Molana Fazlurehman Big Announcement
06 مارچ 2021 (15:29) 2021-03-06

سکھر:سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا یہ اجلاس جعلی وزیراعظم کے کہنے پر بلایا گیا،ہم اس اعتماد کے ووٹ کو تسلیم نہیں کرتے،رات بھر ممبران کی نگرانی کی گئی ہے،ایک،ایک ممبر کو اٹھاکر لے جایاگیا اور ان کی حاضری لی گئی،کبھی کہتے ہیں ریاست مدینہ میرا ماڈل ہے،کبھی کہتے ہیں چین کا نظام میرا آئیڈیل ہے،آج بھی اسمبلی میں عمران خان وہی پرانی باتیں کی ہیں.

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا پارلیمنٹ لاجز کے سامنے پریس کانفرنس کے دوران جو واقعہ ہوا افسوسناک ہے،جن غنڈوں نے پریس کانفرنس کرنے والے رہنماؤں پر حملہ کیاقابل مذمت ہے،شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہ پھینکیں،اگر ایسا کریں گے تو بھرپور جواب دیں گے،انہوں نے کہا صدر مملکت نے ایوان کا اجلاس بلایا،یہ اجلاس جعلی وزیراعظم کے کہنے پر بلایا گیا،یہ اجلاس جعلی وزیراعظم کے کہنے پر بلایا گیا،ہم اس اعتماد کے ووٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا ڈی چوک پر تنخواہوں میں اضافے کیلئے مظاہرہ کرنے والوں کو مارا پیٹا گیا، کیا ان لوگوں نے کرپشن کی تھی جن سے ایسا سلوک کیا گیا؟اسٹیل مل کے ملازمین کو نوکریاں فراہم کرنے کی بجائے نکال دیا گیا،کہتے تھے باہر سے لوگ پاکستان آکر نوکریاں کریں گے،ایک کروڑ نوکریاں عوام کو فراہم  کریں گے،کہاں ہیں حکومت کےوہ دعوے اور وعدے؟حکومت میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں،ایسی نااہل اور ناکام حکومت پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا آپ نے کس منہ سے ریاست مدینہ کا نام لیا؟یہ مدارس پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں،پوری دنیا سے ہمارے روابط کٹ چکے ہیں،کوئی ملک ہم سے لین دین کرنے کیلئے تیار نہیں،دنیا کے دوسرے ممالک ہم سے تعلقات کیلئے راضی نہیں،ان تمام مسائل کا حل ملک میں نئے انتخابات کراکر جمہوری حکومت لانا ہے،انہوں نے کہا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے حکومت کو بے نقاب کردیا،یہ نااہل حکمران ہیں،عوام کے مسائل کی انہیں کوئی پروا نہیں،ہم نے جو چیز اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اسے کیسے مسترد کردیں،قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کےجو افراد گئے وہ بطور مبصر گئے،پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں،سینیٹ کا الیکشن ہم نے یکجہتی اور یکسوئی سے لڑکرکامیابی حاصل کی،عوام چاہتے ہیں نئے الیکشن ہوں اور نئی حکومت آئے،حکومت کی کسی گفتگو پر یقین نہیں رکھتے،دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر پہلے دن سے قائم ہیں۔


ای پیپر