پنجاب یونیورسٹی پر رحم کریں!
06 مئی 2018 2018-05-06

وہ یہودی تھا اور ہنگری کا رہنے والا تھا۔ وہ ہنگری کے شہر بوڈا پسٹ میں پید اہوااوراس نے صرف نو سال کی عمر میں دنیا کے مشہور زبانیں سیکھ لیں ۔ ہنگری دیڑھ سو سال تک عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا لہٰذا ہنگری میں اسلامی تہذیب کے آثار باقی تھے۔اس نے ترکی زبان سیکھی اورترکی آکر اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا ،یہ مطالعہ اسے اسلام اور مسلمانوں کے قریب لے آیا ۔یہ ترکی سے برطانیہ چلا گیا ، وہاں اس نے کنگز کالج جوائن کر لیا اور اورنٹئل سیکشن کا ڈین بن گیا۔کنگز کالج میں مسلمان طلباء کے لیے کوئی الگ ہاسٹل نہیں تھا اس نے مسلمان طلباء کے لیے علیحدہ ہاسٹل بنوا یا اور اس کے ساتھ ہی برطانیہ کی دوسری بڑ ی مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔یہ مسجد بھوپال کی ایک شہزادی کے پانچ ہزار پاؤنڈ کے عطیے سے مکمل ہوئی۔انگریزوں نے رنجیت سنگھ کو شکست دے کر پنجاب پر قبضہ کیا تو اسے یہاں ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو پنجابی ہونے کے ساتھ آدھے انگریز بھی ہوں ، اس مقصد کے لیے لاہور میں 1858ء میں گورنمنٹ کالج کی بنیاد رکھی گئی ۔ اس کالج کو چلانے کے لیے ایسے پرنسپل کی ضرورت تھی جو انگریز ہونے کے ساتھ مشرقی تہذیب و ثقافت سے بھی واقف ہو، اس مقصد کے لیے لند ن کے اخبارات میں اشتہار دیا گیا ، گوتلب لیٹنر ان دنوں لندن میں تھا ، اس نے درخواست دی اور انٹر ویو کے لیے انڈیا آفس چلا گیا ۔ سلیکشن بورڈ نے اسے سلیکٹ کرلیا اور یہ1864ء میں لاہور شفٹ ہو گیا ۔ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل کے طور پر اسے اندازہ ہوا کہ یہ کالج صرف ایلیٹ کلاس کے لیے مخصوص ہے جبکہ پنجاب کے ہزاروں نوجوان کالج میں ایڈمیشن سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ یہ لاہور میں برطانیہ طرز کی کوئی یونیورسٹی بنا نا چاہتا تھا، یہ فائل اٹھا کر حکام کے پاس گیا لیکن شنوائی نہ ہوئی اوراس نے عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ۔یہ کشکول اٹھا کر عوام کے پاس چلا گیا ، لاہوریوں نے دل کھول کر عطیات دیئے اور گوتلب 35ہزار پاؤنڈ اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس پیسے سے اس نے پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے دروازے ہر امیر اور غریب نوجوان کے لیے کھول دیئے ۔ گوتلب خود تو مر گیا لیکن اس کا لگایا ہوا درخت آج بھی ہرا بھرا ہے جس سے لاکھوں طلبہ فیض یاب ہو چکے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی پاکستان کی سب سے بڑی اور قدیم ترین یونیورسٹی ہے لیکن یہ گزشتہ چند سالوں سے لاوراث اور یتیم ہو گئی ہے ۔ گزشتہ ڈھائی سالوں سے یونیورسٹی کا کوئی مستقل وائس چانسلر متعین نہیں کیا گیا۔ پہلے ڈاکٹر مجاہد کامران توسیع لیتے رہے اور رہی سہی کسر عبوری وائس چانسلرز نے پوری کر دی۔ کچھ عرصہ قبل سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹرزکریا ذاکر کو عبوری وائس چانسلر متعین کیا گیا تو انہوں نے یونیورسٹی کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ لیا۔ خود کو مستقل کروانے کے چکر میں مقتدر حلقوں سے ساز باز شروع کر دی جس کے عوض یہ ان کے ناجائز کام ، سفارشی بھرتیوں اور آؤٹ آف میرٹ نوازنے جیسے جرائم میں ملوث ہوتے رہے ۔ اپنی اہلیہ کو انتہائی کم مدت میں آؤٹ آ ف ٹرن ترقی دے کر ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بنا دڈالا۔ پنجاب یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر زکریا ذاکر کی اہلیہ نے 1998سندھ میڈیکل کالج سے MBBSکیا اور 2000میں FCPSُُٓپارٹ ون کیا ۔ ان کی سپیشلائزیشن Gynaecology and Obstetricsتھی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا شعبہ بدلا اور2006ء میں پنجاب یونیورسٹی سے Papulation Sciencesمیں ایم اے کیا جس کے بعدا نہیں اپنے شوہر کے ڈیپارٹمنٹ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کی ملازمت مل گئی ۔وہ چھ سال تک ریسرچ ایسوسی ایٹ رہیں ۔ 2012ء میں انہوں نے Papulation Sciencesمیں پی ایچ ڈی کر لی اور اس کے ساتھ ہی انہیں اسی ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر سلیکٹ کر لیا گیا ۔ اس کے بعد ان کی ’’معجزاتی‘‘ ترقی کا آغاز ہوا اور پہلے انہیں 2014میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بعد ازاں فل پروفیسر سلیکٹ کر لیا گیا ۔ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے کم از کم دس سال اور فل پروفیسر کے لیے پندرہ سال کا تجربہ درکا ر ہوتا ہے لیکن ان کی اہلیہ کے معاملے میں ان سب قواعد اور اصول و ضوابط کو نظر انداز کر دیا گیا ۔یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ کسی بھی گورنمنٹ ادارے میں کسی فرد کی تقرری کے لیے شوہر اپنی بیوی کی Eligibilityکو Determine نہیں کر سکتا لیکن ڈاکٹر زکریا ذاکر نے ان تمام معاملات میں قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں اور کسی اصول ضابطے کو در خور اعتناء نہیں جانا ۔ اپنی بیوی کو صر ف آٹھ سالہ ملازمت اور پی ایچ ڈی کے صرف دو سال بعد فل پروفیسر بنا کر یونیورسٹی کیلنڈر کی بھی صریح خلاف ورزی کی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود عبوری وائس چانسلر بنتے ہی اہلیہ کو ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بنا ڈالا جبکہ ان سے کہیں ذیادہ سینئر فل پروفیسر ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھے ۔اور اگر یہ وی سی برقرار رہتے تو انہوں نے سنڈیکیٹ سے اہلیہ کی غیر قانونی اور آؤٹ آف میرٹ تقرری کو قانونی تحفظ بھی دے لینا تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے ساز باز بھی شروع کر دی تھی۔یہ صرف ڈاکٹر زکریا ذاکر کی داستان ہے ورنہ اس عظیم جامعہ کے ساتھ کسی نے وفا نہیں کی ۔ آپ کو اکثر ڈیپارٹمنٹس میں سفارشی بھرتیوں کی ایک لمبی قطار نظر آئے گی اور پھر یہ سفارش پر بھرتی ہونے والے لاڈلے یونیورسٹی کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں ۔ سفارش کلچر، اقرباء پروری ،خوشامدیوں کو نوازنااور طلبہ تنظیموں کی لڑائی یہ وہ اہم مسائل ہیں جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ گزشتہ دنوں چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر زکریا ذاکر کو برطرف کر دیا تھا ۔ کیس کی سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے ڈاکٹر زکریا ذاکر سے پوچھا کہ انہوں نے کس حیثیت سے یونیورسٹی کی اسی کنال زمین حکومت کو بیچی تو اس کا ڈاکٹر زکریا ذاکر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔چیف جسٹس نے انہیں برطرف کیا تو موصوف کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔انتہائی ندامت اور لجاجت کے ساتھ معذرت نامہ پیش کیا اور فریا د کی کہ میں اٹھائیس سال سے طلبہ کو پڑھا رہا ہوں ، میری ریٹائر منٹ میں صرف دو سال باقی ہیں ایک غلطی ہوگئی شفقت کرتے ہوئے اس کی معافی دی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں استاد کا احترام جانتا ہوں ، نپولین نے استاد کے گھر میں پنا ہ لینے والوں کو معافی دی تھی ، آپ ذیادہ باتیں نہ کریں ورنہ سب سچ سامنے لے آؤں گا ۔ یعنی اس کے علاوہ بھی کچھ سچ تھے جو صرف چیف جسٹس کو معلوم تھے اور عوام اور میڈیا ابھی تک ان کے بارے میں لاعلم ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر زکریا ذاکر نے اپنے مختصر سے عرصے میں پنجاب یونیورسٹی میں بدا نتظامی کے سبب اپنی معطلی اور بعد ازاں معافی کی درخواست کر کے اپنا سارا کیرئیر تباہ کر لیا ۔
چیف جسٹس کے بعد پنجاب کے دس کروڑ عوام بھی ڈاکٹر زکریا ذاکر سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے پنجاب یونیورسٹی کی اسی کنال زمین کس حیثیت سے حکومت کو فروخت کی ، کیا یہ آپ کی ذاتی جاگیر تھی ؟گوتلب لیٹنر یہودی ہوتے ہوئے پنجاب کو پنجاب یونیورسٹی جیسا عظیم ادارہ دے گیا اورہم نے 135سال بعد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسے بیچنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ ہم کیوں پیچھے ہیں فرق واضح ہے۔


ای پیپر