ حکومت کی جمہوری میعاد کے خاتمہ کی جو آئینی مہلت باقی رہ گئی ہے اسے سیاسی عملیت پسندی سے پولنگ ڈے تک جانا چاہیے۔ انتخابات سے قبل سیاسی افہام و تفہیم، دور اندیشی اور خیرسگالی کی فضا برقرار رکھنی چاہیے۔ انتخابی مہم دنیا بھر میں ہنگامہ خیز ہوتی ہے، مگر مسلمہ جمہوری اصولوں کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو آزادی و وقار کے ساتھ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا مکمل جمہوری موقع ملنا چاہیے۔ تشدد سے پاک اور انتخابی سقم سے مبرا الیکشن عمل قومی امنگوں کی تکمیل میں ہم کردار ادا کرے گا۔ الیکشن کمیشن حکام سے گز ا ر ش ہے کہ وہ اس امر کو انشاء اللہ یقینی بنائیں کہ دھاندلی کی کوئی گنجائش انتخابی عمل میں پیدا نہ ہو۔ ایک اطلاع کے مطابق الیکشن کمیشن نے 2018ء کے انتخابات میں جعلی ووٹوں کی روک تھام کے لیے متنازعہ مقناطیسی سیاہی کے متبادل آپشن پر غور شروع کردیا ہے ۔ آپشن پر اس کی افادیت کے مطابق سختی سے عمل ہونا ضروری ہے۔ ہزاروں ووٹوں کی تصدیق نہ ہونے کے سکینڈل سے گزشتہ انتخابات کی شفافیت کو بھی جزوی زک پہنچی۔ اس بار جعلی ووٹوں کا مکمل سد باب ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
جعلی وو ٹو ں کا اند را ج ہما رے انتخا با ت کی تا ر یخ کا و ہ کلنک ہے جو آ ج تک ہما ر ے ما تھے سے دھو یا نہیں جا سکا۔ اگر اس مر تبہ الیکشن کمیشن دھا ند لی سے پا ک انتخا با ت کر و ینے میں کا میاب ہو جا تا ہے تو یہ اس ملک پہ اس کا احسا نِ عظیم ہو گا۔ اس کے سا تھ سا تھ تما م سنجید ہ قومی سیاسی جماعتوں کے لیے مشو رہ ہے کہ وہ منشور کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائیں جس میں بہتان طرازی اور کردار کشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ ابھی الیکشن میں کچھ دیر ہے، سیاسی منظر نامہ خدشات، توقعات اور ان د یکھے خو ف سے دوچار بھی ہے، کئی ہائی پروفائل مقدمات کا بھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ صا ف با ت تو یہ ہے کہ عو ا م ہو نے والے انتخا با ت کے با رے میں ز یا دہ پر ا مید نہیں۔اس کی بڑی وجہ وہ وعد ے ہیں جو ان سے ہمیشہ انتخا با ت سے پہلے کیئے جا تے ر ہے۔ مگر ملک کی تما م تر تا ر یخ میں انہو ں نے ان وعد وں کا ایفاء نہیں دیکھا۔ اس مر تبہ عمر ا ن خا ن اس طر ح کے و عد ے کر نے میں سر فہر ست نظر آ رہے ہیں،مگر ملک کے ز مینی حقا ئق کیا ہیں؟ وہ اسے چند ا ں خا طر میں لا نے کو تیا ر نہیں۔ اور یہ بذاتِ خو د تحر یکِ انصا ف کے لیئے لمحہ فکر یہ ہے!


ای پیپر