یوٹوپیا۔۔۔!!
06 مئی 2018

چلیں آج میں اور آپ مل کر پل بھر کے لیے خوش گمانیوں کے نگر کے مسافر بنتے ہیں۔ اَن چھوئی خواہشوں کے نیلگوں پانیوں پر اترتے ہیں۔ اَن دیکھی خوش فہمیوں کے سر سبز مشکبو درختوں کی بانہوں پر بیٹھ کر محبت کے گیت چہچہاتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے سوچتے ہیں کہ یہ قوم مسجدوں کے میناروں پر آویزاں لاؤڈ سپیکرز کی تعداد سے نکل کر مسجدوں کو واپس اللہ کے سپرد کر چکی ہے۔ نہ کوئی مسلک ہے نہ فرقہ۔۔۔ نہ کوئی شاہی خلعت اور نہ ممتاز خرقہ۔۔۔ نہ کہیں بے مثل جبہ اور نہ بلند دستار۔۔۔!!
ایک پل کے لیے تخیل میں لاتے ہیں نہ کہیں نذرانوں کے قیمتی طاقچے ہیں اور نہ نفرتوں کے مدلل کتابچے۔۔۔ نہ کہیں لنگر کا وسیع انتظام اور نہ واعظ کی خصوصی تقریر کا خاص ’’اہتمام‘‘ اور نہ ہی دوسروں کے بچوں کو جنت کی پکی رسیدی ٹکٹ۔۔۔ ایک ساعت کے لیے تصور میں لاتے ہیں کہ میرے وطن کے تمام تعلیمی اداروں میں نصاب ایک ہے۔۔۔ انگریزی ایک ہے حساب ایک ہے۔۔۔ بڑی بڑی طویل گاڑیوں میں اجلے اُجلے شوفر یتیموں اور غریبوں کی بستیوں میں آتے ہیں اور اُن کے غریب بچوں کے لیے دوڑ کر دروازہ کھولتے ہیں اور سکول لے کر جاتے ہیں۔۔۔ اور واپس چھوڑنے آتے ہیں۔
ایوانوں کی آبنوسی قیمتی میزوں پر گداز سفید ہاتھوں کی دھپ دھپ جلترنگ سے یہ قرار داد جنم لیتی ہے کہ آئندہ کوئی بھی ذی حشم و ذی اختیار علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جائے گا۔ نہ کہیں جا بجا نارسا اور نایاب مسیحائی کے قصاب خانے ہوں گے اور نہ ہی سرکاری ہسپتالوں کے فرشوں پر جگہ جگہ بیٹھے ہوئے بیمار جسموں کے مجسم ڈھیر۔۔۔ نہ کوئی ہڑتا ل نہ وبال ۔۔۔ عملہ مریضوں کو باہر سے استقبال کر کے عقیدت بھرے ہاتھوں میں لاتا ہے اور کسی بہت اپنے کی طرح علاج کرتا ہے۔
خانۂ خیال میں لمحہ بھر اک نقش اُتارئیے نہ کہیں کمیشن ہے نہ حصہ ہے نہ کہیں عددی کہانی ہے نہ انعامی قصہ ہے۔ نہ اقتدار کا بازار ہے نہ ضمیروں کی دکانیں۔۔۔ نہ جہالت کا رقص نہ بے حسی کی بریانی۔۔۔ نہ اندھی تقلید کے خوش رنگ نعرے ہیں اور نہ ہی کوبہ کو بینرز کے کفن پر کتبہ نما دلربا تحریریں ہیں۔
بس ہر طرف محبت کا فتویٰ ہے۔۔۔ نہ کہیں پرچی نہ پرچا۔۔۔ نہ قصیدہ یا چرچا۔۔۔ نہ کہیں رمضان بازاروں کا سراب نہ بینظیر انکم سپورٹ مشتہر سانس لیتے کاسے۔۔۔!! بس تصور لائیے۔۔۔ نہ شاہراہوں پر عین چوراہوں میں نہ شاہ زیب قتل ہوتے ہیں اور نہ ویرانوں میں زینبیں لٹتی ہیں۔
رکیے ابھی پرواز ختم مت کیجیے۔۔۔ میرے ساتھ بس تھوڑی دیر اور اُڑیے۔۔۔ اور پروں کو پھیلائے رکھیے۔۔۔ بس تھوڑی دیر اور فرض کیجیے تمام صاحبان ایوان و اقتدار نے اس قانون کو آئین کا حصہ بنا دیا ہے کہ ایک خاندان سے محض ایک فرد پارلیمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے اور نہ کوئی مشیر نہ اضافی عہدہ اس خاندان میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر پانچ سال بعد ہر جماعت کو جمہوری طریقے سے اپنا سربراہ تبدیل کرنا پڑے گا۔
یہ قرار داد بھی پاس کر لی گئی ہے کہ کوئی بھی سرکاری آفیسر کسی بھی سیاسی نمائندہ یا کسی کا بھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کرے گا اور ثابت ہونے پر اسے محض او ایس ڈی نہیں بنایا جائے گا بلکہ نوکری ختم کر دی جائے گی اور سفارش کروانے والے کی اسمبلی سے رکنیت۔۔۔
اس قانون کو بھی ترمیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی وڈیرا یا صاحب سطوت و ثروت محض دو دفعہ ہی پارلیمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے اور اس کے بعد اُس خاندان پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔۔۔
ایک لمحے کے لیے سوچیے اس بات پر بھی مکمل عمل کر دیا گیا ہے کہ احتساب سب کا یکساں ہو رہا ہے نہ کوئی ادارہ ماورا ہے نہ شخصیت۔۔۔ نہ کوئی این آر او جنم لے گا اور نہ کسی ڈیل کی ڈھیل۔۔۔
تھر، چولستان، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے شہریوں اور باسیوں کے خدوخال بھی اہل اسلام آباد کی طرح عنابی عنابی اور لاٹیں مارتے ہوئے ہو گئے ہیں۔ نہ کہیں لا چارگی کی سلوٹیں ہیں اور نہ غربت کی جھریاں نہ جھلسی ہوئی رنگت نہ اُڑے سے حواس۔۔۔
ایک ساعت کے لیے سوچیے۔۔۔ نہ دودھ میں پانی کا اعادہ نہ مرچوں میں اینٹوں کا برادہ۔۔۔ اور یہ بھی سوچیے کہ اب میرے وطن کے لوگ واقعی یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی ظالم، قبضہ مافیا، لٹیرے ، شرابی ، زانی، قاتل اور ڈان کو ووٹ نہیں دیں گے اور حکومتیں عین ضمیروں کی جنبش سے تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہیں کہیں اور سے نہیں۔۔۔!! اور نہ ہی عوام بڑی بڑی دیگوں کے چمچوں، کھڑچوں اور چھوڑا ہوا شکار کھانے والے بجوؤں کی دلفریب باتوں میں آئیں گے۔۔۔ نہ کہیں لفافے ہیں نہ شاپر۔۔۔ نہ ساڑھی نہ گاڑی۔۔۔ نہ پلاٹ کی بخشش نہ نوکریوں کا دانہ۔۔۔!! پل بھر کو گماں کو یقیں میں بدلیے کہ جدید تحقیق اور ریسرچ اپنے اوج پر پہنچ چکی ہے اور مزید سلسلہ جاری ہے۔ میرا وطن داخلی اور خارجی بھیڑیوں کی رال کی دسترس سے نکل چکا ہے۔۔۔ ہم ناسا کو مات دے چکے۔۔۔ نیٹو کا حصار توڑ چکے۔۔۔ زمانہ کا سہ لیے ہماری دہلیز پر کھڑا ہے۔۔۔ ہم نے کریکٹر سرٹیفکیٹ کی مہریں جیبوں سے نکال کر سمندر برد کر دیں۔ ہمارے مدرسوں میں دوطرفہ عالمی فنڈنگ کا سلسلہ ختم ہوا۔۔۔ ہم نے اسلام کے عالمی ٹھیکیداروں کا ٹھیکہ منسوخ کر کے انہیں بلیک لسٹ کر دیا۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک ہمارے پاسپورٹ کے حصول کے بعد اپنے اپنے عبادت خانوں میں دعائیہ کلمات کا اہتمام کرتے ہیں۔ میرے وطن میں نہ کہیں خود کشی ہوتی ہے اور نہ خود کش۔۔۔ میرے وطن کے نوجوانوں نے واقعی یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی اُن تمام کارندوں کو اَن فرینڈ کر دیں گے جو انسانیت میں نفرت اور کافر کافر کی پٹرول کی بوتلیں لیے ہر وقت تیار کھڑے رہتے ہیں۔
میں معافی چاہتا ہوں میرا نہ تو ابھی یو ٹوپیا ختم ہوا اور نہ پرواز۔۔۔ آپ اسے کسی پاگل محب وطن کا دورہ یا اُبال سمجھ کر قبول کر لیجیے۔۔۔ یوٹوپیا ہی سہی۔۔۔پل بھر کو خواب دیکھنے میں حرج ہی کیا ہے۔۔۔!!


ای پیپر