Chaudhry Farrukh Shahzad, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 مارچ 2021 (11:34) 2021-03-06

سینیٹ الیکشن کے حیران کن نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری حکومتی بے چینی اور اضطراب اور شکست کا خوف غلط نہیں تھا وہی ہوا جس کا انہیں ڈر تھا۔ حکومت اسلام آباد کی سیٹ ہار گئی جس سے حکومت کے ساتھ آئی ایم ایف کو بھی دھچکا لگا ہے کیونکہ ان کا پلانٹڈ بندہ الیکشن ہار کر وزارت خزانہ پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ الیکشن سے پہلے ہی حفیظ شیخ کو مشیر کے عہدے سے وزارت کا فرمان جاری کر دینا بے پناہ اور حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی بلکہ طاقت کے نشے کی غمازی کرتا ہے۔ ایک خود کار نظام کے تحت قدرت نے ان کو بتایا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہی ہو جو آپ چاہتے ہیں ویسے تو حکومت کی اخلاقی ساکھ اس وقت جس درجے پر گر چکی ہے پہلے کبھی نہ تھی مگر حکومت اب اخلاقی جواز کے بجائے آئینی جواز پر تکیہ کیے ہوئے ہے کہ ہم ہی حاکم ہیں۔

جمہوریت میں مشترکہ ذمہ داری کا اصول پارلیمانی نظا م میں کابینہ کے فرائض میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک وزیر پر عدم اعتماد یا ایک وزیر کی غلطی یا بدعنوانی پوری کابینہ کی غلطی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں وزیراعظم بھی کابینہ کا حصہ ہے وہ کابینہ سے ماورا نہیں ہے لہٰذا ایک وزیر کی غلطی وزیراعظم کو own کرنا پڑتی ہے۔ حفیظ شیخ کی شکست پوری کابینہ کی شکست ہے جس کی بنا پر وزیراعظم ضمیر کی آواز پر حکومت تحلیل کر سکتے تھے مگر انہوں نے اس آواز کو نظر انداز کر کے آئین کا سہارا لیا اور اپنا امیج بچانے کیلئے فوری طور پر قومی اسمبلی سے اعتماد کے ووٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ گویا ایک اعتراف تھا کہ ہم واقعی حق حکمرانی کھو چکے ہیں مگر اس اعتراف کے ساتھ امید بھی تھی کہ قومی اسمبلی میں جیت جائیں گے۔

اعلیٰ ترین سطح پر ایک دفعہ پھر ہارس ٹریڈنگ کا شور مچا ہوا ہے لیکن اسلام آباد کے واقعات بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے جن ممبران نے حفیظ شیخ کے خلاف ووٹ دیا تھا انہوں نے دوسری سیٹ پر پی ٹی آئی کی فوزیہ شیخ کو ووٹ ڈالا ہے اور وہ جیت بھی گئی ہیں۔ گویا ان کی پارٹی سے مخالفت نہیں تھی صرف حفیظ شیخ سے مخالفت تھی۔ جب انہوں نے دوسری سیٹ پر اپنی پارٹی کو ہی ووٹ دیا ہے تو پھر اس کو Defection یا ہارس ٹریڈنگ نہیں کہا جا سکتا بلکہ پارٹی کو یہ سوچنا ہو گا کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ ان کی پارٹی کے ارکان کیوں ان کی حمایت نہیں کر رہے۔

پس پردہ کہانی یہ ہے کہ حکمران جماعت میں اس وقت دو گروپ ہیں۔ ایک گروپ وہ ہے جو الیکشن جیت کر آیا ہے ان لوگوں کی عوام کے اندر مقبولیت ہے۔ ان لوگوں نے الیکشن پر کروڑوں روپے خرچ کر کے سیٹ جیتی ہے اور پارٹی کارکن ہر مسئلے کے لیے ان سے رجوع ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں مجبور کرتے ہیں کہ ان کے کام کرائیں، مگر بدقسمتی سے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اقتدار اور اختیار کا سارا سرچشمہ غیر منتخب لوگوں کے پاس ہے جو وزیراعظم کے ساتھ کسی نہ کسی طرح براہ راست منسلک ہیں، یہ کسی کی پروا نہیں کرتے، نہ ان کی پارٹی کے لیے خدمات ہیں مگر سارے فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ حفیط شیخ کا تعلق بھی اسی گروپ سے ہے اور ان کیخلاف منتخب لوگوں کے اندر ایک نفرت پائی جاتی ہے جس کا مظاہرہ حفیظ شیخ کے انتخاب کے موقع پر سب نے دیکھ لیا ہے۔

پیپلز پارٹی یہ الیکشن جیت کر میدان میں واپس آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ آصف زرداری کسی وقت کسی بھی جگہ کوئی بھی چمتکار کر سکتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی کو داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں زندگی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یوسف رضا گیلانی جیسی شخصیت کا انتخاب ایک تدبیر تھی کہ ایک ایسا امیدوار جو سابق سپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم بھی رہ چکا ہے۔ اس کا ایک اپنا منفرد Decorum ہے جو گزشتہ 40 سال سے قومی سیاست میںمرکزی رول ادا کر رہا ہے جو حفیظ شیخ کا سابقہ باس بھی رہ چکا ہے۔ حفیظ شیخ یوسف گیلانی کی کابینہ میں بھی وزیر خزانہ تھے۔

مختصر یہ ہے کہ سیٹ جیت کر آصف زرداری نے عمران خان کو پیغام بھیج دیا ہے۔ بقول منظر بھوپالی:

اپنی راہنمائی پہ اب غرور نہ کرنا

آپ سے بہت آگے نقشِ پا ہمارا ہے

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ فروشی میں ملوث ہونے والے سب ارکان اسمبلی کا تعلق ایک ہی جماعت یعنی پی ٹی آئی سے ہی کیوں ہے۔ پارٹی کہتی ہے کہ ہم نے پختونخوا میں اپنے 20 ارکان کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔ کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ان ارکان نے واضح کیا تھا کہ ویڈیو لیک میں جو پیسے بانٹے گئے انہوں نے وہ رقم اس وقت کے صوبائی سپیکر اسد قیصر اور پرویز خٹک کے کہنے پر لی تھی۔ حکومت نے اس پر کمیشن بنانے کے بجائے اپنے فواد چودھری کو ہی جج بنا دیا کہ وہ تحقیقات کرے۔ حفیظ شیخ کے الیکشن میں بھی اسی پارٹی کے لوگ گیلانی صاحب کو ووٹ دے آئے۔ سندھ میں تین ممبران نے کھلے عام پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالا۔ پارٹی کو اپنے ممبران کی آواز سننا پڑے گی ورنہ قومی اسمبلی میں بھی اعتماد کے ووٹ کے موقع پر یہ ہو گا یا آنے والے دنوں میں اگر پنجاب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو یہاں بہت زیادہ گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔

لیکن دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ آگے سینیٹ چیئرمین کا الیکشن ہونا ہے جس میں حکومت کے پاس 47 اور اپوزیشن کے پاس 53 ممبران ہیں ان حالات میں پی ٹی آئی پر یہ اخلاقی دباؤ ہو گا کہ وہ ممبر خریدنے کے بجائے عزت و وقار کے ساتھ شکست تسلیم کر لیں لیکن ایسا نہیں ہونے جا رہا بلکہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ اپوزیشن ممبران کو منحرف کرا کر اپنے ساتھ ملائے یہ کوشش پی ٹی آئی کے ماتھے پر جمہوریت دشمنی اور بددیانتی کا لیبل چسپاں کرنے کے لیے کافی ہو گی۔ حکومت بہت پیچیدہ صورتحال سے دو چار ہو گئی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عموماً اپوزیشن کے لوگ حکومت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنی پارٹی چھوڑ کر حکومتی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کہ حکومتی بنچوں سے لوگ اپوزیشن کے ساتھ مل رہے ہیں۔ یہاں تک سنا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ممبران نے اگلے الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ کے وعدہ پر اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ ذرائع کے مطابق منحرفین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ اگر تحریک انصاف ان کو پارٹی سے نکال دے گی تو پی ڈی ایم والے ان کی خالی سیٹ پر ان کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہیں کریں گے۔

حکومتی پارٹی کے اندر اس وقت انتشار کی حالت ہے اس موقع پر پارٹی کو جہانگیر ترین کی کمی محسوس ہو رہی ہے جس نے 2018ء میں درجنوں آزاد امیدوار ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اپنی پارٹی میں شامل کرائے تھے مگر حکومت کو اس پر کسی طرح کی کوئی ندامت نہیں ہے۔ اس وقت اپنی مدت اقتدار کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ قبل از وقت انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔


ای پیپر