Iftikhar Hussain Shah, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 مارچ 2021 (11:22) 2021-03-06

حفیظ شیخ جیسے طاقتور شخص کو سینیٹ الیکشن میں شکست پاکستانی جمہوریت کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حفیظ شیخ ایک بہت ہی طاقتور شخصیت ہیں۔ شیخ صاحب کا تعلق تو پاکستان سے ہے لیکن بقول زبیر عمر سابق گورنر سندھ حفیظ شیخ پاکستان صرف اُس وقت آتے ہیں جب انہیں جھنڈے والی گاڑی مہیا کی جاتی ہے۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ شیخ حفیظ کوئی پہلی دفعہ پاکستان کے وزیر خزانہ نہیں بنے، اس سے پہلے بھی وہ زرداری صاحب کے دور میں 2010 سے 2013 تک وزیر خزانہ پاکستان رہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پرویز مشرف کے دور میں 2003 سے 2006 تک وفاقی وزیر برائے پرائیو یٹائزیشن اینڈ انویسٹمنٹ رہ چکے ہیں۔

اُس سے بھی پہلے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2000 سے 2002 تک صوبہ سندھ کے وزیرخزانہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ رہے ہیں۔ اب ماشاء اللہ عمران خان کے دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو ہیں۔ موصوف کبھی بھی الیکشن وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑے، ایسے جھنجھٹ وہ نہیں پالتے۔ اب بھی چونکہ وہ elected نہیں تھے اس لیے وہ بطور ایڈوائزر (Adviser to PM) ٹو وزیراعظم برائے خزانہ اینڈ ریونیو کام کر رہے تھے۔ دراصل اب کے مسئلہ یہ آن پڑا کہ عدلیہ کے ایک فیصلہ کے مطابق اب کوئی ایڈوائزر یا مشیر کیبنٹ کی میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ کسی خاص موضوع پر رائے دینے کے لیے اسے وزیر اعظم خصوصی طور پر نہ بلائیں۔ اسی طرح وہ کسی کیبنٹ کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت بھی نہیں کر سکتے۔ سو ان مسائل کی وجہ سے ابھی تو وزیراعظم نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں چھ ماہ کے لیے وزیر خزانہ مقرر کر رکھا ہے، لیکن قانون کے مطابق وزیراعظم کسی نان الیکٹڈ شخص کو صرف چھ ماہ کے لیے وزیر مقرر کر سکتے ہیں۔ اب اگر وزیر اعظم نے اُنہیں ایک باقاعدہ وزیر کے طور پر اپنی کابینہ میں رکھنا ہے تو پھر انہیں منتخب ہو کر پارلیمنٹ کا رکن بننا ہو گا۔ وہ خود تو کسی الیکشن ولیکشن کے تردد میں پڑنے والے نہیں ہیں سو وزیراعظم نے اس کا حل یہ نکالا کہ انہیں سینیٹ کا ممبر منتخبکرا کے پارلیمنٹ کا حصہ بنا دیا جائے۔ لیکن ستم ظریفی حالات دیکھیں کہ وزیراعظم کی تمام کوششوں کے  باوجود وہ تین مارچ یعنی دو روز قبل ہونے والے سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم (PDM ) کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں ہار گئے۔ آپ نے  دیکھا ہو گا کہ اسی سینیٹ الیکشن میں انہیں جتوانے کے لیے وزیراعطم عمران خان نے نا صرف اپنا تن من دھن لگا دیا بلکہ ہر قسم کے پاپڑ بیلتے نظر آئے۔ یہ سب کھیل جو اوپن بیلٹ (open ballot) والا بھی شروع ہوا تھا تو اس کا واحد مقصد حفیظ شیخ کو سینیٹ کا ممبر بنوانا تھا۔ حکومتی قانونی ماہرین نے وزیراعظم کے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پہلے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر کے سپریم کورٹ کی ایڈوائس کے ذریعے اوپن بیلٹ سینیٹ الیکشن کرانے کی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ ابھی یہ ریفرنس زیر سماعت تھا کہ وزیراعظم نے اوپن بیلٹ سینیٹ الیکشن کرانے کیلئے صدر پاکستان سے آرڈیننس (ordinance) جاری کرا دیا، مگر یہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے مشروط تھا۔ ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں اور اپنی پوری حکومتی ٹیم کے ذریعے ایک مہم چلوا دی کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت ایک معمول  بن چکا ہے جو واضح طور پر جمہوریت اور جمہوری عمل کی 

توہین ہے، اس لیے سینیٹ کے الیکشن اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ اس مہم کے دوران وہ یہ بھی کہتے رہے کہ ہم تو حکومت میں ہیں، خفیہ ووٹنگ تو ہمارے مفاد میں ہو گی، اگر اپوزیشن نے ہماری بات نہ مانی تو پھر وہ الیکشن کے بعد روتے نظر آئینگے۔ لیکن اپوزیشن  نے اس سلسلہ میں اُن کا ساتھ نہ دیا۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ نے بھی حکومتی ریفرنس پر یہ فیصلہ سنا دیا کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں کی جاتی سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ہوں گے۔ سو الیکشن کمیشن کی مقررہ تاریخ یعنی 3مارچ کو سینیٹ کے الیکشن ہو گئے اور حکومتی امیدوار شیخ حفیظ 164 لے کر پانچ ووٹوں کے فرق سے ہار گئے کیونکہ یوسف رضا گیلانی نے 169ووٹ حاصل کیے۔ اسی الیکشن میں تحریک انصاف کی خواتین کی نشست پر امیدوار فوزیہ ارشد 174 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئیں۔ قومی اسمبلی جس کے اراکین نے سینیٹ اراکین کا انتخاب کرنا تھا اس میں حکومت کو اکژیت حاصل ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد کی سیٹ پر حکومتی امیدوار حفیظ  شیخ کا ناکام ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے باہر سے امیدوار کے انتخاب پر پارٹی کے اندر جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ سینیٹ انتخاب کے نتیجہ پر اثر انداز ہوئے۔

اس نتیجہ کو دیکھتے ہوئے دو سوال ذہن میں اُبھرتے ہیںکہ یا تو حکومتی پارٹی کے ارکان حکومتی 

کارکردگی سے مطمئن نہیں یا پھر انہیں حفیظ شیخ کو ایک اہم نشست پر حکومتی امیدوار بنایا جانا پسند نہیں آیا۔ سچ پوچھیں تو حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کی شکست میں یہ دونوں عوامل شامل تھے۔ صرف پارٹی ہی نہیں پوری قوم حیران ہے کہ عمران خان نے نہ جانے کیوں یہ مشیران کی ایک لمبی قطار ملک میں لا کر بٹھا دی ہے۔ یہ پارٹی میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پارٹی میں interest ہے۔ حفیظ شیخ کے متعلق تو یہ مشہور ہے کہ وہ پارٹی کے ممبران سے بہت ہی واجبی سا تعلق رکھتے ہیں۔ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال سے پوری قوم بہت تنگ ہے جس سے تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بہت پریشان رہتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ان غیر ملکی پنچھیوں نے تو اُڑ کے چلے جانا ہے، عوام کا سامنا تو انہوں نے کرنا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کا ہے، اس لیے تحریک انصاف کے اپنے ممبران نے بھی حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دئیے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ کرائے کے دھوبی آہستہ آہستہ خود ہی اس ملک سے بھاگ جائیں گے۔ پہلے بھی ایک امریکی شہری شہزاد سید قاسم جو Mineral resources سے متعلق وزیراعظم کے سپیشل اسسٹنٹ تھے اور ڈاکٹر ظفر مرزا جو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایڈوائزر تھے ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ آپ دیکھیں گے حفیظ شیخ بھی بہت جلد ملک چھوڑ جائیں گے البتہ زلفی بخاری عمران خان کے ساتھ جائیں گے۔ اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے۔


ای پیپر