غیر منتخب وزیرخزانہ کا غریب کش بجٹ
06 مئی 2018

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاکستان کی معیشت کی صورت حال کے بارے شایع ہونے والی کئی سہ ماہی رپورٹوں میں نشاندہی کی جاتی رہی ہے کہ ملکی داخلی معیشت کی صورت حال کو کسی بھی طور حوصلہ افزا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رپورٹوں سے ظاہرہوتا ہے کہ:’’ ہر قسم کے معاشی رسک میں اضافہ ہوا،مالیاتی کارکردگی کے اکثر اشاریوں میں گراوٹ کا رجحان رہا۔
بجٹ2018-19ء کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں نے متضاد رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔حکومت مخالف سیاسی رہنماؤں کا نقطہ نظر ہے :’’ بجٹ میں غریبوں کیلئے کوئی ریلیف نہیں، یہ امیروں کا بجٹ ہے، اس بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے، آٹا ، دال ، چاول ، گھی کی قیمتوں میں کمی، مہنگائی میں روز بروز بڑھتے ہوئے اضافہ کو روکنے، زرعی اور صنعتی شعبوں میں ترقی اور بیروز گاری کے خاتمہ کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، بجٹ میں کسانوں اور غریب عوام بالخصوص تنخواہ دار طبقوں کو خوش کرنے کے لئے دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی گئی ،یہ بجٹ غریب مکاؤ بجٹ ہے،حکومت انتخابات میں آٹے، بجلی، گیس اور پٹرول کی آدھی قیمتیں کرنے کے وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس تناسب سے ملک میں مہنگائی بڑھی ہے اس تناسب سے عوام کو قطعاً ریلیف نہیں ملا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی ناکافی ہے‘‘۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ5برسوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں کمی ہونا ممکن نہیں ،کثرت سے کرنسی نوٹ شائع کئے گئے‘‘ حکومتی ہمنوا اقتصادی ماہرین کے مطابق : ’’ موجودہ حالات میں یہ ایک اچھا اور مثبت بجٹ ہے، حکومت نے مہنگائی کیلئے اور غریب آدمی کو ریلیف دینے کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں کم سے کم تنخواہ اور پنشن میں اضافے اور لاکھوں غریب خاندانوں کو مالی امداد ملنے سے عام آدمی کو فائدہ ہو گا، غربت اور بیروز گاری کے خاتمے کیلئے ہماری حکومت نے لانگ ٹرم پالیسیاں متعارف کرائی ہیں‘‘۔بعض رہنماء اس بجٹ کو متوازن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں، موجودہ معاشی و اقتصادی حالات میں اس سے بہتر بجٹ نہیں پیش کیا جا سکتا تھا‘‘ ن لیگ کامجموعی موقف ہے کہ ورثے میں ملنے والی تباہ حال معیشت کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ہمارے چھ کے چھ بجٹ غنیمت ہیں۔
دنیا میں رفاہی اور فلاحی مملکتیں شہریوں کو تعلیم اور صحت کی وسیع ترین سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کیلئے جامع ، مربوط اور مسلسل اقدامات کو اپنا نصب العین بناتی ہیں اور اُنہیں کو سامنے رکھتے ہوئے بجٹ تیار کرتی ہیں۔ یوں تو قیام پاکستان کے بعد ہر دور کے ارباب حکومت یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کو ایک فلاحی اور رفاحی ریاست بنانے کے لئے پوری کوشش کی جائے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے 5برسوں تک ان کا یہ دعویٰ عملی اقدامات سے محروم رہا۔صحت ، تعلیم اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے شعبوں کو اس بری طرح سے نظر انداز کیا گیا کہ چیف جسٹس کو بار بار از خود نوٹس لیتے ہوئے حکمرانوں سے پوچھنا پڑا کہ انہوں نے پانچ برسوں میں کیا کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ جس طرف دیکھو مایوسی ہی مایوسی ہے۔
یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ موجودہ عہد حکومت میں پاکستانی قومی معیشت کے بنیادی خدوخال جون2013سے اگست 2018ء تک تک کبھی بالواسطہ اور کبھی براہِ راست وزیر خزانہ اسحق ڈار اپنے فنکارانہ ہاتھوں سے ’’اُبھارتے ‘‘ ا؛ور ’’سنوارتے‘‘ رہے ہیں۔اس مرتبہ تو انہوں نے لندن کے پرتعیش کلینک سے دل کا مبینہ مرض ہونے کے باوجود بجٹ کی تیاری کے ضمن میں اپنے قیمتی مشورے بھی دیے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ پاکستان کے پانچ بجٹ پیش کرنے والا وزیر خزانہ جسے قومی خزانے کا چوکیدار بنایا گیا تھا اپنے اثاثوں اور آمدن سے کہیں زیادہ بہتر لائف سٹائل کا حامل تھا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا وزیر خزانہ باقاعدہ عدالتی مفرور ہے۔ عدالتی مفرور اسحق ڈار محض طلاقت لسانی کے بل بوتے پر عوام اور میڈیا کو یہ باور کرواتے رہے کہ اُنہوں نے پاکستانی داخلی معیشت کو کنویں کی گہرائی سے نکال کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قومی معیشت اورداخلی اقتصادی صورت حال جوں کی توں ہے۔ یہ صرف پرویز مشرف کا دور تھا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کی اطلاعات میڈیا کے ذریعے سنائی دیتی رہیں لیکن یہ فراموش کر دیا گیاکہ یہ اضافہ اس دور کے بینکر امپورٹڈ وزیرخزانہ جو بعد میں وزیر وزیر اعظم بھی بنے یہ ان کا اور اُن کی ٹیم کا کوئی کمال نہیں تھا بلکہ یہ 9/11 کے بعد بیرون ملک مقیم تارکینِ وطن کی ترسیلاتِ زر کی نوازش تھی۔ اس میں قدرے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ کے پیداکردہ منظر نامے کا وقتی بونس تھا۔
ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اقتصادی ماہرین جو اعلیٰ ترین اعزازیے اور مشاہرے قومی خزانہ سے 5 برسوں تک وصول کرتے رہے ،بتائیں کہ اُن کے ہنر کا شہکار اس حد تک مسخ کیوں ہے کہ کہ عام آدمی کے معمولاتِ زندگی اور اُس کا بجٹ تہ و بالا ہو چکا ہے۔ اُونٹ کی کمر پر آخری تنکے کے مصداق بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صارفین کی مشکلات میں ناخوشگوار ترین فیصلہ کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ ارباب حکومت کو بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت چھوٹے صارفین کی مشکلات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ یہ قیمتیں بھلے سے آہستہ آہستہ بڑھائی جائیں یا یکدم ان میں اضافہ کیا جائے، ہر دو صورتوں میں یہ صارفین اور عام شہریوں کے قلوب و اذہان میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف شکوک و شبہات کو جنم دینے کا موجب بنیں گی۔ اس امر سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ پٹرول کی مہنگائی ’’صرف ایک شے ‘‘ کی مہنگائی نہیں ہوتی بلکہ اس کی گرانی کے باعث کئی دیگر اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ نا گزیر ہو جاتا ہے۔یہ گرانی صارفین اور مارکیٹ پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ پیڑول کی گرانی کو بآسانی ’’ مہنگائی کی ماں ‘‘ بھی کہا جا تاہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں عدم استحکام کا سلسلہ گزشتہ10 برسوں سے ایک تسلسل و تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ عوامی حلقوں کے لئے یہ بات نا قابل فہم ہے کہ کئی برسوں تک ہر پندرہ روز کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں کیوں اضافہ کیا جاتا رہا جبکہ اس دوران پٹرول کی عالمی منڈی میں اس کے نرخوں میں اضافہ کم از کم3 ماہ بعدکیا جاتاہے ۔ اربابِ حکومت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے واضح اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کے قیمتوں میں عدم استحکام کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنے والے وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم کے ذمہ داران 10 برسوں سے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت وطن عزیز میں جہاں ایک طرف عدم استحکام پھیلانے کی ’’ غیر محسوس کوشش‘‘ کر تے رہے وہاں دوسری جانب وہ عوام کے ’’معاشی قتل عام‘‘ کے جرم کا بھی بالواسطہ ارتکاب کرتے رہے ۔مہنگائی اور گرانی کی وجہ سے عام آدمی پہلے ہی زندہ درگور ہو چکا ہے۔عام آدمی جس نے ووٹ دے کر موجودہ حکمرانوں کو حکومت کرنے کا موقع دیا تھا، پانچ سال تک انہوں نے اس ووٹر کی خیر خیریت تک بھی نہیں پوچھی ۔ اب جب کہ وہ عدالتی نا اہل بن چکے ہیں ، وہ بار بار ووٹ کو عزت دینے کی بات کر رہے ہیں۔ ایک غیر منتخب شخص سے پارلیمان میں بجٹ پیش کروانا کیا ووٹ کی عزت کو پامال کرنے کے مترادف نہیں۔ اب تو میاں صاحب فضائی 228 خلائی مخلوق کا بھی ذکر بار بار کر رہے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اُنہیں فضائی، ہوائی یا کوئی خلائی مخلوق عام انتخابات میں شکست نہیں دے گی بلکہ وہ ووٹر دے گا جس کے ووٹ کو انہوں نے 1985ء سے آج تک کبھی عزت نہیں دی۔ یہ مخلوق تو کل تک ان کی سرپرست رہی ہے ۔


ای پیپر