” اب بس بھی کردو رانا فواد۔۔“
06 مارچ 2020 2020-03-06

لاہور قلندر بارے بحث ہوئی تومیرے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ رانا فواد لاہور قلندرز کے ذریعے کالا دھن سفید کر رہے ہیں، میں انہیں احمق نہیں سمجھتا وہ اچھے خاصے ہوشیار لہورئیے ہیں، جمع تفریق خوب کر لیتے ہیں اور نفعے نقصان کے کھیل کے بھی کمال کھلاڑی ہیںکہ اگرایسا نہ ہوتا تو وہ قطریوں کی تیل بیچنے والے کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر کیسے براجمان ہوتے۔ رانے عام طور پر سیانے ہوتے ہیں وہ دال کی ایسی بوری دوبارہ نہیں خریدتے جس میں گندہو اور وزن کم نکلے تو پھر یہ رانا ہر برس ایک ایسی ٹیم کیسے بنا لیتا ہے جو کچراہو اورہر مرتبہ ہی وزن میں سب سے ہلکی نکلے۔ آپ نے پوش ایریاز میں ایسی ممی ڈیڈی دکانیں دیکھی ہیں جہاں کبھی کوئی گاہک دکھائی نہیں دیتا ، سٹاف مکھیاں مارتا رہتاہے مگر وہ دکانیں برس با برس سے کھلی ہوئی ہیں ، کیوں، کیونکہ وہ مالکوں کا کہیں اور سے کمایا ہوا کالا دھن سفید کر رہی ہیں۔

رانا فواد مجھے معاف کر دیں اگر انہیں یہ بات بری لگے مگر کیا وہ ہمیں اس پر معاف کریں گے جو ہمیں بہت برا لگ رہا ہے یعنی مسلسل ہار۔ وہ سمجھائیں تو سہی کہ کیاکھیل ، کھیل رہے ہیں۔ میں نے پی ایس ایل کے کاروباری معاملات سے لاعلمی کے باعث گمان کیا کہ ہر مرتبہ انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونے والی لاہور قلندر کی ٹیم کو فرنچائز میں گھاٹا پڑ رہا ہو گا تو وہ شک بھی دوستوں نے دور کر دیا، کہا، یہ تو ٹکا کے بے عزت ہو کے بھی منافعے میں ہیں یعنی غالب کے شعر کی صورتحال ہے، ’ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام جو ہوں گے تو کیا نام ہو گا‘، ہاں، نقصان ہورہا ہے ، لاہوریوں کی عزت اور جذبات کانقصان ہے۔لاہوری مجبور ہیں کہ وہ اپنے شہر کا نام ساتھ جڑا ہونے کی وجہ سے قلندرز کو سپورٹ کریں، اس کی شرٹس پہنیں، اس کے نعرے لگائیں مگر ہر میچ کے بعد ان کے ساتھ سوشل میڈیا پر وہ ہوتا ہے جس کے وہ اپنی محبت کے جواب میں ہرگز حقدار نہیں ہیں۔آپ یقین کریں، پہلے ، دوسرے اور تیسرے پی ایس ایل میں، میں اسی دھوکے کا شکار رہا کہ رانا فواد لاہور اورکرکٹ سے بہت مخلص ہیں۔ میں ان کی آنیاں جانیاں دیکھتا تو صدقے واری ہوتامگر بعد میں جب دوسری فرنچائزز کے سربراہوں کو دیکھا کہ وہ ہار اور جیت دونوں میں کتنی متانت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو رانا صاحب ان کے مقابلے میں پورے کارٹون نظر آنے لگے۔ سستی فلموں کے سستے فنکاروں سی سستی ایکٹنگ کرتے ہوئے رانا فواد ایسے بہت ساروں کوجذباتی کر دیتے ہیں جو یہ حقیقت میں سمجھتے ہیں کہ خلیل الرحمان قمر کے ڈرامے کا دانش مر گیا ہے۔ یہاں مجھے لاہور قلندر کے شیدائی ، پی ٹی آئی کے ووٹروں جیسی بونگی اور بودی دلیل دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر ٹیم ہی پرفارم نہ کرے تو رانا فواد کیا کرے؟

کرکٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ خرابی رانا فواد میں نہیں بلکہ عاقب جاوید میں ہے تو میرا سوال ہے کہ عاقب جاوید بھی کیا ایسا ’ سلیکٹڈ‘ ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے ’سلیکٹڈ ‘کی طرح پرفارم نہیں بھی کر پا رہا تب بھی اسے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔ عاقب جاوید کا بڑا مسئلہ خود پسند اور ہٹ دھرم ہونا ہے۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ موصوف کی تیل بیچنے والے قطریوں کے ساتھ بہت ” گُوڑھی“ ہے، وہ ہمیشہ آپس میں یوں ملتے ہیں گویا بچپن کے دوست ہوں لہذا قطریوں کو جب مال بھی مل رہا ہے اور شہرت بھی ( چاہے وہ منفی ہی سہی) تو انہیں اس سے براہ راست کوئی غرض نہیں کہ لاہوریوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یار دوست کہتے ہیں کہ یہ ایک کمرشل ایکٹی ویٹی ہے۔قطریوں نے کراچی کے بعدپی ایس ایل کی دوسری مہنگی ترین فرنچائز خرید رکھی ہے لہذا دس برس کوئی کچھ نہیں کر سکتا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ صرف کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ اس میں کہیں تھوڑی بہت کرکٹ بھی ہے جس کا والی وارث پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔ میں ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں کہ کسی بھی گورنمنٹ یا پرائیویٹ سکول کا نتیجہ ایک برس صفر آئے ، دوسرے برس صفر آئے، تیسرے برس صفر آئے تو کیا اس کے ہیڈماسٹر اور ماسٹروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، بالکل ہوتی ہے، تو کیا کرکٹ بورڈ، محکمہ تعلیم سے بھی گیا گزراہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ اگر یہ محض ایک کمرشل ایکٹی ویٹی ہے اور فروخت ہوجانے کے بعد ہاتھ بندھ گئے ہیں تو یہ یقین کر لیا جائے کہ اگلے پانچ برس بھی پی ایس ایل میں لاہور قلندر کا منہ کالا ہی ہو گا؟

پتا کرنا چاہئے کہ یہ اس فرنچائز کے ذمے دار کس کے ایجنٹ ہیں، کس کے پے رول پر ہیں، اگر میںپی ایس ایل فائیو کو ہی سامنے رکھوں تو صرف کوئٹہ والے شک سے باہر نکلتے ہیں۔ یہاں جو باتیں کرکٹ کے عام شیدائیوں کو سمجھ آتی ہیں وہ رانا فواد اور عاقب جاوید کو کیوں نہیں آتیں۔ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ اس مرتبہ لاہور قلندر کا جو کپتان ہے وہ قومی کرکٹ ٹیم میں کھیل ہی نہیں رہا جبکہ اس کے نیچے ٹیم میں وہ ایسے عالمی سطح کے کپتان ہیں جنہوں نے کرکٹ کے میدانوں میں اپنی اپنی تاریخ رقم کررکھی ہے مگرسہیل اختر تو اس دفعہ کا مسئلہ ہے، لاہور قلندر تو ہمیشہ سے مسائل کا شکار ہے کہ جب پانچ ٹیمیں تھیں تو یہ پانچویں نمبر پر آتی تھی اور جب چھ ٹیمیں ہوئیں تو یہ چھٹے نمبر پر پہنچ گئی، علی ہذالقیاس، ان دو ہیروں کے پاس لاہور کی ٹھیکیداری رہی تو پی ایس ایل میں سو ٹیمیں ہوئیں تو یہ اسے سوویں نمبر پر لے آئیں گے۔ جب لاہور قلندر کے سکواڈ کو دیکھا جاتا ہے توعلم ہوتا ہے کہ وہ کچھ خاص برا نہیں ہے، تھوڑی بہت تبدیلیوں کے بعد کام چل سکتا ہے یعنی وہ گاڑی جو مرتبہ ریس میں سب سے پیچھے رہ جاتی ہے اس کا نہ ہی انجن برا ہے اور نہ ہی ٹائر تو پھر ہمیں ڈرائیور کی مہارت اور نیت بھی چیک کر لینی چاہئے۔

کیا خوب کہا ایک ماہر نے، قلندروں کے ذمہ داروں کا ٹارگٹ پی ایس ایل نہیں ہے، وہ کسی دوسرے بڑے مقصد کے لئے کھیل رہے ہیں جیسے مثبت بات کی جائے توپلئیر ڈویلپمنٹ پروگرام اور اگر حقیقی بات کی جائے تو لاہوریوں کی بے عزتی۔ حد ہو گئی کہ یسو، پنجو، ہار ، کبوتر ، ڈولی بھی تبدیل ہو کے یسو، پنجو، لاہور قلندر، کبوتر ، ڈولی ہو گیا۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ہماری ٹیم وہ ہے جس نے تمام ٹیموں کو آگے لگا رکھا ہے اوراگر پوائنٹ ٹیبل کو الٹا کر کے دیکھا جائے تو پہلے نمبر پر لاہور قلندر ہی آتی ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ ہرپریشان شخص عاشق نہیں ہوتا بلکہ وہ لاہور قلندر کا فین بھی ہو سکتا ہے۔ مجھ سے کسی نے کہا کہ لاہوریوں کا سب سے بڑا دشمن رانا فواد ہے جس نے لاہور کے زندہ دل اور محبت کرنے والے سوا کروڑ شہریوں کو مایوسی اور ذلت دی ہے تو میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ لاہور کی سب سے بڑی دشمن میڈیا ہائپ کی دیوانی سرکاری افسر عائشہ ممتاز تھی جس نے محض خبروں میں ان رہنے کے لئے لاہور سے گدھے کے گوشت کا نام جوڑ دیا۔میں رانا فواد سے اب اتنی ہی ہمدردی کر سکتا ہوں کہ اسے لاہوریوں کا سب سے بڑا نہیں بلکہ دوسرا بڑا دشمن سمجھوں جس نے لاہوریوں کو غلط راستہ بتانے کی اتنی بڑی سزا دی ہے، یوں لگتا ہے کہ اندر سے سنگسار کر کے رکھ دیا ہے۔


ای پیپر