ایک چپ ،سوسکھ
06 مئی 2018 2018-05-06

قصورکے ایک نواحی گاؤں میں ذوالقرنین نامی ایک ڈاکٹرکلینک چلایاکرتاتھا۔ ایک دن وہ اپنے کلینک میں بیٹھا ہوا تھاکہ ایک آدمی آیااورانہیں ان کے دوشاگردوں کے سامنے گولی مارکرفرارہوگیامگرپولیس اس شخص کوتلاش کرنے میں ناکام رہی ۔ یہ واقعہ پیش آئے تین سال سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے مگر قاتل ابھی تک پکڑا نہیں گیا ،یہ بات نہیں کہ وہ قاتل نامعلوم تھا یا پھر قتل کے عینی شاہد ین موجود نہ تھے۔ ہاں اگر کوئی چیز مفقود تھی تو وہ انصاف تھا ،اگر کوئی چیز قاتل کے پکڑے جانے میں رکاوٹ بنی تو وہ ڈاکٹر ذوالقرنین کے رشتہ داروں کی غریبی تھی ۔پولیس بھی’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے لاٹھی والے کا بھر پور ساتھ دے رہی تھی ۔قاتل کے پیچھے بڑے بڑے ہاتھ کار فرما تھے،قاتل کئی بار دیکھا بھی گیا مگر پولیس ہاتھ ڈالنے کی بجائے محض کاغذی کارروائی ہی کرتی رہی ۔
یہ صرف ڈاکٹر ذوالقرنین کی بات نہیں ایسے ہر روز نجانے کتنے بے گناہ غریب قتل ہو تے ہیں اور قاتل پھانسی کے پھندے کی بجائے سرِعام دندناتے پھرتے ہیں،کوئی ان کی طرف انگلی تو کیا نظر اٹھانے کی بھی جرأت نہیں کرتا ۔ اگر کوئی غریب بھولے سے قاتل کے خلاف ایف آئی آر کٹو ابھی دے تو پھراسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگروہ نہ مانے تو اس پر چڑھائی بھی کی جاتی ہے ۔پولیس تفتیش کے نام پر انہیں آئے روز اس قدر تنگ کرتی ہے کہ وہ اپنا کیس واپس لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اسی طرح اگر کیس عدالت میں چلا بھی جائے تو پھر وہ غریب عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر جہاں ذلیل وخوار ہوتا ہے وہیں وہ اپنا گھر بار بیچ کر کنگال بھی ہوجاتا ہے ، یہی نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کردیاجاتاہے ۔وکیلوں کی فیسیں بھرتے بھرتے ایک نسل ختم ہوجاتی ہے مگر مجال ہے کہ کیس کسی نتیجے پر پہنچا ہو اور قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہو ۔بعض بے گناہ غریب توسالہاسال جیلوں میں پڑے سڑتے مرجاتے ہیں اورپھرکئی سالوں بعدعدالت انہیں بے گناہ قراردیتی ہے ۔
ایسے واقعات بھی پیش آچکے ہیں کہ غریب کی بیٹی کی عزت کوتارتارکردیاگیااورجب وہ تھانے رپٹ لکھوانے پہنچاتونہ صرف پولیس والوں نے اس غریب سے رشوت لی بلکہ اسے چائے کے لئے بھی ملازم کی طرح استعمال کیا۔ دوسری طرف خاوندصرف اس لئے خودسوزی کرتاہے کہ پولیس نے اس کی بیوی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کوراتوں رات جیل سے فرارکرادیا۔آج کاالمیہ یہ بھی ہے کہ پولیس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ورثاء لاش سڑک کے بیچوں بیچ رکھ کرنہ صرف آمدورفت کانظام معطل کرتے ہیں بلکہ وہ بھرپوراحتجاج کرتے ہیں ۔آج کل توپولیس والوں کایہ سسٹم بھی مشہورہورہاہے کہ وہ اصل مجرم کوبچانے کے لئے کسی غریب اوربے گناہ کوپولیس مقابلے میں مارڈالتی ہے ۔راؤانوارجیسے قبیح کردار ہمارے معاشرے میں اس کامنہ بولتاثبوت ہیں۔
غریبوں کے ساتھ جب یہ سلوک روا رکھا جاتاہے تو پھر غریب کو قاتل بننے میں دیر نہیں لگتی ، غریب ملزم کو بھری عدالت میں پیشی کے لئے آتے ہوئے سرِعام پولیس نفری کے سامنے قتل کرتا ہے تو پھر وہ فوراًدھر لیا جاتا ہے ،وہ پولیس مقابلے میں مارا جاتا ہے یاپھرجیل کی کال کوٹھڑیوں میں ڈال دیاجاتاہے ۔چونکہ وہ جانتا ہے کہ عدالت اسے جھوٹے گواہوں اور خریدے گئے وکیلوں کی چرب زبانی کی وجہ سے بر ی کردے گی ،اس لئے وہ یہ سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ نہ تو اس غریب کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ پولیس کو خرید سکے اور نہ ہی وہ لمبے ہاتھ ہیں جو اسے جیل جانے سے پہلے ہی رہا کروالیں ،بالآ خر وہ غریب اس جرم کی پاداش میں تختہ دار پر جھولتا نظر آتا ہے ۔ غریب کے پاس وہ رشوت نہیں جوپولیس کی جیب اورمٹھی گرم کرسکے ،پولیس امیروں کی محافظ اورغریبوں کے لئے شکنجہ واقع ہوتی ہے ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کیا غریب ہونا جرم ہے ،کیاغریب انسانوں میں شمار نہیں ہوتے اور ان کا قتل انسانیت کا قتل نہیں ہے ،کیا غریبوں کا خون اتنا ارزاں ہے کہ جو چاہے بے دریغ اور بے دردی سے بہادے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟کیا قانون اور سزائیں صرف غریبوں ہی کے لئے ہیں ؟موجودہ صورت حال سے ان سوالوں کے جواب تو ہاں میں ہی ملتے ہیں اور جس کی غمازی تھانوں میں رکھی بوسیدہ الماریوں میں دھول مٹی سے اٹی وہ فائلیں بھی کرتی ہیں جوغریبوں نے مجرموں کے خلاف تھانیدار کی منتیں سماجتیں ،اپنی جیب خالی اور تھانیدار کی جیب گرم کر کے لکھوائی تھیں ۔ ایسے غریبوں کو میں یہی تسلی دے سکتاہوں کہ جو لوگ اپنے لیڈروں کے قاتلوں کو نامعلوم قرار دے کر فائلیں بند کرسکتے ہیں ،جوایسے لوگوں کی پشت پناہی کریں جوروزانہ شہریوں کو لاکھوں کروڑوں روپے ،قیمتی زیورات،گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سے محروم کردیتے ہیں،جوکسی مغوی کوچھڑانے میں مدتیں صرف کردے اورنتیجہ مغوی کی لاش کی صورت میں نکلے ،جوعوام الناس پرہی سرعام گولیاں برسائیں ،جن کے بارے میں معزز جج شوکت عزیزصدیقی یہ کہے کہ صرف اسلام آبادہی کے نوے فیصدپولیس افسران جرائم میں ملوث ہیں ، جن کے کمروں سے دن کومنشیات اورراتوں کولڑکیاں برآمدہوں ، وہ دوسروں کی عزتوں اورجانوں کی حفاظت کیاکریں گے۔جومعطل ہونے کی صورت میں بھی لاکھوں کے کھپلے کرے ،جہاں پولیس والے خوددہشت گردی کاشکارہوں اورانہیں بھی سکیورٹی کی ضرورت ہوتوپھر یہ غریب ’’کس کھیت کی مولی ‘‘ہیں۔غریب کس قدر بھولے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ حفاظت اس کی ہوتی ہے جس کے پاس کچھ ہو، نہ تمہارے پاس مال ہے اورنہ ہی وہ لاٹھی جوکسی کوہانک سکے، یہاں یہی اصول زندگی کی علامت ہے کہ دکھ ہزارجھیلو، زیادتیاں لاکھ برداشت کرو،تکلیفیں خوشی سے سہواوربس چپ رہو، اس لئے کہ ’’ ایک چپ سوسکھ‘‘۔


ای پیپر