انتخابی جلسے، خلائی مخلوق
06 مئی 2018 2018-05-06

ابولاثر حفیظ جالندھری یاد آگئے، زندہ ہوتے تو اپنی طویل نظم اس طرح شروع کرتے
لو اٹھی مغرب سے گھٹا (یہودی سازش)
جلسوں کا موسم آگیا
کہاں چلا ہے ساتھیا
ادھر تو دیکھ ادھر تو آ
داتا کی نگری سج گئی
مینار پاکستان پر
ہیں رونقیں ہی رونقیں
عمران کے گیارہ نکات
ہیں خواب اور تصورات
دیکھو بلاول کا بھی جوش
سالوں کی مد ہوشی اب ہوش
جنت بنانے کا یقیں
نہیں نہیں، نہیں نہیں
انتخابات کا پتا نہیں جلسوں پر کروڑوں خرچ کیے جا رہے ہیں ،کہاں سے آتے ہیں یہ پیسے، کون دیتا ہے یہ پیسے ،کیا کہتے ہیں یہ پیسے، ساٹھ ستر ہزار کے مجمع کو 5 سے 10 لاکھ بتانا معمولی بات،کون جھوٹا کون سچا، سچ اور جھوٹ کی تمیز کہاں رہ گئی، انتخابی جلسوں کی بات چلی تھی گرم موسم میں گرما گرم جلسے، مینار پاکستان پر کپتان کا جلسہ ابھی تک موضوع بحث، ’’کچھ نے کہا ریکارڈ توڑ کچھ نے کہا ناکام تھا‘‘ دوستوں نے پیار کی نظروں سے دیکھا تو کہا کہ عمران خان نے 2011ء کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔آج کل غصے سے پھولے ہوئے ہیں، سر عام نعرہ لگا دیا ’’جلسہ لہور دا، مجمع پشور دا، ایجنڈا کسے ہور دا‘‘ اگر یہ سچ ہے تو عمران خان کو بہت دیر تک بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ جلسہ میں گیارہ نکاتی منشور کا اعلان خوش آئند لیکن اسی روز لوگوں نے پوچھا پانچ سال میں کیا کیا، جسے جنگلا بس کہتے تھے وہ پانچ سال پہلے شروع کرتے تو 27 ارب لگتے اب 57 ارب میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے بھی شہباز شریف نے چیلنج کردیا کہ ہم ہی مکمل کریں گے، سچ بات یہ ہے کہ کپتان کے سر پر بہتوں کا ہاتھ ہے لیکن صادق اور امین ٹھہرائے جانے کے باوجود وہ جھوٹ اور خوش فہمیوں کے گورکھ دھندے سے نجات حاصل نہیں کر پا رہے بعض دوستوں نے مشورہ دیا تھا کہ
خود کو اونچا اٹھانا ہے تجھ کو اگر
سب کو نیچا دکھانے کی ضد چھوڑ دے
مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی، انہیں یقین ہوگیا، روحانی کشف سے بتا دیا گیا یا ’’فرشتوں‘‘ نے خبر دی کہ انتخابات جب بھی ہوئے وہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرسکیں گے انہیں بہت سے دشمنوں اور معدودے چند دوستوں سے اتحاد کرناپڑے گا تب جا کے کشتی کنارے لگے گی، راز کھلنے کے بعد ہی انہوں نے اپنے ’’چور، ڈاکو، فرعون‘‘ دشمن کو پیار بھری نظروں سے دیکھنا شروع کردیا کہا کہ ’’زرداری منافق نہیں‘‘ دوستی کا پہلا مرحلہ سر کرلیا سینیٹ انتخابات میں سارے ووٹ زرداری کے پلڑے میں ڈال دیے بعد میں شور مچا دیا کہ میرے لوگ بک گئے ایمان سے کہیے یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے، منافقت ہے تو ہمیں کیا، پیپلز پارٹی سندھ کا محاذ کھونا پسند نہیں کرے گی خود اسے بھی یقین ہے کہ پنجاب میں مہینوں تک ڈیرے ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا بقول غالب۔
توقع جن سے تھی کچھ خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے
عوام نے بلاول بچے پر دھیان نہیں دیا، بقول شخصے ’’ٹھینگا‘‘ دکھا دیا تاہم کچھ حاصل نہ ہونے کے باوجود سندھ سمیت ملک بھر سے پچاس ساٹھ سیٹیں لینے کی آس امید پر توجہ مرکوز ہے، بلاول بچہ سیاستدانوں اور اپنے مخالفین پر تنقید کے تیر بھی لکھ کر برسا رہا ہے اسکرپٹ کسی کا اداکاری اور ادائیگی اپنی، ابا نے سمجھا دیا کہ ’’تیر پہ تیر چلاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے‘‘ جن کا ڈر تھا ابانے ان سے لائن کلیئر کرلی، اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی نے جنہیں برگشتہ کردیا تھا انہیں بتایا گیا کہ یہ بات محاورتاً کہی گئی تھی جوش میں منہ سے نکل گئی جیسے کھپے کھپے کہہ دیا تھا ،کیا خبر تھی کہ اوپر والے اتنے ناراض ہوجائیں گے کہ ایک سال در بدر رہنا پڑے گا، مقام شکر کہ جلدی مان گئے شرط بھی ایسی کڑی نہیں تھی نواز شریف کے ساتھ ’’اٹ کھڑکا‘‘ قائم رکھنا اور ان کے ساتھ مولا جٹ والا سلوک روا رکھنا تھا اس شرط پر گرین سگنل ملا کہ نواز شریف سے دوستی نہیں ہوگی۔ جتنے تیر چلا سکتے ہو چلاتے جاؤ، پنجاب میں ترکش خالی ہوگیا کوئی تیر نشانے پر نہ لگ سکا، شیر ویسے ہی گھائل ہے چاروں طرف سے حملے ہوں گے تو کہاں تک بچے گا زخموں سے چور، دوستوں سے رنجور، دشمنوں نے ایسا چھلنی کیا کہ کراہیں دور دور سنائی دیتی ہیں مگر کمال ہے ابھی تک جلسے کر رہا ہے مجمع بھی صادق آباد اور وہاڑی کا ہی ہوتا ہے، ایک دوست نے بتایا کہ جس دن صادق آباد میں جلسہ ہونا تھا اس دن ہر شخص کی زبان پر یہی تھا ’’سائیں نواز شریف آندا پیا ہے اوندی گال تا سنو کیا آدا ہے‘‘ (سائیں نواز شریف آرہا ہے اس کی بات تو سنیں کیا
کہتا ہے) کمال ہے جسے نا اہل کردیا گیا لوگ اب بھی اسی کی بات سن رہے ہیں کیا واقعی ’’گاڈ فادر‘‘ ہے؟ جلسے جاری ہیں، جاری رہیں گے 13 مئی کو متحدہ مجلس عمل بھی مینار پاکستان پر اپنا رنگ جمائے گی امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ جلسہ تو ہمارا ہی ہوگا لوگ خود دیکھ لیں گے مجمع کہاں کا ہوگا یہ 13 مئی کو پتا چلے گا، جلسوں کو چھوڑیے اس پر غور کیجیے کہ الیکشن ہوں گے؟ کیوں نہیں ہوں گے بڑوں نے کہا ہے تو ضرور ہوں گے ،کون کرائے گا ؟عبوری وزیر اعظم پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا، ن لیگ نے اپنا بوجھ خورشید شاہ کے پلڑے میں ڈال دیا جسے کہو وہی ہوگا مگر خورشید شاہ کے پلڑے میں کچھ نہیں، شاید کسی کی مدد کی ضرورت ہے نواز شریف نے فی سبیل اللہ مدد کرنے والوں کو پہلے ’’ان دیکھی مخلوق ‘‘ اور پھر خلائی مخلوق قرار دے دیا کہا کہ ہمارا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے، عجیب سیاستدان ہے خلائی مخلوق سے لڑتے عمر گزار دی، نا اہلی کا خوف ہے نہ سزا کا ڈر، بر ملا کہہ رہا ہے کہ بقول رحمان خاور
ہوائے شب سے وہی ساز باز کرتے ہیں
ہمارے سامنے جن کے چراغ جلتے نہیں
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے قائد کی ہاں میں ہاں ملائی کہ انتخابات خلائی مخلوق کرائے گی الیکشن کمیشن نے ترت جواب دیا کہ ہم کرائیں گے، لیکن کس کی ہدایت پر ہوں گے؟ قرعہ فال اول آخر خلائی مخلوق کے نام نکلے گا، یقین ہوگیا کہ آسمانوں سے اتری کوئی خلائی مخلوق سرگرم عمل ہے، خود اتری ہے یا اڑن طشتری سے اتاری گئی ہے وہ ن لیگ کو نہیں جیتنے دے گی نہ ہی نواز شریف کو چھوڑے گی،لوگ نواز شریف کو منجدھار میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ’’جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں‘‘ بھرے پرے جلسوں سے کیا ہوگا؟ عوام جھولیاں بھر بھر کے ووٹ دے دیں بیلٹ بکسوں سے ہی ووٹ نہ نکلے تو سب بیکار، فرشتے، امپائراور اب سیاست میں خلائی مخلوق کی انٹری، کیا پاکستان میں دیگر ممالک کی طرح شریفانہ طور پر کسی مداخلت کے بغیر الیکشن نہیں ہوسکتے؟ ہوسکتے ہیں تو ہوتے کیوں نہیں؟ عوام کس مرض کی دوا ہیں؟ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے؟ جب سے ہوش سنبھالا ملک میں مارشل لاء یا کنٹرولڈ جمہوریت ہی دیکھی ہر الیکشن کے پیچھے فرشتوں، امپائر، ویمپائر اور اب خلائی مخلوق ، خلائی مخلوق کے پاس خلاء میں کوئی کام نہیں یا پھر خلا خالی ہوگئی ہے؟ اپنے سیارے میں رہیں کرنے کو بہت سے کام ہیں، اپنی حدود میں رہتے ہوئے وہ کام کریں۔ پاکستان کا مقدر عوام نہیں خلائی مخلوق ہے جو ہر بار نئے عنوان نئے ایجنڈے، نئے ٹائٹل یا نئے بہانوں سے میدان میں اترتی اور ہر بار کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے سیاستدان کتنے بد قسمت اور نا اہل ہیں کہ ہر بار اس کے آلہ کار بن کرا قتدار میںآ تے اور کچھ عرصہ بعد ہی ’’مغضوب علیھم‘‘ بن کر اقتدار سے محروم ہوجاتے ہیں۔


ای پیپر