PM Imran Khan, vote, confidence, Imran Khan, Parliament, distrust, people, inflation
06 مارچ 2021 (13:13) 2021-03-06

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان آج پھر سرخرو ہو گئے ، 178 حکومتی اور اتحادی اراکین اسمبلی نے کپتان پر اعتماد کا اظہار کر دیا لیکن مہنگائی سے ستائی عوام نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ۔

ملک بھر میں بڑھتی مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ، ایک ہفتے میں روز مرہ استعمال کی 22 اشیاء مزید مہنگی ہوگئیں ، گھی اور چینی کے بعد مرغی کی قیمت کو بھی پر لگ گئے ہیں ۔

ایسے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ بیف اور مٹن تو پہلے ہی نایاب تھا اب چکن بھی میسر نہیں ، شہریوں کا کہنا ہے حکومت کی طرف سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی قیمت کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں ۔

خیال رہے کہ عمران خان ملکی تاریخ میں رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لینے والے دوسرے اور مجموعی طور پر ساتویں وزیراعظم ہیں ، اس سے پہلے 1993 میں نواز شریف نے اسمبلی سے رضاکارانہ اعتماد کا ووٹ لیا تھا ۔

وزیراعظم عمران خان سے پہلے نواز شریف نے دوبار اعتماد کا ووٹ لیا ، 18 اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کی ، لیکن 26 مئی 1993ء میں سپریم کورٹ نے حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دے کر بحال کر دیا ۔ 27 مئی 1993ء وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا اور 200 کے ایوان میں 123 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ۔

نواز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ تو لے لیا لیکن سیاسی بحران کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوگیا ، بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اور آخر کار 18 جولائی 1993ء کو صدرمملکت غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں کو استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا۔

نواز شریف کی طرح وزیراعظم عمران خان بھی رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں لیکن اپوزیشن کا اجلاس سے بائیکاٹ بتاتا ہے ، اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود سیاسی بحران ختم ہونے والا نہیں ۔


ای پیپر