نیا ریکارڈ
06 مئی 2018

عالم انسانی جس میں بھوک افلاس،بیروزگاری، بیماری، جہالت کا راج ہے کے طاقتورحکمرانوں نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اسلحہ کے ڈھیر لگا دینے،دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کا ریکارڈ ۔عالمی تحقیقی ادارے کی سالا نہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال گزشتہ میں طاقتور حکمرانوں اور سپر ومنی پاورز نے ہتھیاروں کی خریداری پر 1730 کھرب ڈالر خرچ کیے۔تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دفاعی و ملٹری اخراجات میں اس غیر معمولی اضافے میں ستر فی صد حصہ دنیا کے پانچ طاقتور ممالک کا ہے۔یہ پانچ ممالک امریکہ،چین،سعودی عرب،روس اور بھارت ہیں۔جب کہ یورپ کا خوبصورت ملک فرانس چھٹے نمبر پر ہے۔2016 میں فرانس کا نمبر پانچواں تھا۔لیکن بھارت جس کی پچاس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے نے فرانس کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔بھارت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے کلب میں تو ابھی تک شامل نہیں ہو سکا لیکن انسانیت کش اسلحہ کے انبار لگا لینے والے ٹاپ فائیو ممالک کی لسٹ میں ضرور شامل ہو گیا ہے۔ افلاس کے مارے بھارتیوں کے پاس آپشن ہے کہ وہ پیٹ بھرنے کیلئے میزائل کھائیں،سواری کیلئے ٹینک استعمال کریں،سر چھپانے کیلئے بلٹ پروف بنکرکا انتخاب کریں۔فر صت ملے تو م جمہوریہ کی سالانہ پریڈ میں نئے ماڈل کے اسلحہ کو دیکھ کر تالیاں بجائیں اور موقع ملے تو اچھے اینگل سے سلفیاں بنائیں۔عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ سال کے دفاعی اخراجات سرد جنگ کے اختتام کے بعد ماضی قریب وبعید کے تمام ریکارڈ تو ڑ چکے ہیں۔دفاعی اخراجات،ہتھیاروں کی خریداری نمود و نمائش اس بات کا غماز ہے کہ نام نہاد جمہوری و غیر جمہوری حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں۔وہ کس طرح سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔
730 1 کھرب ڈالر کی رقم اتنی بڑی ہے کہ نوٹوں کی صورت میں ڈھیر لگا دیا جائے تو سینکڑوں قومی ہیکل ہاتھی اس کے بوجھ تلے دب جائیں۔دنیاکی آبادی کے حقیقی و مستند اعداد و شمار قلمکار کے سامنے موجود نہیں۔ایک اندازہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کی آبادی چھ ارب کے قریب ہے۔دفاعی اخراجات پر خرچ کی گئی یہ رقم اتنی غیر معمولی ہے کہ دنیا کے ڈیڑھ سو کے قریب ممالک کے مجموعی تر قیاتی بجٹ کے برابر بنتی ہے۔ سٹاک ہوم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہر سال نہایت عرق ریزی کے ساتھ دفاعی اخراجات کی تفصیل اکھٹی کرتا ہے۔اور کسی بغیرتبصرے کے اس رپورٹ کو منظر عام پر لے آتا ہے۔ دانشوروں، تجزیہ نگاروں کو سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔کہ وہ اپنے حکمرانوں کی ترجیحات کا جائزہ لیں۔ سال برائے 2017 کی رپورٹ سامنے آئی تو قلم اٹھانے سے پہلے سوال ذہن میں پیدا ہو ا۔کیا یہ غیر معمولی اضافہ اچانک ہوا۔یا یہ روش ایک تسلسل تواتر کے ساتھ جاری ہے۔تھوڑی ریسرچ کرنا پڑی تو سارے سوالو ں کے جواب مل گئے۔ادارے کی ویب سائٹ پر گزشتہ چند سالوں کی تفصیلا ت موجود ہیں۔یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنگ جو حکمرانی کا جنون ہے۔ہر سال نئے ریکارڈ قائم اور پھر اس کو توڑ ڈالتا ہے۔اس ٹرینڈ کا تدارک نہ کیا گیا تو عالم انسانی کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔یہ تباہی ایسی ہو گی جو انسان نے اپنے محنت سے کمائے پیسے کے عوض خود اپنے ہاتھوں سے خریدی ہو گی۔اسلحہ خریداری کا یہ جنون بڑی طاقتور ان کے حاشیہ بردار اتحادیوں کی جنگجوہانہ روش کا عطا کردہ ہے۔دس،پندرہ ممالک کے سوا باقی ممالک اپنے ارد گرد طاقتور ممالک کے مقابلے میں اپنے دفاع کیلئے پیٹ کاٹ کر اسلحہ خریدنے پر مجبور ہیں۔جس کی مثال بھارت ہے۔جس نے جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی ایسی دوڑ شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں پورا خطہ خطرے کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے اس کے سوا اور کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ کم سے کم دفاعی ڈھال کو برقرار رکھے اور مادر وطن کے دفاع کیلئے ضروری اسلحہ ساز و سامان تیار رکھے۔اس رپورٹ کی جانب آتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک سپر طاقتور کی آویزش،مزاکرات کی بجائے تصادم روش نے اسلحہ کا کاروبار کرنیوالوں کی موجیں لگا رکھی ہیں۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شاید دنیا بھر میں پھیلتے تنازعات کے پیچھے اسلحہ سازممالک اور ان کی طاقتور مینو فیکچر نگ کمپنیاں ہوں۔ تنازعات ہوں گے تو دھڑا دھڑ اسلحہ کے انبار لگانے والی کمپنیوں کا سودا بکے گا۔شاید یہی وجہ ہے کہ مصلح تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔نان سٹیٹ ایکٹرز اور مسلح دہشت گرد تنظیموں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ بتاتی ہے کہ 2017 میں گلوبل ولیج میں دفاع پر جتنے کل اخراجات ہوئے۔ان میں سب سے زیادہ اخراجات امریکہ نے کیے۔عالمی سطح پر کیے گئے اخراجات کا 35 فی صد اکیلے امریکہ نے کیا۔امریکہ کی جانب سے خرچ کی گئی کل رقم 610 ارب ڈالر رہی۔اسی طرح دوسرے نمبر پر تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی معاشی دفاعی اقتصادی طاقت چین رہا۔جو کہ اب علاقائی رول سے نکل کر گلوبل کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔چین نے سال گزشتہ کے دوران اپنی مسلح افواج پر228 ارب ڈالر خرچ کیے۔جو کہ 2016ء کی بہ نسبت 12 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔عالم اسلام کا روحانی مرکز سعودی عرب دفاعی اخراجات کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ایران کے ساتھ سیاسی چپکلش یمن کے ساتھ مسلح تصادم شاہی خاندان کو در پیش بقاکی جدو جہد اور دیگر وجوہات نے سعودی عرب کو اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں تیزی سے بھانے پر مجبور کر رہا ہے۔اس دوڑ نے سعودی عرب کی معیشت پر کیسے الزامات ڈالے ہیں۔اس کا اندازہ سعودی عرب کا سفر کرنیوالے لگا سکتے ہیں۔بہر حال سعودی زوال پر یہ معیشت آج کا موضوع نہیں۔ سعودی عرب کے گزشتہ سال69.4 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کیے۔جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مزید جدید اسلحہ خریدنے کیلئے بھی تاریخ ساز معاہدات سائن کئے جا رہے ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ ان معاہدات کا فائدہ سعودی عرب کو ہو تا ہے یا امریکہ کو۔واضح رہے کہ گزشتہ سال روس کا نمبر عالمی رینکنگ میں تیسرا تھا۔ سعودی عرب نے جو اخراجات اپنے دفاع پر کیے وہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کا دس فیصد بنتا ہے۔چوتھے نمبر پر روس ہے۔جس کی رینکنگ ایک درجے کم ہوئی ہے۔یعنی وہ تیسرے سے چوتھے نمبر پرچلا گیا ہے۔روس وہ واحد ملک ہے جس نے اپنے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی ہے۔یہ 1998ء کے بعد روس کی جانب سے پہلا موقہ ہے کہ اس نے اپنے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی ہے۔گزشتہ سال روس نے 66.3 بلین ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کیے۔ بھارت نے گزشتہ سال دفاعی اخراجات کے معاملے میں فرانس کو پچھاڑ دیا۔بھارت کے اخراجات کا تخمینہ 64 بلین ڈالر ڈالر دیا۔ان پانچ ممالک کے بعد اگلی پانچ پوزیشنوں پر جو ممالک فائز ہیں۔ان میں بالترتیب فرانس، برطانیہ، جاپان، جرمنی،ساؤتھ کوریا شامل ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ براعظم جنوبی اور شمالی امریکہ کے ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی ہے۔بعض مغربی ممالک نے بھی اسلحہ کی درآمد میں 36 فیصد کمی کی ہے۔
یہ اعدادوشمارکاڈیٹا ہے جو گزشتہ سالوں کے حوالے سے رپورٹوں اور تحقیقاتی جریدوں میں موجود ہے۔صرف مشرق وسطی کی ریاستوں نے 86 فی صد اضافے کیساتھ دنیا کے مجموعی اسلحے کا 29 فیصد خریدا۔بھارت نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنی دفاعی خریداری کے حجم میں 43 فی صد اضافہ کیا ہے۔بھارت اس معاملہ میں چین اور پاکستان دونوں سے کئی آگے ہے۔لیکن اس کا جنون پھر بھی کم نہیں ہوتا۔اسلحہ خریداری کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پانچ بڑے ممالک اس طوفان بلا خیر کے ذمہ دار ہیں۔ وہ پیسہ جو یونیورسٹیوں،لائبریریوں، ڈیموں، ہسپتالوں، غربت میں کمی،روزگار کی فراہمی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔وہ انسانیت کش منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ جنگجو حکمرانوں کی راہ میں رکاوٹ صرف عوام بن سکتے ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ورنہ غلبے کی خواہش اولاد آدم کو فنا کی وادیوں میں لے جائے گی۔


ای پیپر