ریاست نے مجھے کیا سکھایا؟
06 مئی 2018 2018-05-06



میں ایک ارفع سماج کا رکن ہوں ، ایک ایساسماج جس کا ہر فردِ ذی شعور خود کو مقابلہ سازی کی فضا میں ایک ارفع سماجی اکائی کے طور پر سمجھتا ہے۔لیکن اتنی اچھے اور ارفع لوگوں کو جب میں گاڑی سے جوس کا ڈبہ باہر سڑک پر پھینکتے ہوئے دیکھتا ہوں ، ایک بہت بڑے دکان دار کو رات کے وقت دکان کا سارا کوڑا کرکٹ باہر سڑک پر پھینکتے ہوئے دیکھتا ہوں ، برلبِ سڑک تعمیر شدہ مسجد کے استنجا خانوں کا بطورِ عوامی بیت الخلا استعمال دیکھتا ہوں ، بہترین جامعات میں میرٹ پر آئے ہوئے طالب علموں کاسافٹ ڈرنکس کی خالی بوتلوں ، جوس کے ڈبوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کو جامعات کی راہداریوں ، اور میدانوں میں پھینکتے ہوئے دیکھتا ہوں ،دوسروں کو قانون کا سبق پڑھانے والے اداروں کے افراد کو خود قانون کی پامالی کرتے دیکھتا ہوں ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے طالب علموں میں نقل سازی کے رجحان کو دیکھتا ہوں ، عوامی بیت الخلاؤں میں تہذیب کا تقدس متنی سطح پر پامال ہوتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ایک خود ساختہ ارفع سماج کے میرے جیسے حقیر افراد ایسی حرکات کیوں کرتے ہیں؟ عوام کے دلوں میں تصورِ قوم کیوں پیدا نہیں ہوتا ، ان کی آنکھوں پر لسانی اور علاقائی پٹیاں کیوں بندھی ہوتی ہیں؟ نفرت لوگوں کے دلوں میں کیونکر پنپتی ہے؟ اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ دوسرے کی دہلیز پر رکھ کر ہم کس جذبے کی تشفی کرتے ہیں؟ اپنے گھر کے کار پورچ میں گاڑی دھو کر پورے محلے کو تالاب کیوں بناتے ہیں ؟ ان سب سوالوں نے مجھے بہت دن پریشان رکھا اور پھر مجھے اس کا جواب مل گیا ۔قوم محض عوامی جمعیت نہیں بلکہ کرداری جمعیت ہوتی ہے۔اقوام ارفع ترین آفاقی آدرش سے بھی متشکل نہیں ہوتیں بلکہ اسی سماج میں موجود بے مثل کردار کی موجودگی سے متشکل ہوتی ہیں ۔آج سے چودہ سو برس قبل سرزمینِ حجاز میں کردار کی جو ارفع ترین مثال تاریخ نے دیکھی اس کی روشنی دنیا کی ہر ہر تہذیب نے خود میں سموئی ۔ حضورنبی کریمﷺ کی صورت میں مالکِ کائنات نے ایک مکمل کردار کی تجسیم سماجی اراکین کے سامنے رکھی۔ اس کردار کا کوئی ایک روپ بھی ایسا نہ تھا جس کی تقلید کرنے والے موجود نہ ہوں ۔اقوام رہنما اصولوں سے نہیں رہنما کردار سے وجود پاتی ہیں۔میرے نزدیک کردار کا معیار وہ کسوٹی ہے جو حضور نبی کریمﷺ کے کردار کے رنگ میں رنگی ہو۔آپﷺ کی شخصیتِ مبارک میں جو اعتدال تھا جو نرمی تھی اور جو سماج پروری تھی اگر یہ تین اوصاف آپ کو اپنے رہنماؤں میں نظر نہیں آتے تو جان لیجیے کہ ان کے قول و فعل میں تصادم ہے۔ایسے ہی ہر ہر ادارے کا سربراہ ایک رہنما ہے اگر وہ بنیادی کرداری اوصا ف کا حامل نہیں توممکن ہے اس کے حکم کی تعمیل بامرِ مجبوری کرنے والے لوگ تو موجود ہوں مگر اس کی تقلید کرنے والے نہ ہوں۔ہمارے رہنماآج سے سرکاری ہسپتالوں میں اپنے اور اپنے اہلِ و عیال کا علاج کروانا شروع کردیں تو یقین مانیے دنوں میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوجائے۔ اگرہمارے رہنما عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر کریں ، عام عوام کی طرح قطار بنا کر بل جمع کرائیں ، سرکاری ٹیوب ویل سے قطار میں کھڑے ہوکر پانی بھریں ، سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھائیں تو ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔ ریاست رہنما کرداروں کے بعد جو دوسری چیز عوام کی رہنمائی کے لیے پیش کرتی ہے وہ ہوتی ہے نظام۔اللہ پاک نے حضورِ نبی کریمﷺ کے رہنما کردار کی تجسیم کے بعد نظام کے نفاذ کی راہ ہموار کی۔اور نظام بھی ایسا جوسماج کے ہر ہر رکن کو ایک آنکھ سے دیکھے ۔ اداروں ، اداروں کے سربراہان ، اور عام عوام کے لیے الگ الگ قوانین نہ ہوں ۔جب ریاستی نظام ہی اس فاصلے کی توثیق کرے گا جو ایک افسر اور ایک ماتحت کو دوا لیتے وقت الگ الگ قطار میں کھڑا کردیتا ہو ، جب ایک بیوروکریٹ اور امام مسجد کی توقیر میں زمین آسمان کا فرق ہو، صبح کے وقت میں چوک میں بیٹھ کر اپنی مزدوری کی راہ تکنے والے عوام کیڑے مکوڑے اور اس قسم کے عوام متشکل کرنے والے لوگ عنانِ حکومت سنبھالیں تو جذبہء قومیت یاجذبہ ء جمیعت پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں ایسے رہنما کرداروں اور رہنما اصولوں کی اشد ضرورت ہے جو گھر کی چار دیواری سے باہر کے علاقے کو بھی گھر ہی سمجھنے میں مدد دے۔ اس مقصد کے لیے اقوام ایک مقامی بیانیہ تخلیق کرتی ہیں جیسے امیرکن ڈریم، عرب مہا ثقافت، نو آبادیاتی پرائیڈ ، ماں دھرتی کے بیانیے دنیا کے بڑے ممالک کی مختلف الثقافتی اکائیوں کو اکٹھے رکھے ہوئے ہیں۔مذہب سے بڑی کوئی طاقت نہیں جو افراد کو ایک نکتے پر مرتکز کر سکے باوجودیکہ سماج میں فردی ارتکاز کی لاموجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست اپنے باشندوں کو رہنما کردار مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر قومی پرچم سرکاری اور غیر سرکاری طور پر لہرا دینے سے اور دو چار سیمینارز کردینے سے جذبۂ قومیت کی ٹھوس سطح پر موجودگی کا خواب ایک دیوانے کا خواب ہے۔ مجھے تو امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، آسٹریلیا ، جاپان ، چین ، روس ، ترکی اور حتیٰ کے ہمار ا نو آبادیاتی ہمسایہ بھارت بھی اپنے نیشنل ازم کا پرچار اپنی فلموں ، ڈراموں ،اور ادب و ثقافت میں کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ ان ممالک کے جھنڈے بصری بیانیوں میں ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کا قومی بیانیہ دانستہ یاغیر دانستہ ہر اظہاریے میں در آتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر سکول، جامعہ ، دفتر یا شاہراہ پر قومی پرچم کے استقلال کو قانونی طور پر رائج کریں ۔ اپنی آئینی شناخت کو بطور پالیسی ہر تخلیقی اظہاریے میں بطور لازمہ متصور کریں اور اس کا وجود یقینی بنائیں اور رہنماؤں کو اس سطح پر لے آئیں کہ ان کی موجودگی میں ہم عوام خود کو اضافی اشیاء یا حاشیے پر پڑے ہوئے غیر ضروری تجسیمی خاکے تصور نہ کریں ۔ یہ ریاست کا کام ہے ، ریاست کے زندہ اذہان پیش بینی کرتے ہیں نہ کہ میڈیا ہاؤسز پر بیٹھ کر سماج کو سیاست ، لسان ، اور ثقافتی سطح پر تقسیم کرتے ہیں ۔ ہمارا ملک اس لخت پن کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ جس ملک میں رہنما جو کہ عوامی خدمت گار ہوتے ہیں خود کو سلیبریٹی سمجھنا شروع کردیں تو ان کا وجود اسی بات میں پنہاں ہوتا ہے کہ وہ Others تخلیق کریں اور فی زمانہ میڈیا یہ کام چابک دستی سے سر انجام دے رہا ہے۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ اور ہمیں پاکستان کو اپنا گھر اور اس کے باسیوں کو اپنے لوگ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


ای پیپر