Faisal Vawda, statement, affidavit, false, principle, Islamabad High Court
06 مارچ 2021 (10:15) 2021-03-06

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جھوٹے بیان حلفی کے نتائج ہیں اور الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے ۔

فیصل واوڈا نے 11 جون کو دہری شہریت نہ رکھنے کا بیان حلفی جمع کرایا جبکہ فیصل واوڈا کو امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون کو جاری ہوا جس سے ثابت ہوا کہ فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت امریکی شہری تھے ۔

فیصلہ کے مطابق مستعفی ہونے کے باعث نااہل قرار دینے کیلئے کو وارنٹو کی رٹ جاری نہیں کی جا سکتی ، عدالت کا کہنا ہے کہ 29 جنوری 2020 سے 3 مارچ 2021 تک فیصل واڈا نے نااہلی درخواست پر کوئی جواب داخل نہیں کیا ، فیصل واؤڈا نے کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے معاملے کو طول دیا اور جواب داخل نہ کرا کے کیس میں تاخیر کی ، فیصل واوڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن سے کاغذات نامزدگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا ۔

تفصیلی فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ فیصل واوڈا کے وکیل نے 3 مارچ کی سماعت میں استعفی پیش کر کے کہا کہ درخواست غیر موثر ہو چکی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے اصرار کیا کہ ابھی استعفی صرف پیش کیا گیا جبکہ منظوری باقی ہے ۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے الگ نتائج ہیں ، فیصل واؤڈا ممبر قومی اسمبلی یا ممبر سینیٹ بننے کے اہل نہیں رہے ۔

واضح رہے کہ فیصل واؤڈا 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ، 7 اگست 2018 کو کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا ۔

عدالت نے کہا کہ کووارنٹو کی رٹ میں فیصل واؤڈا کو دہری شہریت چھپانے اور جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی ۔


ای پیپر