”نِکی“
06 مئی 2018

دُنیا والے اِس غلط فہمی میں نہ رہیں، کہ امریکی صدر ٹرمپ کی منظورنظر ابھی تک نِکی ہے، ہمیں نہیں پتا کہ اُس کے والدین، بھاٹی گیٹ، یا لوہاری گیٹ کے رہنے والے تھے، جنہوں نے اِس کا نام نِکی رکھا تھا، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کسی ملک کا کوئی حکمران کتنی خاتون اول رکھ سکتا ہے، مگر ٹرمپ نے تو خاتون اول ایک، اور خفیہ خاتونِ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم نجانے کتنی خاتون اول رکھی ہوئی ہیں۔ آئے روز کوئی حسینہ اُن کی بیوی ہونے کا دعویٰ کررہی ہوتی ہے۔پیسے کے پجاری، کو اَمر بننے کا اس قدر خبط رہا ہے کہ کبھی تو ماڈلز کے ذریعے کیٹ واک کراکے، کبھی کُشتیاں کرا کے میرا مطلب ہے نوراکُشتیاں کراکے، کبھی جُوا کراکے، کبھی صنم کدوں کے ذریعے غرضیکہ وہ امیر ترین بن کر زیادہ سے زیادہ عورتوں کو اپنے دائرہ¿ اثر میں لانے کا ہمیشہ سے خواہشمند رہا ہے۔ نِکی نے خود کہا ہے کہ میرے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، جنوبی کیرولینا کی سابق گورنر ہیلی کے ساتھ بڑھتے میل ملاقات کے بارے میں ”رقیبان رفتگان وموجود“ چپ نہ رہ سکے، اور اُن سے سوال کر ڈالا، کہ اَب آپ کے ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیسی ہے، تو اُس کے جواب کا مفہوم یہ تھا، کہ ویسے کے ویسے ہیں۔ کسی پہ الزام یا بہتان لگانے کے تو ہم قائل کبھی بھی نہیں رہے، مگر یہ سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ شاید ٹرمپ افغان ”سلاجیت“کی صلاحیت کے بہت زیادہ معترف ہیں۔ انہوں نے اس پہ ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ تلاشِ کشتہ عربی کے لیے سعودیہ بھی جا پہنچے، جن کا قطب الدین بختیار کاکیؒوالے شعر جس کو سن کر وہ خداسے جاملے تھے ، ”کشتگانِ خنجر وتسلیم را“ سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، ان کی صلاحیت جنسیت کا سارا راز ”کھجوروقہوہِ سامُووسیاہ“ میں پوشیدہ ہے۔ مگر ہمیں ٹرمپ کے خیالات مفسدانہ سے کیا لینا دینا ، کیونکہ ہم تو قائل ہیں کہ
دِلوں میں چاہیے وسعت سمندروں کی طرح
نظر ”نواز“ نظارے ہوں ساحلوں کی طرح
آج کل کسی کے ”حرم حیاسُوز“ پہ نظر رَکھنا ویسے ہی جرم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بے شمار ”بُرے فعل“ کو بھی ذاتی فعل قرار دے دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے سعودیہ سے دورے سے واپسی کے بعد اسرائیل کا دارالخلافہ بیت المقدس مسلمانوں کی مُقدس ترین سرزمین، جہاں سے ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰﷺ اللہ تعالیٰ سے بہ نفسِ نفیس ، آسمانوں پہ تشریف لے گئے تھے، بنانے کا اعلان کردیا، کیونکہ اُس نے حکمران سعودیہ کا ”نرم رکوعانہ“ رویہ دیکھ لیا تھا، حالانکہ کسی بھی سفارتی، اخلاقی اور قانونی طریقے سے امریکہ کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے آئینی امور میں دَخل اندازی کرے۔ حتیٰ کہ اُس ملک کے دارالخلافے کا تعین بھی وہ خود کرتا پھرے اس پہ محض چند دن احتجاج وافسوس کرنے کے بعد”جذبات مسلمانی“جذبات کی ُرو میں بہہ جانے کے بعد ٹھنڈے پڑ گئے۔ اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی نے سلامتی کونسل میں اپنے بیان میں فلسطینی قیادت کے لیے سخت ترین الفاظ میں دھمکی آمیز لہجے میں سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کو حتمی قرار دیا، اور کہا کہ میں اپنا منہ کبھی بند نہیں کروں گی، کیونکہ فلسطینی تو مکالمے اور مذاکرات کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نکی کو عورت تصور کرتے ہوئے، رسولِ خدا ﷺ کے اِس فرمان کو ضرور مدنظر رکھیں کہ میں نے اپنے بعد عورتوں سے بڑھ کر کوئی اور فتنہ جو مردوں کو زیادہ نقصان پہنچا سکے، اور نہیں چھوڑا، بقراط کا کہنا بھی یہی ہے کہ عورتوں کے کہنے پہ کبھی عمل نہ کرو، تمام آفات زمانہ سے محفوظ رہو گے۔ قاضی نذرالسلام نے تو بات ہی ختم کردی ہے کہ بادشاہ لوگوں پر حکمرانی کرتا ہے، مگر عورت اُس کے دل پہ حکمرانی کرتی ہے۔ یہ بھی توصحیح ہے کہ نہایت زیادہ خوش حالی اور بدحالی برائی کی طرف لے جاتی ہے۔
خواجہ حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ جسے خدا ذلیل کرنا چاہے، وہ دولت کی تلاش میں لگ جاتا ہے، اور یہی میں نے شروع میں عرض کی تھی کہ ٹرمپ کو دولت جمع کرنے کا جنون ہے۔ اس حوالے سے اُس نے کئی خلاف قانون واخلاق کام کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اسرائیل کے دارالخلافے کو منتقل کرنے کے پیچھے بھی مجھے تو عورت کا ہاتھ لگتا ہے۔ جب اسرائیل کے دورے کے دوران ٹرمپ اپنی بیوی خاتون اول کا ہاتھ چھڑوا کر اسرائیلی عورت کے پیچھے چل پڑا تھا، توغالباً دل پھینک ٹرمپ نے اُس وقت صرف دل ہی نہیں ”ہتھیار“ بھی پھینک دیئے تھے، اور اُس خاتون اول نے اپنی ”شرط اول“ منوالی تھی۔ اپنی بیوی کے ساتھ ہونے پہ کفِ افسوس مل کر بقول فیض احمد فیض ضرور یہ کہاہوگا۔ کہ
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دِل میں ساتارے اترنے لگتے ہیں
مسلمانوں کی ذہنی زبوں حالی کا اندازہ، مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے سعودی عرب کے ولی عہد کے اِس ایمان ناتواں سے لگائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطین کو اپنا ملک بنانے کا حق ہے، بالکل اسی طرح اسرائیل کو بھی حق ہے، کہ وہ اپنے ملک کے مفاد کے لیے کام کرے، اس کے برعکس ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ دھوکے باز، جھوٹے اور جابر ملک سے بات چیت کی کوشش فلسطینیوں کی فتح کو پیچھے دھکیل دے گی، اور خامنہ ای نے کہا، کہ اسرائیل سے مذاکرات ناقابل معافی جُرم ہوگا۔ اور اپیل کی کہ تمام مسلم ممالک اسرائیل کو شکست دینے کے لیے فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک کی حمایت کریں، وہ سعودی ولی عہد کے بیان پر اظہار ردعمل کررہے تھے۔
آخر میں ،قارئین میری اس عرض پہ غور کریں، ہماری قوم کے بعض جوانوں کو ”خواجہ سرا“ بننے کا اتنا شوق ہے، کہ وہ زبردستی آپریشن کرا کے تیسری مخلوق بن جاتے ہیں، میری بات کا یقین کریں، میرا مشرف کے اِس بیان کی طرف بالکل اشارہ نہیں کہ اب اس ملک میں ”تیسری قوت“ حکومت کرے گی ۔ مجھے اتنا ضرور پتا ہے ، اور شرم بھی آئی ہے کہ دنیا میں ”ہم جنسیت “ کے حوالے سے شہرت رکھنے والے ملک ہالینڈ نے کہا ہے، کہ ہالینڈ اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل نہیں کرے گا ، کیونکہ ٹرمپ کا بیان غیر دانشمندانہ ہے۔
مُفکر اسلام حضرت اُمت مسلمہ کے ”انداز خسروانہ“ سے بخوبی آگاہ تھے، اِسی لیے تو اُنہوں نے فرما دیا تھا کہ
کہا اقبال نے شیخ حرم سے
تہ محرابِ مسجد سو گیا کون ؟
ندا مسجد کی دیواروں سے آئی
فرنگی بُت کدے میں کھوگیا کون؟


ای پیپر