مردِ کوہستانی سے ملاقات
06 مئی 2018 2018-05-06

وہ بتا رہا تھا : ” میں فوج سے بھگوڑا تھا کچھ عرصہ مفرور رہ کر محمد خان ڈاکو کے گینگ میں بھی رہا ،پھر جلد ہی وہاں سے بھی بھاگ گیا۔ہوا یوں کہ ایک روز میں، پولیس سے چھپتا ہوا، فتح جنگ اور اٹک کے درمیان ” کالا چٹا پہاڑ “ کے جنگل اور چوٹیوں سے گزر رہا تھاکہ وہاں ایک گھاٹی میں ایک ادھیڑ عمر شخص نظر آیا ۔اس نے ایک پھلاہی کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی۔میں وہاں اس کی موجودگی پرحیران ہوا۔اس نے آنکھیں کھولیں ،مجھے دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر کے بولا: ”کس سے چھپتے پھرتے ہو؟ بھلا کوئی اپنے آپ سے بھی چھپ سکتا ہے۔؟ “
میں اس کے سوال سن کر انگشت بدنداں رہ گیا۔نہ چاہتے ہوئے بھی میں قریب بیٹھ گیا اور پوچھا: ”بزرگو ! آپ کون ہیں اور یہاں تنہا اس گھاٹی میں کیسے پڑے ہوئے ہیں؟“
بزرگ نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور دھیرے سے کہا : ” کبھی کبھی جنگلوں کو بھی ڈر لگتا ہے،یہ بھی اپنی تنہائی سے اکتا جاتے ہیں۔مجھے جنگل اور اس گھاٹی کے درخت نے یہاں بلایا ہوا ہے۔ میں یہاں پچھلے پندرہ روز سے اِس پھلاہی کے درخت کا مہمان ہوں“۔
بزرگ کی پر سرار باتیں سن کر میں حیرت کے سمندر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا۔بھلا ایک درخت کسی انسان کو کیسے بلا سکتا ہے؟ میں نے دوبارہ سوال کر دیا : ” بزرگو ! آپ کو کوئی ذہنی صدمہ تو نہیں پہنچا۔آپ کے گھر والے تو آپ کو یہاں نہیں چھوڑ گئے۔ کوئی جائیداد کا رولا تو نہیں؟“
بزرگ کے ہونٹوں پر ایک مسکان ابھری اور دھیرے سے بولے : ” برخوردار ! میری کہانی کی پرتیں نہ کھولو،جاﺅ اپنا حساب بے باک کر کے آﺅ۔میں تمہیں اسی جگہ ملوں گا۔تمہارے ہر سوال کے جواب سمیت“۔بزرگ کی باتیں سن کر میں چکرا کے رہ گیا۔بغیر سوچے سمجھے میں نے اپنی بندوق اٹھائی اور وہاں سے نکل کھڑا ہوا۔جنگل میں چلتے ہوئے بزرگ کی باتیں میرے اندر آندھی کی طرح چل رہی تھیں۔کوئی دوگھنٹے کی مسافت کے بعد میں پکی سڑک پر پہنچ گیا تھا اور پھر ایک ٹرک پر سوار ہو کر اپنے علاقے کے تھانے میں پیش ہو گیا۔وہاں مجھے ایک اور حیرت کا سامنا تھا۔تھانے کا عملہ مجھے پہچاننے سے عاری تھا۔میں نے انہیں اپنے نام پتہ اور کیس کا بتایا کہ میں مفرور ہوں اور ایک مدت سے آپ سے چھپتا پھرتا ہوں۔مجھے حوالات میں بند کر دو مگر انہوں نے مجھے یہ کہہ کر تھانے سے باہر نکال دیا کہ تمہارے خلاف یہاں کسی قسم کی رپورٹ موجود نہیں ہے، جاﺅ موج کرو اور آئندہ یہاں آئے تو چھترول بھی کریں گے“۔
میں وہاں سے سیدھا حمام پر گیا ، اپنا حلیہ درست کیا،غسل کیا اور وہاں سے جھنڈی سیداں کے ایک دوست کے ہاں چلا گیا۔وہ ایک عرصے بعد مجھے زندہ دیکھ کر حیران ہو گیا۔میں نے اسے کچھ نہ بتایا صرف اپنی بندوق بیچنے کابتایا ،اس نے بہت زور لگایا کہ میں اس کے پاس رات بسر کروںمگر میرے اندر کا طوفان مجھے چین لینے نہیں دے رہا تھا، میںدوست کی دی ہوئی رقم سے کچھ چیزیں خرید کر پھر اسی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔میری آنکھوں کو یقین نہ آیا کہ وہ بزرگ وہیں اسی درخت سے ٹیک لگائے نیم درازتھے۔مجھے سامنے پا کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی اور بولے :” نیا جنم مبارک ہو ،خیر سے واپس آگئے ہو“۔۔۔۔مجھے ان کی بات سمجھ نہ آئی۔میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کانوں سے آواز ٹکرائی : ” دیکھوہمیں یہاں سے کہیںاور منتقل ہونا ہے ۔چند باتیں غور سے سنو، یہ باتیں پلے باندھ کر رکھنا تمہارے کام آئیں گی۔بھاگنا مردوں کا شیوہ نہیں ،جہاں جم کر بیٹھ جاﺅ گے وہیں تمہیں تمہاری منزل نظر آنے لگے گی۔زندہ رہنے کا مطلب محض سانس لینا نہیں ہے۔بھرپور زندگی گزارنے کے لےے انسان کو صرف انسانوں کی ضرورت نہیں ،نہ ہی روپیہ پیسہ،کار کوٹھی ،بنگلہ اور آسائشیںہی درکار ہوتی ہیں۔اسے ہرے پتوں کے درمیان رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔فطرت کی کتاب پڑھنی شروع کر دو۔تمہیں تمہارے اندر کائنات نظر آنے لگے گی۔ہوا جب چیڑھ کے درختوں کے جھومروں کو چھیڑ کر چلتی ہے تو جنگل جنگل چیڑ ھ کے ہزاروں ،لاکھوں جھومر ہوا کے ساز پر جھومنے لگتے ہیں۔سینکڑوں ندیوںاور آبشاروں کے ترنم من میں جاگ اٹھتے ہیں جس سے روح سرشار ہو جاتی ہے اور انسان سکون کے خمار میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔فطرت سے دوستی کائنات کی ہر شے سے دوستی کے مترادف ہے۔
میرے عزیز! میں نے جب نیا نیا فطرت سے ہاتھ ملایا تھا تو ایک عجیب کیفیت محسوس کی تھی۔میں نے ایک درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیں تو یوں لگا میں پیڑ بن گیا ہوں،گھنا پیڑ۔۔ میرے اندر سے شاخیں نکل آئیں اور شاخوں پر پتے میری روح سہلا رے ہیں۔سارے جنگل کے درخت مجھے اپنے درمیان پا کر تالیاں بجانے لگے۔ایک جشن کا سا سماں تھا۔پرندے اور جنگل کی دوسری مخلوق مجھے پہچاننے لگی۔اب مجھے یہاں کوئی خطرہ نہ تھا۔سنو! زیادہ خطرہ جنگل کی دنیا سے باہر ہے۔جہاں انسان درندوں سے زیادہ خطرناک ہو چکا ہے ۔۔آﺅ مجھ سے بغل گیر ہو جاﺅ اور مجھے الوداع کرو ۔شاید ہماری ملاقات دوبارہ نہ ہو“۔
میں جیسے ہپنا ٹائیز ہو گیا تھا۔مجھے لگا درخت مجھے گلے لگا کر جداہو رہا ہے۔میرے اندر فاختائیں سی پھڑ پھڑانے لگیں اور کچھ ہی دیر میں وہ درخت نما فقیر میری نظروں سے آناََ فاناََ اوجھل ہوگیا۔ حواس بحال ہوئے تومیں حیران ہوا کہ میں ایک پہاڑ کی چوٹی پرکیسے پہنچ گیاتھا،جہاں ایک خانقاہ پر ایک ملنگ بیٹھا ہوا تھا۔
میں کچھ دن وہاں اسی خانقاہ کے ملنگ کے پاس رہا۔اس نے مجھے زندگی کے کچھ اور راز بتائے۔ میرے اندر ایک رحمت کی پھوار پڑ رہی تھی۔میں پیکر محبت ہو رہا تھا۔اب مجھے کوئی بھی شخص برا نہیں لگتا۔ مجھے یہ جان کر اطمینان ہواکہ موسموں کے ذائقے برداشت کرنے سے انسان اندر سے مضبوط ہوجاتا ہے۔اور اس کی قوت برداشت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔میرے خیال میں اگر بس چلے تو بندے کو ہزاروں فٹ کی بلندی پر چند بکریوںکے ساتھ زندگی بسر کر دینی چاہےے تازہ دودھ کے ساتھ سانسیں بحال رکھتے ہوئے الغوزہ کی دُھن پر فطرت کے گیتوں کے ساتھ ہم آواز ہو کر سکون سے ہمکنار رہنا چاہےے“۔
اب وہ اپنی کہانی سنا کر دُور خلا میں کھو گیا تھا۔ عزیز قارئین ! اِس مرتبہ ”تکےے “ کے وزٹ پر اس مہمان ملنگ سے مل کر مجھ پرایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ میں حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کا شعر اپنے سامنے بیٹھا دیکھ رہا تھا:
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی


ای پیپر