PM Imran Khan, vote, confidence, Imran Khan, Parliament
06 مارچ 2021 (13:29) 2021-03-06

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے ۔ وزیراعظم نے 178 ووٹ حاصل کیے ۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم عمران خان ، حکومت اور اتحادی جماعتوں سمیت 180 سے زائد ممبران اجلاس میں شریک ہوئے ۔

جماعت اسلامی کے رکن مولانا اکبر چترالی اور آزاد رکن محسن داوڑ بھی اجلاس میں شریک ہوئے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور اس کے ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔

اجلاس میں دو نکاتی ایجنڈے کے تحت کارروائی ہوئی ۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان دستور کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے مطابق وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

ووٹنگ کے لیے ایوان کی ڈویژن کی گئی جس سے قبل 5 منٹس کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں ۔ تمام ارکان کے ایوان میں آنے کے بعد قومی اسمبلی ہال کی تمام لابیاں مقفل کردی گئیں ۔

وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دائیں جانب لابی میں ڈویژن نمبر کے ساتھ چلے گئے ۔ عدم اعتماد میں ایک بھی ووٹ نہیں پڑا ۔ عبدالکبر چترالی نے ووٹنگ کے عمل سے گریز کیا اور گھنٹیاں بجنے کے دوران ایوان سے باہر چلے گئے۔

بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گنتی کے بعد نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے 176 ووٹ حاصل کیے تھے لیکن آج ان کے 2 ووٹ زیادہ ہوگئے اور انہوں نے 178 ووٹ حاصل کیے۔

اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بینرز اٹھائے جن پر نواز شریف اور آصف زرداری کی تصاویر کے ساتھ “نوٹ کو عزت دو” کا نعرہ درج تھا ۔ حکومتی ممبران نے اپوزیشن بنچوں پر نوٹ کو عزت دو کے کتبے رکھ دیے۔

وزیراعلیٰ محمود خان ، گورنر خیبرپختوخوا شاہ فرمان ، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ، گورنر محمد سرور ، وزیراعلی بلوچستان جام کمال ، گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے۔

خیال رہے کہ عمران خان ملکی تاریخ میں رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لینے والے دوسرے اور مجموعی طور پر ساتویں وزیراعظم ہیں ، اس سے پہلے 1993 میں نواز شریف نے اسمبلی سے رضاکارانہ اعتماد کا ووٹ لیا تھا ۔

وزیراعظم عمران خان سے پہلے نواز شریف نے دوبار اعتماد کا ووٹ لیا ، 18 اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کی ، لیکن 26 مئی 1993ء میں سپریم کورٹ نے حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دے کر بحال کر دیا ۔ 27 مئی 1993ء وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا اور 200 کے ایوان میں 123 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ۔

نواز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ تو لے لیا لیکن سیاسی بحران کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوگیا ، بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اور آخر کار 18 جولائی 1993ء کو صدرمملکت غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں کو استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا۔

نواز شریف کی طرح وزیراعظم عمران خان بھی رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں لیکن اپوزیشن کا اجلاس سے بائیکاٹ بتاتا ہے ، اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود سیاسی بحران ختم ہونے والا نہیں ۔


ای پیپر