Shabir Buneri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 مارچ 2021 (11:09) 2021-03-06

جہاں نوٹوں کی بارش ہو وہاں اجتماعی مفاد ہار جاتا ہے۔ بھوک انسان کو تہذیب کا دشمن بنادیتی ہے ہم مگر اس کو آج تک نہ سمجھ سکے کہ ہمارا استحصال دن بہ دن شدید ہوتا جارہا ہے۔ اس قومی استحصال کو ختم کرنے کے لئے ہم من حیث القوم کسی بڑے حادثے کے منتظر ہیں۔ روٹی کی اہمیت جاننے کے لئے بھوک و افلاس کی ٹھوکریں ضروری ہوتی ہے۔ ہم نے کیا نہیں دیکھا محرومی اصل میں ہوتی کیا ہے یہ آئی ایم ایف کی دھاڑ اور اجتماعی لاشعوری کے نت نئے تماشوں سے پتا چلتا ہے۔ وہ کیا ہے نا کل ہی ایک دو انسانوں کو اس بات پر جھگڑتے دیکھا کہ میرا نظریہ درست ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ بائیس کروڑ لوگوں نے بائیس کروڑ نظرئیے پلے باندھ لئے ہیں۔ انسانوں کے ایک ایسے جم غفیر کو جس میں بات نوٹ سے شروع اور نوٹ پر ختم ہوجاتی ہے کو کون قوم ماننے پر تیار ہوسکتا ہے۔ دور نہیں ابھی ماضی قریب ہی میں چھوٹے چھوٹے ملک بحرانوں سے نکل کر قوم بن گئے ہم مگر صرف فلموں ڈراموں پر اکتفا کرکے یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ایک دن ہم بھی قوم بن جائیں گے۔

 ہم نے آج تک کون سا بڑا تیر مارا ہے جو روز نئے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ جن سے اچانک عام لوگ امیدیں باندھ لیتے ہیں وہ مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ایسا کیوں تو جواب ملتا ہے یہ سیاست ہے اسے سمجھنے کے لئے سیاستدان بننا پڑتا ہے۔ مصلحتوں کے دیس میں مصلحتوں کے مارے لوگ دن بہ دن موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں لیکن فکر کسی کو نہیں۔ یہ دیس ہمارا ہے لیکن یہاں چاند کو نہ نکلنے کی آوازیں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں۔ ہم نے سفر شروع کیا تو محرومی کا سامنا کیا۔ ہم اگر مان لیں کہ اول روز سے ہی ہم محروم ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ آزادی کے صرف 

ایک ہی سال بعد ہم نے اس انسان کو بیچ سڑک پر بیمار چھوڑا جس نے دن رات تو کیا لمحے بھی ایک کئے تھے لیکن آخری دنوں میں ان کی بے بسی اگر دیکھنی ہو تو کرنل الٰہی بخش کی کتاب " ود دی قائداعظم ڈیورنگ ہز لاسٹ ڈیز" پڑھئے۔ 

سفر ابھی شروع بھی نہ ہوا تھا کہ کمپنی باغ میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ مجھے شدید حیرت اس بات ہر ہے کہ ہم نے اس ملک کو اپنا سمجھا کب ہے۔ دن بہ دن مسائل کے بھنور میں ہم پھنستے چلے جارہے ہیں لیکن آگے کی سوچ میں پلاننگ کا فقدان اتنا شدید ہے کہ ہمارے لئے مسائل سے نکلنا ناممکن بن چکا ہے۔ مسائل کیا ہیں بس دو ہی تو ہیں۔ ایک طرف اگر بھوک کی وجہ سے انسانوں میں پاگل پن پیدا ہورہا ہے تو دوسری طرف اشرافیہ کا شعور ختم ہوتا جارہا ہے لیکن پھر بھی ایک بہت بڑی اجتماعیت نے یہ سوچا ہوا ہے کہ سینیٹ کے اس الیکشن 

میں جب ان کی جیت ہوگی تو قوم بننے کی طرف حقیقی سفر شروع ہوگا۔

ہم نے جب سقوط ڈھاکہ کی کالی رات دیکھ لی تو اس وقت کے عالمی دانشور سوچ رہے تھے کہ اس قوم میں اب لازمی طور پر گناہوں سے توبہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی مگر اس کے چند ہی سال بعد جمہوریت کو پاؤں تلے روندا گیا۔ جمہوریت کا دیا بجھانے سے پہلے اس ملک کے سڑکوں پر تبدیلی کے کون سے کھیل نہیں کھیلے گئے۔ جن لوگوں نے جمہوریت کے نام پر ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھا انہوں نے خود ہی دھاندلی کا جرم بند کمرے میں تسلیم کیا تھا اور جنہوں نے ان کے خلاف سڑکوں پر عام لوگوں کو خوب ورغلایا تھا انہوں نے آج تک اس قوم کو کچھ بھی نہیں دیا۔ ہمارا صاف شفاف المیہ بس یہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو ایک بار بھی اپنا ماننے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ہم اگر صرف ایک بار بھی یہ غلطی کر بیٹھتے تو آج سات عشرے گزرنے کے بعد بھی کیا کرپشن نامی بیماری یوں موجود ہوتی جو آج کل ہے۔ 

دلوں کا کرپشن ، نیتوں کا فتور اور اعمال میں منافقت بس یہ تین خصلتیں ہی آج تک ہم اپنائے ہوئے ہیں۔ بیماریاں کیا ہیں یہ جاننے کے لئے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں بس یہ ماننا ہے کہ اس ملک کو ہم اپنا تسلیم کرنے سے ابھی تک انکاری ہیں۔ ہماری صرف ایک بیماری ہے ہم اس ملک کو اپنا ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ جس دن ہمیں یہ احساس ہوگیا کہ یہ ملک اللہ کی ایک رحمت ہے یقین کیجئے اسی دن سے ہماری حالت بدلنا شروع ہوجائے گی۔ سینیٹ کے پچھلے الیکشن میں پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کے مفاد کو نوٹوں کے ساتھ تولا گیا نوٹوں کا پلڑا بھاری رہا اور یہی وجہ ہے کہ نوٹ جیت گئے تھے۔ اس بار امید یہ کی جارہی تھی کہ شائد حادثوں نے اجتماعیت کے لئے بناوٹی انداز میں فکرمند اذہان کو سمجھا دیا ہولیکن ہوا کے دوش پر آج بھی وہی آوازیں ہیں نوٹوں سے ہی کام بنیں گے۔ وہ جن سے کچھ اچھا کرنے کی امید تھی انہوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ قوم کے ساتھ ڈوب مرنا ہی کمال ہے۔ 

کائنات کے خالق نے فرمایا خود کو بدلوگے تو میں بدلنے کی توفیق دوں گا ہم نے مگر دوسروں کی خاطر اپنی آخرت داؤ پر لگانے کی قسم کھائی ہے۔ مجھے اندلس کے وہ عالیشان محل یاد آرہے ہیں جن کے بارے کسی بھی عقل مند نے ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہاں بھی کبھی دشمن کے قدم پڑیں گے لیکن عیسائی جب وہاں داخل ہورہے تھے تو کوئی غلط فہمی غلط فہمی تھی نہ کوئی شک تھا۔ غریب کے لئے جینا محال بن چکا ہے لیکن پھر بھی سینیٹ الیکشن اہم ہے وہ کیا ہے نا اس بار نجات دہندہ جو بنا ہوا ہے اس نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ میرے بعد اس ملک کو چلانے کی کسی میں سکت ہی نہیں۔ اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھنے والے خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس پوری کائنات کا ایک ایوان ایسا بھی ہے جہاں نوٹ نہیں نیت اور اعمال دیکھے جاتے ہیں۔ 


ای پیپر