اچھے لوگ کیوں بچھڑ جاتے ہیں۔۔۔
06 مئی 2018 2018-05-06



بابا جی اشفاق احمد ادب کی دنیا کیلئے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے اٹھنے ، بیٹھنے، بولنے میں ہم جیسے ’’نکموں‘‘ کیلئے سبق ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ بابا جی ایک دفعہ اٹلی تشریف لے گئے پڑھانے کیلئے تو وہاں کسی دوست کی گاڑی لے کر جا رہے تھے تو ان کا چالان ہو گیا۔ جب بابا جی اشفاق احمد عدالت میں پیش ہوئے تو جج نے پوچھا کہ کیا کام کرتے ہو تو انہوں نے بجائے اس کے کہ کہتے کہ پروفیسر ہوں تو انہوں نے فرمایا ’’ معلم‘‘ ہوں تو جج سمیت تمام عدالتی عملہ کھڑا ہو گیا احترام میں، اب دیکھئے ان لوگوں نے تعلیم کی دنیا میں کتنی ترقی کی ہے اور ہم نے آج تک اس طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ اساتذہ آئے روز مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہیں اور ہم آئے روز ہی ان پر ڈنڈے برساتے ہیں ۔ بابا جی نے کیا خوب فرمایا تھا کہ ڈگریاں در حقیقت تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہیں ورنہ علم تو وہی ہے جو عمل سے ظاہر ہے، آج دائیں بائیں نظر دوڑائیں تو اشفاق احمد کی بات بالکل سچ ثابت ہو رہی ہے کہ ڈگریاں تو ہمارے پاس ہیں مگر عمل نہیں ورنہ آج جو ملک میں ہلچل مچی ہے سیاسی اکھاڑے میں اس عکاسی کی معاشرے کو ضرورت نہیں۔ تمام سیاستدان پڑھے لکھے ہیں اس کا مظاہرہ ٹاک شوز میں دیکھا جا سکتا ہے، ایک دوسرے پر جوتیاں برسائی جا رہی ہیں ، ذاتیات پر اترتے ہوئے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں ، سچ بولنے والوں کے خلاف مقدمات کئے جارہے ہیں ، انہیں نیچا دکھانے کیلئے ماؤں بہنوں کو بھی نہیں بخشا جاتا، طرح طرح کی جملے بازی سننے کو ملتی ہے کہ جس سے سر شرم سے جھک جاتے ہیں عزت داروں کے؟ سیاستدان کو اس سے کوئی غرض نہیں وہ تو فلمی’’ پریوں‘‘ کی طرح بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا کی روش پر چل رہے ہیں ۔
جنرل پرویز مشرف نے بڑی بڑی’’ چولیں ‘‘ماری تھیں جن میں ایجوکیٹرز اسمبلی کا قیام بھی تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں تبدیلی آئی پھر یہ تبدیلی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھی بھی کہ یہی پڑھی لکھی اسمبلی ایک دوسرے کو اسمبلی ہی میں ’’چھتر‘‘ مارتی رہی، مشرف خود چلتے بنے مگر سسٹم ٹھیک نہ ہوا، سسٹم کیسے ٹھیک ہو ہم نے کلچر کے محکمے پر ایگریکلچرل اور ایگریکلچرل کے محکمے پر کلچرل کا بندہ بٹھا دیا ہے، رشوت اور سفارش نے ہر جگہ ’’پنجے‘‘ گاڑ رکھے ہیں ، پیدا کرنے والے کی قسم آج کوئی ادارہ نہیں بچا جس میں اربوں کی لوٹ مار نہ ہوئی ہو۔ پکڑے جانے والے وکٹری کا نشان بناتے پولیس کی گاڑی میں اترتے بیٹھتے ہیں ، انہیں پتا ہوتا ہے کہ چھ ماہ ٹرائل کے بعد باعزت بری ہو جائیں گے۔ ہوتا بھی پھر ایسا ہی ہے۔
پھر کہتے ہیں سسٹم ٹھیک نہیں، سسٹم تب تک نہیں ٹھیک ہو سکتا جب تب کڑا احتساب نہ ہو۔ دو چار کے گلے کاٹیں، ضمانت کی سہولت ختم کر دیں، سٹے آرڈر کے قانون کو میانی صاحب میں دفن کر دیں پھر دیکھیں کہ کیسے لوگ ’’ناک ‘‘ کی ’’سیدھ ‘‘ پر چلتے ہیں ، ڈگریوں کی بھی آج ہر جگہ لوٹ سیل لگی ہے، پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں لیکن اشفاق احمد کی بات درست ہے کہ عمل کہیں نظر نہیں آتا؟ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ70 سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں تعلیم اور صحت کے معیار کا ترقی یافتہ ممالک سے کسی طور پر بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ہر حکومت نے شعوری یا لاشعوری طور پر صحت کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہی نہیں کی، بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہوتی ہے۔
آئین اور قانون کی سر بلندی اور انصاف کی فراہمی کہیں نظر نہیں آتی اور جس معاشرہ میں ظلم اور ناانصافی حد سے بڑھ جائے وہ برباد ہو جاتا ہے، اسلام میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن کی رْو سے امیر اور غریب، حاکم اور عوام سب برابر ہیں ، کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، امن و امان، خوشحالی اور قانون کی حکمرانی والے معاشرے میں سانس لینے کی خواہش رکھنا ریاست کے ہر شخص کا حق ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ ریاست کے مختلف اداروں کے باہمی تصادم کو روک کر قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جہاں حاکم وقت بھی جواب دہ ہو اور عدالت میں طلب کئے جانے کو اپنی توہین نہ سمجھے اور خود کو ملکی آئین اور قانون کا پابند اور پاسدار سمجھتے ہوئے عام آدمی کی طرح عدالت میں پیش ہو کر دیگر حکمرانوں کیلئے مثال پیش کرے۔مگر کیا کریں بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ ڈگریاں در حقیقت تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہیں ورنہ علم تو وہی ہے جو عمل سے ظاہر ہے، عامل عمل کا نام ہے، ذاکر ذکر کرنے والے کو کہتے ہیں ، مولوی مولا کے ماننے والے کو کہا جاتا ہے، پیر سیدھا راستہ دکھانے والا ہوتا ہے، آج ان میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں۔ ہر بندے نے دکانداری سجائی ہوئی ہے۔ جو زیادہ خلاف بولتا ہے اس کا مال زیادہ بکتا ہے ۔جو کم بکتا ہے اس کے مال کی کم سیل ہوتی ہے؟ افسوس کی اور بھی بات ہے کہ آنکھوں والے آج اندھوں پر لاٹھیاں برسا رہے ہیں اور آنکھوں والے دیکھ رہے ہیں لیکن ثابت یہ ہوا کہ ہم اندھے ہیں اوراندھے آنکھوں والے ہیں ،مالک کائنات اچھے لوگ کیوں بچھڑ جاتے ہیں ۔


ای پیپر