Umer Khan Jozvi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 مارچ 2021 (11:16) 2021-03-06

سچ تویہ ہے کہ جہاں ایک سے بڑھ کرایک چور، ڈاکو، قاتل، مکار، ظالم ، جابر اور فرغون بنے پھرتے ہوںوہاں نہ چاہتے ہوئے بھی پھرہمارے جیسے کمزور، مجبور، لاچار اور غریب انسانوں کو گھبرانا پڑتا ہے۔ ہم 72سالوں سے چوروں، ڈاکوئوں، قاتلوں، راہزنوں، جھوٹوں، مکاروں، مداریوں، ظالموں اورسب سے بڑھ کرفرعون نماحکمرانوں کے نرغے اور شکنجے میں ہیں۔ کمرتوڑ مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور بھوک وافلاس سمیت دنیا کا وہ کونسا ظلم ہے جوان حکمرانوں نے ہم پر ڈھایا نہیں۔؟ جھوٹ، فریب، دھوکہ اور منافقت کاوہ کونسا کھیل ہے جو ان ظالموں نے ہمارے ساتھ کھیلا نہیں۔؟ حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی وفات کے بعد اس ملک میں جو بھی حکمران آیا۔ اس نے اپنی بساط، طاقت، وس اور بس کے مطابق ہمیں دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم نے ہر ایک کو حکمران نہیں اپنا مہربان سمجھا لیکن قائداعظم کے بعد اول سے لیکر آخر تک ہر ایک ہمارے لئے آستین کے کسی خطرناک سانپ سے کم کبھی نہیں نکلا۔ قدم قدم پر ڈسے اور موقع موقع پر لٹے جانے والے ہم جیسے گہنگار تو گھبرا کیا۔؟ خوف سے بھی کانپ رہے تھے اورکانپتے بھی کیوں نا۔؟جب 72سال تک واسطہ ہی ہماراگھبرخانوں سے پڑا۔ویسے بھی سانپ کاڈساتوپھررسی سے بھی ڈرتاہے۔یہاں توسانپ ہی نہیں اژدھوں اوروہ بھی خطرناک قسم کے اژدھوں نے ہمیں ڈسااورڈسابھی کوئی ایک دونہیںبلکہ باربار۔ایسے میں گھبراناتوپھرہماراحق بنتاتھالیکن پھربھی جب کپتان نے حکم دیاکہ آپ نے گھبرانا نہیں ۔کپتان کے اس ایک حکم پرہم نے فوراًلبیک کہتے ہوئے گھبرانے شبرانے کاکام ہی سرے سے چھوڑدیا۔سابق حکمرانوں کے کرتوت،اعمال اورافعال دیکھ کرگھبرانے کے جراثیم تو ہمارے رگ رگ میں بس چکے تھے لیکن اس کے باوجودکپتان کے حکم کی تعمیل میں تقریباًڈھائی سال تک ہم ایک دن بھی گھبرانے کے قریب نہیں گئے۔2018کے الیکشن کے بعدپی ٹی آئی حکومت کی صورت یاشکل میں وہی پرانے ترکھان ومستری نما وزیر اور مشیر جو نواز، زرداری اور مشرف دور میں بھی معاشی ترقی و عوامی خوشحالی کے نام پر ٹیڑھی دیواریں تعمیر کر کے ہم پر اپنے اپنے تجربے کرتے رہے دوبارہ مسلط کئے گئے لیکن کپتان کے حکم کی وجہ سے ان مگرمچھوں کی دوبارہ آمدپر بھی ہم ایک لمحے کیلئے نہ گھبرائے۔ تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی بجلی، 

گیس، پٹرول اور ڈالر کو ایسے پر لگ گئے کہ جس سے ہماری سانسیں تک اکھڑ کر رہ گئیں لیکن ہم پھر بھی نہیں گھبرائے کیونکہ کپتان کا حکم تھا کہ گھبرانا نہیں۔ کپتان کی کپتانی یاحکمرانی میں گندم چوروں نے دانہ دانہ چوری کرکے لاکھوں اورکروڑوں غریبوں کوروٹی روٹی کامحتاج بنایالیکن ہم پھربھی نہیں گھبرائے کیونکہ کپتان نے کہا تھا کہ گھبرانا نہیں۔ آٹے کے بعد کپتان کی آنکھوں کے سامنے پھر چینی چوربلوں سے ایسے نکل آئے کہ پورے ملک کے اندرچینی کی فی کلو قیمت ہفتوں اورمہینوں نہیں دنوں میں پچاس پچپن سے 100 روپے سے بھی اوپر تک پہنچ گئی۔ شوگر مافیا کو بائولے کتوں کی طرح غریب عوام کواس طرح سرعام ڈستے اورکاٹتے ہوئے دیکھ کر ہم نے ایک لمحے کے لئے گھبراناچاہابھی لیکن ہم صرف اس لئے نہیں گھبرائے کہ میرے کپتان نے کہاتھاکہ آپ نے گھبرانا نہیں۔ آٹا اور چینی چوروں کے بعد پھر ادویات مافیا نے لو ٹ مار کا بازار گرم کر کے غریبوں سے جینے کی آس وامیداس طرح چھین لی کہ موت کے سائے پھرہرجگہ منڈلانے لگے ۔موت کوسامنے دیکھتے ہوئے بھی ان حالات میں ہم صرف اس وجہ سے نہیں گھبرائے کہ ہمارے کپتان کاحکم ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔ کپتان کی حکمرانی اورتحریک انصاف کی ڈھائی سالہ حکومت میں 22 کروڑ عوام گھرسے در پر آگئے ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک و افلاس کی وجہ سے آج اس ملک کے غریب پائی پائی کے محتاج ہوچکے ہیں۔ اہل و عیال کاپیٹ پالنے کیلئے کئی غریب گھرتک بیچ چکے ہیں۔آج ایسے غریبوں کی حالت خانہ بدوشوں سے بھی مختلف نہیں۔ اب ان کے کوئی گھررہے ہیں اور نہ ہی کوئی در۔ امیر ہے یا غریب۔ چھوٹا ہے یا بڑا۔ ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، فنکار، گلوکار، سٹوڈنٹس، لیڈی ہیلتھ ورکرز، سرمایہ دار، صنعتکار، زمیندار، کسان، تاجر، ریڑھی بان اور مزدور سمیت آج اس ملک میں ہر شخص رو رہا ہے۔ حکومت کی ناقص و آئی ایم ایف کی غلامانہ پالیسیوں نے ہر شخص کو گھر سے در، چوک اور چوراہوں پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ وہ حکومت جسے کبھی رعایاکی ماں کانام دیاجاتاتھااوروہ حکمران جسے عوام کے خادم، محافظ، نوکر اور غریبوں کیلئے آخری آسرا سمجھتا جاتا تھا۔ آج اس حکومت اور حکمرانوں کی جانب سے اس رعایااورغریبوں کے لئے ،،میں این آر او،، نہیں دوں گاکے نعروں اورشورکے سواکچھ نہیں۔ڈھائی سال سے اس ملک میں ایک طرف ،،این آراو،،نہیں دوں گاکے نعرے ہیں  اور دوسری طرف مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک و افلاس کے سائے ۔جووقت کے ساتھ ساتھ مزیدبڑھتے اورپھیلتے جارہے ہیں۔ سر پر بھوک وافلاس کے سائے اور ذہن پر غربت کے ہاتھوں مفت میں مرنے کاخوف طاری ہو۔ ایسے میں تو پھر کوئی بھی انسان گھبرائے بغیرنہیں رہ سکتا۔لیکن اللہ گواہ ہے کہ ہم پھربھی صرف اس لئے نہیں گھبرائے کہ کہیں کپتان کے حکم کی حکم عدولی نہ ہو۔میرے کپتان ہم نے تاریخ کی ریکارڈمہنگائی بھی برداشت کی۔ غربت، بیروزگاری، بھوک وافلاس کی کڑوی گولیاں بھی کھائیں۔آٹا،چینی چوروں اور گیس، بجلی، ادویات اورپٹرولیم مافیاکے زخم بھی سہے۔ ہم نے ڈھائی سال میں بھوک بھی دیکھی اوربھوک وافلاس کی وجہ سے موت کے سائے بھی لیکن ہم پھربھی نہیں گھبرائے کیونکہ آپ کا حکم تھاکہ گھبرانا نہیں۔ آپ کے حکم پرہم تونہیں گھبرائے لیکن میرے کپتان اب آپ نے بھی گھبرانا نہیں۔ ضمنی انتخابات میں آپ کے امیدواروں کی یہ تاریخی شکست آپ کی حکومت کے انہی اعمال سیاہ کانتیجہ ہے جوڈھائی سال تک ہم پرڈھائے گئے اورجس سے ہم گھبرائے نہیں۔ ویسے یہ توابتداء ہے۔اب آگے دیکھئے گاکہ اور کیا کیا ہوتا ہے۔اسی لئے توشاعرنے کہاتھاکہ ابتدائے عشق ہے روتاہے کیا۔۔آگے آگے دیکھئے کہ ہوتاہے کیا۔یہ توتین چارزیادہ سے زیادہ پانچ دس حلقوں کی بات ہوگی،آگے تویہ معاملہ اورسلسلہ ڈسکہ اورنوشہرہ سے بھی آگے بہت آگے جائے گا۔ڈھائی سالوں میں جن ہاتھوں نے جوبویااب انہی ہاتھوں کووہ کاٹنابھی توپڑے گا،ایک ایک عمل اورفعل کابدلہ تو دینا پڑے گا۔ آپ اور آپ کی حکومت کی یہ شکست، ناکامی، مایوسی اور پریشانی اب تین چار حلقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اب اکثر صوبوں، حلقوں، شہروں اور ضلعوں میں آپ کے وزیروں اور مشیروں کو تاریخی شکست و ناکامی کا یہ ذائقہ چکھنا پڑے گا۔ شائدکہ آنے والے وقتوں میں آپ کوبھی تاریخی شکست کاایک تاریخی ذائقہ چکھنا پڑے۔ میرے کپتان ہمارا نمبر تو گزر گیا، آپ کی دی ہوئی تھپکی ،ہمت،شعوراورحوصلے نے توہمیں گھبرانے سے بچایالیکن اب آپ کی باری ہے۔تاریخی شکست،ناکامی اورمایوسی کے مختلف قسم کے ذائقے چکھنے کے ساتھ اب آپ کوبھی ہماری طرح کئی کڑوی گولیاں کھانی اور بہت سارے کڑوے گھونٹ پینے ہونگے مگر میرے کپتان آپ نے گھبرانانہیں۔


ای پیپر