Hameed Ullah Bhatti, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 مارچ 2021 (11:27) 2021-03-06

سینیٹ میں عددی اعتبار سے پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت تو بن گئی ہے لیکن اپوزیشن کو اب بھی معمولی ہی سہی مگر برتری حاصل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ سینیٹ انتخابات سے اپوزیشن کو نئی زندگی ملی ہے اور نتائج سے حکومتی صفوں میں مایوسی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اب بھی حکومت اگر محاذ آرائی کی روش تبدیل نہیں کرتی اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل نہ کیا گیا تو پارلیمنٹ کی طرف سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ عام لوگوں کو پی ٹی آئی سے بڑی توقعات تھیں مگر ووٹ دینے والے اب مہنگائی کے باعث خائف ہیں۔ اِس لیے عوام کی طرف سے حکومت کو حمایت ملنا ازحد دشوار ہے۔ اگر محدود اکثریت کے باوجود مدت پوری کرنی ہے تو سوچ کے ساتھ رویے پر نظرثانی لانا ہو گی۔

اسلام آباد کی جنرل نشست کے معرکے میں حکومتی امیدوار وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ کی شکست اور پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی کی جیت سے اپوزیشن دلیر اور حکومت یکدم دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے۔ اب چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی جیتیں یا عدمِ اعتماد ناکام بنانے کی طرح صادق سنجرانی فتح مند ہوں۔ ایک بات طے ہے کہ حکومت کی اکڑ ہی رخصت نہیں ہوئی بلکہ اخلاقی طور پر ایوان کا اعتماد بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہفتہ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا عندیہ دیا ہے لیکن ساتھ ہی غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور خامیوں پر نظرثانی کا بھی فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ سینیٹ الیکشن سے اُن کا شخصی سحر تحلیل ہو گیا ہے تصویر لگا کر ووٹ ملنے کے تاثر میں جان نہیں رہی۔ اس لیے افہام تفہیم کی فضا نہیں بنائی جاتی تو اپوزیشن اتحاد مزید سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ابھی تو اعتماد کافور ہوا ہے، اگر معامالات پر گرفت کمزور ہوتی ہے جس کا بہت زیادہ امکان ہے تو بقیہ مدتِ اقتدار میں بڑے فیصلے کرنے کی طاقت سے محروم ہ وجائیں گے۔

حکومت کا خیال ہے کہ ایوانِ بالا میں یوسف رضا گیلانی کی جیت میں پیسے کا عمل دخل ہے جس سے سولہ ممبر بک گئے۔ اِس بات میں کتنی صداقت ہے ابھی تعین ہونا باقی ہے لیکن اِس حقیقت سے نظریں چرانا ممکن نہیں کہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے ہونے والے ہر الیکشن میں رقوم کے استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں جن کے ثبوت بھی منظرِ عام پر آتے رہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ایک ویڈیو سے اپنی جماعت کے ممبران کو رسوا کیا مگر اِس غلط روایت کو ختم کیسے کرنا ہے؟ سوچنا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے جسے بوجوہ پورا نہیں کیا گیا۔ موجودہ وزیرِ اعظم نے بھی ابتدا میں کوشش کی کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخاب ہو تاکہ ووٹ پر نوٹ اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس کے لیے سپریم کورٹ ریفرنس بھیجنے کے بعد صدارتی آرڈیننس بھی جاری کرایا گیا لیکن طریقہ کار غلط اختیار کیا گیا، اسی لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ علاوہ ازیں عدالتِ عظمٰی نے آرٹیکل 226 کے تحت کرانے مگر ساتھ ہی ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا کی رائے دی جس سے حکومتی 

کاوشوں کو مزید دھچکا لگا، تبھی ووٹ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہوئے اور ناقابلِ ِ یقین اپ سیٹ ہوا، ساتھ ہی حکومتی خامیاں اُجاگر ہوئیں بلکہ اب تو عدم مقبولیت کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ مریم نواز کہتی ہیں پیسہ نہیں ن لیگ کا ٹکٹ چلا ہے جبکہ بلاول بھٹو جمہوریت کے ذریعے انتقام کی بات کرتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ثابت ہوا ہے جو قبل ازیں بلوچستان میں پسندیدہ اُمیدواروں کو کامیاب کرانے کے بعد صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین بنوانے میں کامیاب ہوئے اب بھی انہوں نے ہی تمام جماعتوں کو ضمنی انتخابات میں نا صرف حصہ لینے پر رضا مند کیا بلکہ سینیٹ انتخاب میں بھی ایسا جوڑتوڑ کیا جس سے حکومت کو ہزیمت ہوئی۔

یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی کا مقابلہ بھی کانٹے دار ہو گا ساتھ ہی وسائل کے بے دریغ استعمال کا خدشہ ہے۔ دراصل حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی دُہرے معیارات پر کاربند ہیں جس سے سیاست میں منافقت بڑھ رہی ہے۔ وزیرِ مملکت شہریار آفریدی کی مثال لے لیں جنہوں نے وزیر ہو کر کمال ہوشیاری سے دستخط کر کے نا صرف ووٹ 

خراب کر دیا بلکہ اپنی جماعت کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے دوبارہ بیلٹ پیپر کی درخواستیں دینے کی ایسی بھاگ دوڑ کی اور جن سے خرابی ووٹ کا وعدہ کر رکھا تھا اُنہیں بھی ثبوت دے کر مطمئن کر دیا۔ اسی طرح زرتاج گل کے حوالے سے بھی ووٹ خراب کرنے کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ راجہ ریاض نے تو کھلے عام ووٹ پی ڈی ایم کے امیدوار کو دے کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ اسی لیے جب ٹکٹ چلنے کی بات کی جاتی ہے تو امکان ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے کچھ ممبران حکومتی کشتی سے چھلانے لگانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے آئندہ انتخابات میں پی پی اور ن لیگ کے ٹکٹ کے وعدے لینے کی کوشش میں ہیں۔

جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ اپنے سوا سب کو کمزور اور حقیر سمجھنے لگتا ہے حالانکہ اچھا پہلوان حریف کی طاقت دیکھ کر داؤ آزماتا ہے، اندھا دھند ٹکر لگانے کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ موجودہ سینیٹ کے الیکشن میں پی ڈی ایم نے سوچ سمجھ کر جنوبی پنجاب سے یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اُتارا کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ جہانگیر ترین ناراض ہیں اور وہ حکومت کے حق میںایک قدم اُٹھانے کو تیار نہیں۔ اسی طرح گیلانی اور ترین خاندانوں میں قریبی تعلقات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں جس کے بعد یہ بعید از قیاس نہیں تھا کہ جہانگیر ترین کی ہمدردیاں یوسف گیلانی کے ساتھ ہوں۔ یہ بھی عیاں حقیقت ہے کہ وہ درجن کے لگ بھگ ممبرانِ اسمبلی پر ہنوز اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اِس بارے اپوزیشن کے تمام اندازے درست ثابت ہوئے مگر حکومت نے اندھادھند ٹکر لگانے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی۔ سینیٹ الیکشن میں خراب کارکردگی سے حکومت کو کچھ اتحادیوں کی ناراضگی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدر پیر صدر الدین شاہ راشدی ہارنے پر غصے کا اظہار کر چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جی ڈی اے کے چودہ ارکان نے جماعتی پالیسی کے مطابق ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیے مگر حکومتی اتحاد کی کامیابی میں حصہ ڈالنے کے باوجود جی ڈی اے کے امیدوار کی حمایت نہ کی گئی۔ اِس لیے اتحادیوں میں خیلج کے امکان کو رَد نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے ممبرانِ سندھ اسمبلی کا پی پی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے بعد جی ڈی اے کی ناراضگی حکومت کے لیے دُہرا صدمہ ہو گا۔

اپوزیشن نے اگر وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے تو حکومت بھی پیچھے نہیں رہی سینیٹ انتخابات سے قبل اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پچاس پچاس کروڑ دینے کا اعلان بھی ایک قسم کی رشوت تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد تردید کر دی گئی مگر نجی ملاقاتوں میں ممبران کو یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ حکومتی امیدوار کو ووٹ دیکر اپنے حلقوں کو سنوار لیں۔ اسی طرح ایک طرف حکومتی ذمہ داران اپوزیشن پر ووٹوں کی خرید و فروخت کا الزام لگاتے ہیں مگر ٹکٹ دیتے وقت خود بھی کھرب پتی افراد کو ترجیح دی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایوانِ بالا کے انتخاب کے بعد اگر کیا کھویا کیا پایا کا جائزہ لیں تو اچھی صورتحال دکھائی نہیں دیتی۔ پہلے بھی قومی مفاد پر ذاتی و گروہی مفادات کو اہمیت ملتی تھی اب بھی کچھ نہیں بدلا، پہلے کی طرح شفافیت، امانت و دیانت کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔


ای پیپر