سینیٹائزر!
06 مارچ 2021 2021-03-06

سینیٹ آف پاکستان کا الیکشن اِس بار ضرورت سے کچھ زیادہ اہمیت اختیار کرگیا، ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن کی طرح سینیٹ کے الیکشن میں بھی یہی احساس ہورہا تھا یہ اپوزیشنی جماعتوں اور حکمران جماعت کے درمیان کوئی سیاسی یا انتخابی مقابلہ نہیں ہندوستان اور پاکستان کی کوئی جنگ ہورہی ہے، اِسے پیسے اور طاقت کی جنگ بھی کہا جاسکتا ہے۔ طاقت کے مقابلے میں پیسہ جیت گیا تو اِس میں حیرانی کی بات اِس لیے نہیں کہ سب سے بڑی طاقت اب صرف پیسے کی ہے، اِس طاقت نے عزت آبرو کی طاقت کو بھی اب پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ہمارے محترم وزیراعظم کو اپنے سولہ ارکان کے بکنے کا اُس وقت پتہ چلا جب حفیظ شیخ ہار گئے، اُوپر میں نے سینیٹ کے الیکشن کے بارے عرض کیایوں محسوس ہورہا تھا ہندوستان اور پاکستان کی جنگ ہورہی ہے۔ پہلے جنگوں میں ہتھیاروں کی ضرورت پڑتی تھی، اب یہاں سب سے بڑا ہتھیار پیسہ ہے، اب تو سکیورٹی پر مامور اہل کار بھی لوگوں کی جیبوں میں جو ہتھیار چیک کررہے ہوتے ہیں وہ پیسہ ہی ہوتا ہے، پچھلے برس میں اِس ملک کے ایک طاقتور شخص کے صاحبزادے کی شادی پر گیا، وہاں سکیورٹی پر مامور ایک اہل کار نے میری جامہ تلاشی لینے کے باوجود مجھ سے پوچھا ”آپ کے پاس کوئی ہتھیار تو نہیں ہے ؟“، میں نے پوچھا ”کیوں آپ کو چاہیے؟“....وہ مسکرایا اور اُس نے مجھے کلیئرکردیا، سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں ہردوجانب سے جس قدر بدزبانیوں، بدتمیزیوں اور بداخلاقیوں کے مظاہرے ہوئے، عوام نے اُنہیں یقیناً بہت پسند کیا ہوگا، کیونکہ عوام خود بھی ایسے ہی ہیں، میں پچھلے دنوں ڈی ایچ اے میں اپنے ایک ریٹائرڈ کرنل دوست سے ملنے گیا وہ اپنے نوجوان صاحبزادے کو بڑی بڑی گالیاں دے کر سمجھارہے تھے کہ ”بیٹا کسی کو گالیاں نہیں دیتے“۔ مجھے اُن کی اِس بات پر ذرا حیرت نہیں ہوئی، ایسے لوگوں کی اِس بات پر حیرت کرنے کی ہم جرا¿ت نہیں کرسکتے کہ ”ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے “.... کسی زمانے میں ”شرافت کی زبان کی بڑی شہرت ہواکرتی تھی، اب اکثر ہم ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”تم شرافت کی زبان نہیں سمجھتے“ ....اب لوگ صرف گالیوں کی زبان سمجھتے ہیں، گالیوں کی زبان اتنی عام ہوچکی ہے لوگ صرف غصے میں ہی ایک دوسرے کو گالیاں نہیں دیتے، پیار سے بھی ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، اگر غصے سے دی جانے والی گالیوں اور پیار سے دی جانے والی گالیوں کا کوئی مقابلہ ہو تو پیار سے دی جانے والی گالیاں آگے نکل جائیں گی۔ اِس میں المیہ بس یہ ہے معاشرہ بداخلاقی کے اِس بدترین مقام پر آن پہنچا ہے لوگ اپنے بچوں کے نام پیغمبروں کے پاک ناموں پر رکھتے ہیں اور بچوں کے بے تکلف دوست اُن پاک ناموں سے پہلے کوئی نہ کوئی گالی لگاکر اُنہیں مخاطب کرتے ہیں، .... سو اِس عام ہوتے ہوئے گندے کلچر میں، اب اکثر میں اپنے دوستوں سے گزارش کرتا ہوں اپنے بچوں کے نام علی، محمد، حسن، حسین، عثمان یا ابوبکر رکھنے کے بجائے ٹونی، ببلو، شیرو، گڈووغیرہ رکھ لیا کریں، ....گالیاں دینے والے کو کوئی شرم آتی ہے نہ گالیاں کھانے والے کو ....ہمارے کچھ شیخ صاحبان تو اِس معاملے میں اِس قدر ”بے عزتی پروف“ ہیں اُنہیں کوئی گالیاں دے رہا ہو وہ آگے سے یہ سوچ کر خوش ہوتے رہتے ہیں چلیں اگلا کچھ دے ہی رہا ہے ناں، کچھ لے تو نہیں رہاناں....ایک زمانے میں گالیاں دینے پر قتل ہو جایا کرتے تھے ، ہماری فیملی میں ایک بزرگ اپنے بچوں سے کہتے تھے”آپ کی لاش گھر آجائے میں قبول کرلوں گا، مگر مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوگا کہ آپ ماں بہن کی گالیاں کھاکر، اُس کا حساب چکتا کیے بغیر واپس گھر آجائیں“ ۔اب روزانہ ٹیلی وژن خصوصاً سوشل میڈیاپر لوگ جس انداز میں ایک دوسرے کو گالیاں بک رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ جس انداز میں بدزبانیاں کررہے ہوتے ہیں، بدکلامیاں کررہے ہوتے ہیں، اور اِس دوران جس انداز میں وہ دست وگریباں ہورہے ہوتے ہیں، ہمیں اُن کے یہ رویے ذرا بُرے نہیں لگ رہے ہوتے، بلکہ اس صورت حال کو ہم انجوائے کررہے ہوتے ہیں، ابھی کل کی بات ہے ایک ٹی وی چینل پر حکمران جماعت کا ایک وزیر، اور اپوزیشن کی جماعت کا ایک ایم این اے آپس میں لڑرہے تھے، اِس دوران گھٹیا ترین بدزبانی ہورہی تھی، میرا سویا ہوا ضمیر اس دوران پتہ نہیں کیسے ایک لمحے کے لیے جاگ گیا، مجھ سے برداشت نہ ہوا، میں نے فوراً چینل بدل دیا، دوسرے چینل پر نصرت فتح علی خان (مرحوم) کی ایک قوالی لگی ہوئی تھی۔ میاں محمد بخش ؒ کا کلام گایا جارہا تھا ....”سِرتے ٹوپی نیت کھوٹی کیہ لینا ٹوپی سردھرکے ” ....تسبیح پھری پردل نہ پھریا کیہ لینا تسبیح ہتھ پھڑ کے “ ....چند سیکنڈ کے لیے بھی یہ کلام مجھ سے برداشت نہ ہوا، ایک عجیب سی بے چینی میں محسوس کرتا رہا، بالآخر دل کو سکون بخشنے کے لیے میں نے دوبارہ وہی چینل لگادیا جس پر ایک وزیر اور ایک ایم این اے ایک دوسرے کو گالیاں بک رہے تھے .... میں سینیٹ کے الیکشن کی بات کررہا تھا، کہا جارہا تھا سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلا، یہ کوئی نئی بات نہیں، ہربار ہی چلتا ہے، مجھے اعتراض اپنے محترم وزیراعظم کی اس بات پر ہے وہ مسلسل کئی روز سے بہت زور دے کر کہہ رہے ہیں، خصوصاً اگلے روز سینیٹ الیکشن کے بعد قوم سے اپنے غیر ضروری خطاب میں بھی اُنہوں نے یہی فرمایا کہ ”سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا“ بندہ پوچھے آپ کو صرف سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلنے پر ہی اعتراض کیوں ہے؟۔آپ کی حکمرانی کو اِس ملک پر مسلط ہوئے اڑھائی پونے تین برس بیت چکے ، اپنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں اِس دوران ملک کا کون سا شعبہ، کون سا ادارہ ایسا ہے جہاں پیسہ نہیں چل رہا، بلکہ پہلے سے زیادہ نہیں چل رہا ؟؟؟۔ اگر باقی شعبوں میں پیسہ چلنا بند نہیں ہوا، تو صرف سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلنے پر ہی اعتراض کیوں ہے؟ہاں آپ اگر اعتراض کے بجائے یہ افسوس کرتے کہ اِس بار اپوزیشنی جماعتوں کے مقابلے میں آپ کی کچھ اے ٹی ایم مشینیں کام نہیں کرسکیں تو اس سچ پر ہمارے دلوں میں آپ کا تیزی سے گرتاہوا مقام کچھ ٹھہرسا جاتا۔ اور ہم سوچتے وزیراعظم بننے کے بعد بھی کبھی کبھار سچ بولنا آپ نہیں بھولے،.... ممکن ہے آپ کے کہنے کے مطابق سینیٹ کے الیکشن میں واقعی پیسہ چلا ہو، پر میرے خیال میں اُس سے بھی زیادہ آپ کا تکبر چلا، آپ کی وہ زبان چلی جو غیرضروری معاملات میں ضرورت سے زیادہ نہ چلتی ملک کے حالات واقعی بہتر ہوتے ....سینیٹ کے الیکشن میں ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک سینیٹائزرزبان کے لیے بھی ہونا چاہیے !! 


ای پیپر